Saturday, January 24, 2026
homeاہم خبریںNRC، بے دخلیاں اور نفرت انگیزی: آسام میں بنگالی مسلمانوں کے خلاف...

NRC، بے دخلیاں اور نفرت انگیزی: آسام میں بنگالی مسلمانوں کے خلاف امتیاز پر اقوامِ متحدہ کی تشویش

نیویارک: ایجنسی

اقوامِ متحدہ کی نسلی امتیاز کے خاتمے سے متعلق کمیٹی (CERD) نے آسام میں بنگلہ بولنے والے مسلمانوں کے خلاف نسلی امتیاز پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ کمیٹی کے مطابق نیشنل رجسٹر آف سٹیزنز (NRC) کے عمل کے دوران اخراج، جبری بے دخلیوں، نفرت انگیز تقاریر اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے مبینہ حد سے زیادہ طاقت کے استعمال کی شکایات سامنے آئی ہیں۔

19 جنوری 2026 کو جنیوا میں اقوامِ متحدہ کے لیے بھارت کے مستقل نمائندے کے نام ارسال کردہ ایک خط میں کمیٹی نے کہا کہ اسے 12 مئی 2025 کو بھیجی گئی اپنی سابقہ خط و کتابت کے جواب میں بھارتی حکومت کی جانب سے فراہم کی گئی معلومات کی ”کمی”” پر افسوس ہے۔ اس خط میں آسام میں ”بنگالی مسلم برادری”” کو درپیش مبینہ حقوقی خلاف ورزیوں پر وضاحت طلب کی گئی تھی۔

کمیٹی نے شہریت (ترمیمی) قانون 2019 اور شہریت (ترمیمی) قواعد 2024 سے متعلق بھارت کے جواب کا نوٹس لیتے ہوئے کہا کہ حکومت کے مطابق یہ قانونی فریم ورک اہل غیر ملکیوں کو رجسٹریشن یا قدرتی شہریت کے ذریعے بھارتی شہریت کے لیے درخواست دینے سے نہیں روکتا۔ تاہم، کمیٹی نے واضح کیا کہ یہ وضاحت NRC کے اپڈیٹ کے دوران مبینہ امتیازی طریقۂ کار سے متعلق بنیادی خدشات کو دور نہیں کرتی۔

’’غیر اصل باشندے‘‘

CERD نے ان رپورٹوں پر تشویش ظاہر کی جن کے مطابق آسام کی حتمی NRC فہرست سے بنگلہ بولنے والے مسلمانوں کو غیر متناسب طور پر خارج کیا گیا۔ کمیٹی کے مطابق اس کی وجوہات میں طریقۂ کار کی بے ضابطگیاں اور انتظامی خامیاں شامل ہیں، جن میں قدیمی (لیگیسی) دستاویزات کے حصول میں مشکلات، سخت جانچ کے معیارات اور متعدد افراد کو ’’غیر اصل باشندے‘‘قرار دینا شامل ہے۔ کمیٹی نے نشاندہی کی کہ اس اصطلاح کی کوئی واضح قانونی تعریف موجود نہیں۔

کمیٹی نے NRC کی تازہ کاری کے دوران غیر ملکی ٹریبونلز کی کارروائیوں کی معطلی کی طرف بھی توجہ دلائی۔ اس کے نتیجے میں وہ افراد، جنہیں ’’مشکوک ووٹر‘‘ قرار دیا گیا تھا، اپنی حیثیت کو چیلنج نہیں کر سکے اور عملاً انہیں شہریت کے اندراج سے محروم کر دیا گیا۔

شہری حقوق کی تنظیموں کے مطابق ان اقدامات کا ”غیر مساوی بوجھ”” بنگلہ بولنے والے مسلمانوں پر پڑا، جن میں سے بڑی تعداد معاشی طور پر کمزور ہے اور جو برہم پتر ندی کے کناروں پر سیلاب اور کٹاؤ کے باعث طویل عرصے سے نقل مکانی پر مجبور رہی ہے۔

کمیٹی نے ان الزامات پر بھی تشویش ظاہر کی کہ آسام حکومت نے متعدد اضلاع میں بنگلہ بولنے والے مسلم خاندانوں کو جبری بے دخلیوں کا نشانہ بنایا، جبکہ متبادل رہائش یا مناسب معاوضہ فراہم نہیں کیا گیا۔

ریاستی حکام کی جانب سے جن کارروائیوں کو ”انسدادِ تجاوزات”” کی مہمات قرار دیا گیا، ان کے نتیجے میں گزشتہ برسوں کے دوران ہزاروں افراد بے گھر ہوئے۔ اگرچہ ان اقدامات کے لیے ماحولیاتی تحفظ یا زمین کی بازیابی کا جواز پیش کیا گیا، تاہم ”انسانی حقوق کی تنظیموں”” کا کہنا ہے کہ یہ کارروائیاں غیر متناسب طور پر مسلم برادریوں کو متاثر کرتی رہی ہیں اور بین الاقوامی انسانی حقوق کے معیارات سے ہم آہنگ نہیں ہے۔

CERD نے یہ بھی نوٹ کیا کہ بھارتی حکومت کی جانب سے ”نفرت انگیز تقاریر اور تشدد پر اکسانے””سے متعلق الزامات پر خاطر خواہ معلومات فراہم نہیں کی گئیں، بالخصوص 2024 کے قومی انتخابات کے دوران آسام میں بنگلہ بولنے والے مسلمانوں کے خلاف۔ کمیٹی نے 2024 کے وسط میں شہریوں اور منظم گروہوں کی جانب سے مبینہ پرتشدد حملوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ان واقعات سے برادری کی سلامتی اور بنیادی حقوق کو خطرہ لاحق ہوا۔

خط میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے حد سے زیادہ اور مہلک طاقت کے استعمال پر بھی تشویش ظاہر کی گئی ہے، جس کے نتیجے میں ہلاکتوں اور زخمی ہونے کے واقعات پیش آئے۔ کمیٹی کے مطابق ان معاملات میں تحقیقات، قانونی کارروائی اور احتساب سے متعلق تفصیلات ناکافی ہیں۔

نسلی امتیاز کی تمام اقسام کے خاتمے سے متعلق بین الاقوامی کنونشنکے آرٹیکل 9(1) کے تحت کمیٹی نے بھارت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ان الزامات سے نمٹنے کے لیے اٹھائے گئے اقدامات پر تفصیلی معلومات اپنی 20ویں اور 21ویں دورانیہ جاتی رپورٹس کی پیشی کے دوران فراہم کرے۔

متعلقہ خبریں

تازہ ترین