Tuesday, February 17, 2026
homeاہم خبریںدارجلنگ میں سنیل چھتری نامی ایک شخص کی شکایت پر 39مسلم شہریوں...

دارجلنگ میں سنیل چھتری نامی ایک شخص کی شکایت پر 39مسلم شہریوں کی شہریت کی جانچ

ضلع کلکٹر کے دفتر میں جذباتی مناظر۔۔وہ اسی مٹی میں پیدا ہوئے اور پلے بڑھے، تمام قانونی دستاویزات پیش کرنے کے باوجود سوال اٹھایا جارہا ہے۔ صرف مسلمانوں کو ہی نشانہ بنایا جارہاہے

کلکتہ: انصاف نیوز آن لائن

مغربی بنگال میں فارم 7کے ذریعہ مسلمانوں کو نشانہ بنانے کی شکایات مختلف سطح سے سامنے آرہی ہے۔گزشتہ ہفتے انصاف نیوز آن لائن نے اے پی سی آر کے سروے پر رپورٹ شائع کی تھی کہ شمالی 24پرگنہ کے سندیش کھالی اور ہوڑہ میں فرضی طریقے سے فارم 7کے ذریعہ مسلمانوں کے نام ووٹر لسٹ سے خارج کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔اب دارجلنگ میں ایک معاملہ سامنے آیا ہے کہ سنیل چھتری نامی ایک شخص کی شکایت پر ”اسپیشل انٹینسیو ریویژن’ (SIR) کے تحت انتخابی فہرستوں کی نظرثانی کے دوران مسلم کمیونٹی کے تقریباً 30 افراد کو شہریت کی تصدیق کے لیے طلب کیا گیا۔

سنیل چھتری نے الزام لگایا کہ یہ افراد بھارتی شہری نہیں ہیں، لہٰذا ان کے نام ووٹر لسٹ سے خارج کیے جائیں۔15فروری جو سماعت کی آخری دن تھا۔کے دن یہ لوگ ضلع کلکٹر کے دفتر میں پیش ہوئے۔ووٹر لسٹ کی حتمی اشاعت 28 فروری کو متوقع ہے۔ ضلع مجسٹریٹ کے دفتر میں اس دوران رقت آمیز مناظر دیکھے گئے، جہاں کئی خاندان اپنی شناخت پر سوال اٹھنے پر آبدیدہ ہو گئے۔

طلب کیے گئے افراد نے افسران کے سامنے اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ دارجلنگ کے پیدائشی شہری ہیں اور برسوں سے حقِ رائے دہی استعمال کر رہے ہیں۔
چوک بازار کے ایک رہائشی نے دہائی دیتے ہوئے کہاکہ میں یہاں پیدا ہوا، میرے باپ دادا یہیں دفن ہیں۔ میرا نام 2002 سے انتخابی فہرست میں شامل ہے، مگر آج اچانک مجھ سے میری شہریت کا ثبوت مانگا جا رہا ہے۔’

انہوں نے الزام لگایا کہ کسی نے دانستہ طور پر ووٹر لسٹ سے مسلمانوں کے نام منتخب کر کے الیکشن کمیشن میں اعتراضات داخل کیے ہیں۔ ان کا کہنا تھاکہ ءۂماری کمیونٹی کے 30 سے 35 افراد کو نوٹس ملنا محض اتفاق نہیں لگتا، یہ ہمیں نشانہ بنانے کی سوچی سمجھی کوشش ہے۔

راک ویل روڈ کی ایک خاتون جنہیں جمعہ کو نوٹس ملا تھا، سماعت کے دوران کافی دلبرداشتہ نظر آئیں۔ لرزتی آواز میں انہوں نے بتایاکہ نوٹس میں مجھے غیر ملکی قرار دیا گیا، جبکہ میرے پاس تمام دستاویزی ثبوت موجود ہیں۔ اپنی ہی سرزمین پر شناخت ثابت کرنا انتہائی تکلیف دہ عمل ہے۔

معاملے پر نظر رکھنے والے توثیق اشرف نے تصدیق کی کہ یہ تمام کارروائی سنیل چھتری کی شکایت پر شروع ہوئی ہے۔ انہوں نے انتظامیہ کی شفافیت پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ شکایت کنندہ کا نام تو بتایا گیا مگر اس کا پتہ خفیہ رکھا گیا، جس سے احتساب کا عمل مشکل ہو جاتا ہے۔

دوسری جانب، انتظامیہ کا موقف ہے کہ یہ ایک معمول کا طریقہ کار ہے۔ ایک افسر نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ اگر کسی نام پر اعتراض درج ہو تو تصدیق لازمی ہے۔ یہ قانون تمام کمیونٹیز کے لیے برابر ہے۔ درست دستاویزات کی صورت میں کسی کا نام حذف نہیں کیا جائے گا۔

مقامی مسلمانوں کے لیے یہ صرف کاغذی کارروائی نہیں بلکہ عزتِ نفس کا مسئلہ بن گیا ہے۔ ایک نوجوان، جو اپنے ضعیف والدین کے ساتھ آیا تھا نے کہا کہ دہائیوں سے ٹیکس دینے والے شہریوں کے ساتھ ”غیر ملکیوں“ جیسا سلوک کرنا ان کے اعتماد کو ٹھیس پہنچانے کے مترادف ہے۔

متعلقہ خبریں

تازہ ترین