Wednesday, January 21, 2026
homeاہم خبریںسنبھل فائرنگ کیس: پولیس افسران کے خلاف ایف آئی آر کا حکم...

سنبھل فائرنگ کیس: پولیس افسران کے خلاف ایف آئی آر کا حکم دینے والے جج کا تبادلہ

عید سے قبل پابندیوں کے سائے میں عدالتی فیصلہ — مسلم نوجوان کی فائرنگ میں زخمی ہونے کے معاملے نے پولیس کی جوابدہی پر سنگین سوال کھڑے کر دیے

انصاف نیوز آن لائن

اتر پردیش کے ضلع سنبھل میں 2024 کے دوران ایک مسلم شہری کو گولی مارے جانے کے معاملے میں پولیس افسران کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے کا حکم دینے والے چیف جوڈیشل مجسٹریٹ ویبھانو سدھیر کا تبادلہ کر دیا گیا ہے۔ الٰہ آباد ہائی کورٹ کی جانب سے منگل کے روز جاری کردہ تبادلوں کی فہرست میں 14 عدالتی افسران کے نام شامل ہیں، جن میں سنبھل کے سی جے ایم بھی شامل ہیں۔

ویبھانو سدھیر کو سنبھل سے ہٹا کر سلطان پور میں سول جج (سینئر ڈویژن) تعینات کیا گیا ہے، جبکہ چندوسی میں تعینات سول جج (سینئر ڈویژن) آدتیہ سنگھ کو سنبھل کا نیا چیف جوڈیشل مجسٹریٹ مقرر کیا گیا ہے۔

واضح رہے کہ ویبھانو سدھیر نے سابق سرکل آفیسر انوچ چودھری، کوتوالی انچارج انوچ تومر اور 15 سے 20 نامعلوم پولیس اہلکاروں کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے کا حکم دیا تھا۔ یہ مقدمہ نومبر 2024 میں سنبھل کی تاریخی شاہی جامع مسجد کے عدالتی حکم پر کرائے گئے سروے کے خلاف احتجاج کے دوران ایک مسلم شہری عالم کو گولی مارے جانے اور زخمی ہونے سے متعلق ہے۔

سنبھل پولیس نے اس عدالتی حکم کے خلاف ہائی کورٹ سے رجوع کرنے کا اعلان کیا تھا۔

قابلِ ذکر ہے کہ شاہی جامع مسجد کے سروے کے خلاف ہونے والے احتجاج کے بعد سنبھل میں تشدد پھوٹ پڑا تھا، جس کے نتیجے میں پانچ مسلم نوجوانوں کی جان گئی تھی۔ اس واقعے نے ریاستی پولیس کے کردار، طاقت کے مبینہ بے جا استعمال اور اقلیتی برادری کے خلاف کارروائیوں پر شدید سوالات کھڑے کر دیے تھے۔

جج ویبھانو سدھیر نے عالم کے والد یمین کی درخواست منظور کرتے ہوئے اپنے حکم میں کہا تھا کہ یہ بات واضح ہے کہ عالم کو گولی لگی، تاہم یہ جانچ ضروری ہے کہ فائرنگ کس نے کی۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا تھا کہ قتل کی کوشش جیسے سنگین جرم میں پولیس اہلکار یہ جواز پیش نہیں کر سکتے کہ وہ محض سرکاری فرائض انجام دے رہے تھے۔

عدالتی حکم میں یہ بھی درج کیا گیا تھا کہ متاثرہ شخص کے لیے اصل حملہ آور کو چھوڑ کر کسی اور پر جھوٹا الزام عائد کرنا بعید از قیاس ہے۔

عید سے قبل مذہبی سرگرمیوں پر عائد پابندیوں اور اس حساس عدالتی تبادلے نے سنبھل میں انتظامیہ کی نیت، پولیس کی جوابدہی اور اقلیتی حقوق کے تحفظ پر ایک بار پھر سنگین خدشات کو جنم دیا ہے۔

متعلقہ خبریں

تازہ ترین