Friday, February 6, 2026
homeاہم خبریںممتا بنرجی کی سپریم کورٹ میں پیشی: قانونی ماہرین کی نظر میں...

ممتا بنرجی کی سپریم کورٹ میں پیشی: قانونی ماہرین کی نظر میں شکوک و شبہات سے ستائش تک کا سفر

کولکتہ: مغربی بنگال کی وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی کی جانب سے ووٹر لسٹوں کی ‘خصوصی گہری نظرثانی’ (SIR) کو سپریم کورٹ میں چیلنج کرنے اور ذاتی طور پر پیش ہونے کے فیصلے نے قانونی برادری میں ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ وکلاء نے سیاسی نظریات سے بالاتر ہو کر اس واقعے کی آئینی اہمیت، عدالتی آداب اور لباس سے متعلق پھیلائی گئی غلط فہمیوں پر توجہ مرکوز کی ہے۔

کلکتہ ہائی کورٹ کے ایڈووکیٹ آکاش شرما نے اس لمحے کو ”بے مثال”” قرار دیتے ہوئے کہاکہ ”ایک حاضر سروس وزیر اعلیٰ کا ذاتی طور پر سپریم کورٹ میں پیش ہونا اور دلائل دینا غیر معمولی ہے۔ یہ معاملہ ووٹر لسٹوں کے تنازع کی سیاسی حساسیت اور آئینی اہمیت کو واضح کرتا ہے۔”

شرما نے مزید کہا کہ ممتا بنرجی نے، ایک تربیت یافتہ وکیل ہونے کے ناطے، عدالتی آداب کا پورا خیال رکھا اور بولنے سے قبل چیف جسٹس اور اپنے مرکزی وکیل سے باقاعدہ اجازت طلب کی۔

سوشل میڈیا پر ہونے والی اس بحث کو کہ وزیر اعلیٰ نے وکیل کا مخصوص لباس (گاؤن اور بینڈ) کیوں نہیں پہنا، قانونی ماہرین نے تکنیکی بنیادوں پر مسترد کر دیا۔ ایڈووکیٹ سوربھ چندر نے وضاحت کی کہ”بار کونسل کے قواعد کے مطابق، گاؤن اور بینڈ صرف وہی وکلاء پہنتے ہیں جو بطور ‘کاؤنسل’ (Counsel) پیش ہوں۔ کوئی بھی شخص جو ذاتی حیثیت (Party-in-person) میں پیش ہو، اسے یہ لباس پہننے کی ضرورت نہیں ہوتی۔ لباس عہدے کے بجائے اس حیثیت کے مطابق پہنا جاتا ہے جس میں آپ عدالت کے سامنے کھڑے ہوں۔”

ایڈووکیٹ ابھشیک چکرورتی نے مزید واضح کیا کہ ممتا بنرجی نے بطور وکیل نہیں بلکہ ایک ‘لٹیگنٹ’ (فریقِ مقدمہ) کے طور پر مقدمہ لڑا۔ اگر وہ وکیل کا لباس پہنتیں، تو یہ “مفادات کے تصادم” (Conflict of Interest) کا باعث بن سکتا تھا کیونکہ وہ ایک فعال آئینی عہدے پر فائز ہیں۔

سماعت کے دوران چیف جسٹس (CJI) اور بنچ کا رویہ کافی حوصلہ افزا رہا۔ چیف جسٹس نے ممتا بنرجی کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ “عدالت کسی بھی شہری کو، خاص طور پر مقدمے کے فریق کو اپنی بات رکھنے سے نہیں روکتی۔ ہم آپ کو سننے کے لیے تیار ہیں۔”

عدالت نے واضح کیا کہ انہیں الیکشن کمیشن کے اختیارات اور ریاست کے خدشات کے درمیان ایک لکیر کھینچنی ہوگی تاکہ شہریوں کے جمہوری حقوق کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ جذبات کے بجائے ٹھوس شواہد اور ڈیٹا کی ضرورت ہے تاکہ یہ دیکھا جا سکے کہ کیا اس نظرثانی (SIR) کے عمل میں قانونی ضوابط کی خلاف ورزی ہوئی ہے۔

بنچ نے ممتا بنرجی کے شائستہ لب و لہجے اور قانونی باریکیوں کے ادراک کو مثبت انداز میں نوٹ کیا، جسے نظامِ عدل پر اعتماد کی علامت قرار دیا گیا۔

اس اقدام پر قانونی حلقوں سے ملا جلا ردعمل سامنے آیاکہ

ایڈووکیٹ دیبولینا ڈے نے اسے خواتین وکلاء کے لیے باعثِ فخر قرار دیا کہ ایک خاتون لیڈر نے عوام کی خاطر خود عدالت میں محاذ سنبھالا۔

نوجوان گریجویٹس نے اسے سیاسی طور پر ایک “حساب شدہ جوا” (Calculated Move) قرار دیا، جو قانونی کامیابی سے قطع نظر، غریب طبقے میں ان کی مقبولیت بڑھانے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔

عدالت نے الیکشن کمیشن کو نوٹس جاری کرتے ہوئے تفصیلی جواب طلب کر لیا ہے۔ اب یہ دیکھنا باقی ہے کہ کیا ‘خصوصی نظرثانی’ کا یہ عمل انتخابات سے عین قبل قانونی طور پر جائز قرار دیا جاتا ہے یا نہیں۔

متعلقہ خبریں

تازہ ترین