کلکتہ: (انصاف نیوز)
کلکتہ شہر سے محض 10 کلومیٹر کی دوری پر واقع ‘جامعۃ الہدیٰ الاسلامیہ قدیم و جدید تعلیم کا ایک عظیم مرکز بن کر ابھرا ہے۔ جامعہ کے سربراہ مولانا ذکی مدنی کی قیادت میں اس ادارے نے محض دو دہائیوں میں نہ صرف ملک بھر میں شہرت حاصل کی ہے، بلکہ یہاں کے فارغین سعودی عرب کی عالمی شہرت یافتہ جامعات (مدینہ یونیورسٹی، ام القریٰ اور جدہ یونیورسٹی) میں اعلیٰ تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔ مغربی بنگال میں یہ اپنی نوعیت کا واحد ادارہ ہے جسے یہ منفرد اعزاز حاصل ہے۔
جامعہ الہدیٰ الاسلامیہ میں منعقدہ تقسیمِ انعامات کی تقریب میں طلبہ نے اردو، عربی، بنگلہ اور انگریزی زبانوں میں ایسی پرمغز تقاریر کیں کہ مجمع حیران رہ گیا۔ طلبہ انگریزی اور عربی زبان میں اس روانی اور اعتماد کے ساتھ خطاب کر رہے تھے جیسے کوئی ماہر و مشاق خطیب ہو۔
مولانا ذکی مدنی کی دور اندیشی اور حکمتِ عملی کے نتیجے میں یہاں زیرِ تعلیم طلبہ کو مغربی بنگال سیکنڈری بورڈ کا نصاب اس مہارت سے پڑھایا جاتا ہے کہ وہ آسانی سے ‘مدھیامک اور بورڈ کے امتحانات پاس کر لیتے ہیں۔ گویا یہاں کے طلبہ ایک طرف قرآن، حدیث اور فقہ کے علوم میں مہارت حاصل کر رہے ہیں، تو دوسری طرف وہ جدید عصری علوم سے بھی پوری طرح لیس ہیں۔
اس موقع پر مولانا ذکی احمد مدنی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ “جامعہ الہدیٰ الاسلامیہ کا بنیادی مقصد امت کو ایسے نوجوان فراہم کرنا ہے جو قدیم و جدید علوم سے ہم آہنگ ہو کر قوم و ملت کی تعمیر میں کلیدی کردار ادا کر سکیں۔” انہوں نے مزید کہا کہ مدارسِ اسلامیہ کے فارغین اعلیٰ اخلاقی قدروں کے حامل ہوتے ہیں؛ جب یہ نوجوان سیرتِ نبویﷺ اور قرآنی علوم سے آراستہ ہو کر معاشرے کے مختلف شعبوں میں جائیں گے تو ایک بہترین سماج کی تشکیل ممکن ہو سکے گی۔
جامعہ میں ‘فضیلت ؑتک کی تعلیم کے ساتھ ساتھ شعبہ حفظ کا نظام بھی نہایت مستحکم ہے، جہاں ہر سال درجنوں طلبہ حفظِ قرآن مکمل کرتے ہیں۔ یہاں حفظ کے طلبہ کو صرف تلاوت تک محدود نہیں رکھا جاتا بلکہ انہیں دینیات اور عصری علوم کی ابتدائی تعلیم بھی دی جاتی ہے، تاکہ حفظ کے بعد وہ مدھیامک کا امتحان دینے کے اہل ہو سکیں۔ علاوہ ازیں، یہاں ‘شاہین اکیڈمی’ کے طرز پر ‘حفظ پلس کا نظام بھی رائج ہے۔
اس وقت جامعہ میں 300 طلبہ زیرِ تعلیم ہیں، جن میں سے بیشتر کی کفالت و تربیت کی ذمہ داری خود ادارہ سنبھالے ہوئے ہے۔ تقریب میں چنئی سے تشریف لائے مہمانِ خصوصی مولانا عبدالسلام عمری مدنی نے اپنے خطاب میں کہا کہ “یہاں آنے سے قبل میرا خیال تھا کہ یہ ایک چھوٹا سا ادارہ ہوگا، مگر مولانا ذکی مدنی نے یہاں علم کا ایک عظیم گلشن آباد کر رکھا ہے۔ میں طلبہ کی حسنِ تربیت، بہتر معیارِ تعلیم اور ہاسٹل کے بہترین انتظامات سے بے حد متاثر ہوا ہوں۔”
اس پروقار تقریب میں کلکتہ کی کثیر تعداد اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والی مقتدر شخصیات نے شرکت کی۔
