Wednesday, January 21, 2026
homeدنیاپانچویں سال بھی 300 سے زائد صحافی دنیا بھر میں قید--چین، میانمار...

پانچویں سال بھی 300 سے زائد صحافی دنیا بھر میں قید–چین، میانمار اور اسرائیل سرفہرست، طویل حراست اور تشدد پر تشویش: سی پی جے رپورٹ

نیویارک / واشنگٹن:
دنیا بھر میں صحافیوں کے خلاف کریک ڈاؤن بدستور جاری ہے۔ کمیٹی ٹو پروٹیکٹ جرنلسٹس (CPJ) کی تازہ رپورٹ کے مطابق دسمبر 2025 تک 330 صحافی دنیا بھر کی جیلوں میں قید تھے، اور یوں لگاتار پانچویں سال یہ تعداد 300 سے تجاوز کر گئی ہے۔

ایسوسی ایٹڈ پریس (AP) کے مطابق، 1992 میں عالمی سطح پر صحافیوں کی قید کے اعداد و شمار جمع کرنے کے آغاز کے بعد یہ تیسری بلند ترین تعداد ہے۔ یہ تعداد 2024 کے اختتامی ریکارڈ (384 صحافی) سے قدرے کم ہے۔

چین بدستور سرفہرست

رپورٹ کے مطابق چین میں سب سے زیادہ 50 صحافی قیدہیں۔ اس کے بعد میانمار میں 30اور اسرائیل میں 29 فلسطینی صحافیوں کو حراست میں رکھا گیا ہے۔
روس 27 قید صحافیوں کے ساتھ چوتھے نمبر پر ہے، جن میں پانچ یوکرینی صحافی شامل ہیں، جبکہ بیلاروس میں 25 اور آذربائیجان میں 24 صحافی قید ہیں۔

سی پی جے کے مطابق:
یہ ریکارڈ تعداد دنیا بھر میں بڑھتی ہوئی آمریت اور مسلح تنازعات میں اضافے کی عکاس ہے۔

بغیر سزا کے قید، طویل سزائیں اور تشدد
رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ تقریباً نصف قید صحافی کسی جرم میں سزا یافتہ نہیں ہیں، بلکہ وہ طویل عرصے سے زیرِ سماعت حراست میں ہیں۔
جن صحافیوں کو سزا سنائی جا چکی ہے، ان میں سے ایک تہائی سے زیادہ پانچ سال یا اس سے زائد قید کاٹ رہے ہیں۔

سی پی جے کے مطابق:
تقریباً ایک تہائی قید صحافیوں کو بدسلوکی کا سامناکرنا پڑا
20 فیصد نے تشدد یا مارپیٹ کی شکایت کی
1992 کے بعد سے، قید صحافیوں پر تشدد کے سب سے زیادہ واقعات ایران میں ریکارڈ کیے گئے، اس کے بعد اسرائیل اور مصر کا نمبر آتا ہے۔

ایشیا بدترین متاثرہ خطہ
2025 میں ایشیا سب سے زیادہ متاثرہ خطہ رہا، جہاں 110 صحافی قید ہیں۔
چین اور میانمار کے علاوہ:
ویتنام: 16 صحافی
بنگلہ دیش: 4
بھارت: 3
فلپائن: 1

امریکہ میں بھی ایک واقعہ
رپورٹ میں امریکہ کا ایک معاملہ بھی شامل ہے، جہاں **ایل سلواڈور سے تعلق رکھنے والے صحافی ماریو گیوارا کو جون 2025 میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خلاف احتجاج کی رپورٹنگ کے دوران حراست میں لیا گیا۔ تاہم، انہیں امیگریشن اسٹیٹس کی بنیاد پر ملک بدر کر دیا گیا، اس لیے وہ دسمبر کی حتمی گنتی میں شامل نہیں تھے۔
صحافت پر دباؤ برقرار
سی پی جے کی رپورٹ اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ دنیا کے کئی ممالک میں صحافیوں کو خاموش کرانے کے لیے حراست، طویل مقدمات، سخت سزائیں اور تشدد کو بطور ہتھیار استعمال کیا جا رہا ہے، جو عالمی سطح پر **اظہارِ رائے کی آزادی کے لیے سنگین خطرہ ہے۔

متعلقہ خبریں

تازہ ترین