ڈھاکہ:انصاف نیوز آن لائن
بنگلہ دیش کے منتخب وزیراعظم طارق رحمن نے منگل (17 فروری) کو اپنے عہدے کا حلف اٹھایا۔ یہ حلف برداری گزشتہ ہفتے ہونے والے پارلیمانی انتخابات میں ان کی جماعت کی تاریخی کامیابی کے بعد عمل میں آئی ہے۔ 2024 کی احتجاجی تحریک اور شیخ حسینہ کی حکومت کے خاتمے کے بعد یہ ملک کے پہلے عام انتخابات تھے، جنہیں بنگلہ دیش کے مستقبل کے سیاسی منظر نامے کے لیے انتہائی اہم قرار دیا جا رہا تھا۔
وزیراعظم طارق رحمان کی آئینی مدت پانچ برس ہوگی۔ صدرِ مملکت محمد شہاب الدین نے طارق رحمان سے عہدے کا حلف لیا۔ اس تقریب میں کابینہ کے درجنوں اراکین نے بھی حلف اٹھایا۔بھارت کی جانب سے لوک سبھا کے اسپیکر اوم برلا نے تقریبِ حلف برداری میں شرکت کی۔

بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (BNP) اور اس کے اتحادیوں نے پارلیمنٹ کی 212 نشستیں حاصل کیں، جبکہ جماعتِ اسلامی کی قیادت میں 11 جماعتی اتحاد نے 77نشستیں جیت کر اپوزیشن کا کردار سنبھالا ہے۔ واضح رہے کہ بنگلہ دیش میں 300 اراکین براہِ راست منتخب ہوتے ہیں جبکہ 50 نشستیں خواتین کے لیے مخصوص ہیں، جو جیتنے والی جماعتوں میں تناسب کے لحاظ سے تقسیم کی جاتی ہیں۔
60 سالہ طارق رحمان، جو لندن میں 17 سالہ خود ساختہ جلاوطنی گزارنے کے بعد گزشتہ دسمبر میں وطن واپس آئے تھے، نے 17 کروڑ عوام سے ملک میں جمہوریت کی بحالی اور استحکام کا وعدہ کیا ہے۔ نوبل انعام یافتہ ڈاکٹر محمد یونس کی سربراہی میں قائم عبوری حکومت نے ان انتخابات کی نگرانی کی، جنہیں بین الاقوامی مبصرین نے مجموعی طور پر پرامن اور قابلِ قبول قرار دیا ہے۔
طارق رحمان کی سیاسی حریف اور عوامی لیگ کی سربراہ شیخ حسینہ کی پارٹی پر الیکشن لڑنے پر پابندی عائد تھی۔ ڈاکٹر یونس کی انتظامیہ نے حسینہ کی جماعت کی تمام سیاسی سرگرمیوں کو معطل کر دیا تھا، جس نے ملک پر 15 سال تک بلا شرکتِ غیرے حکومت کی تھی۔
بھارت میں مقیم شیخ حسینہ نے ان انتخابات کو اپنی جماعت کے لیے غیر منصفانہ قرار دیا۔ یاد رہے کہ بنگلہ دیش کی ایک عدالت نے حسینہ کو 2024 کی تحریک کے دوران ہونے والی اموات پر انسانیت کے خلاف جرائم کے الزام میں سزائے موت سنائی ہے، جسے انہوں نے مسترد کرتے ہوئے عدالت کو ”کینگرو کورٹ” (غیر قانونی عدالت) قرار دیا ہے۔

بی این پی کے سربراہ اور ملک کے بااثر سیاسی خاندانوں میں سے ایک کے چشم و چراغ طارق رحمان نے انتخابات میں بھاری اکثریت سے کامیابی حاصل کرنے کے بعد ہفتہ کے روز اپنی وکٹری سپیچ میں کہا تھا ’یہ کامیابی بنگلہ دیش کی ہے، یہ جمہوریت کی ہے۔‘
’یہ کامیابی ان لوگوں کی ہے جو جمہوریت کے خواہاں ہیں اور اس کے لیے قربانیاں دے چکے ہیں۔‘
انہوں نے برسوں کی تلخ سیاسی کشمکش سے تقسیم شدہ ملک میں تمام جماعتوں پر زور دیا کہ وہ ’متحد رہیں۔‘
انہوں نے اپنی تقریر میں مزید کہا کہ ’ہم ایک ایسے مرحلے پر اپنا سفر شروع کر رہے ہیں جہاں ہمیں آمرانہ حکومت کی جانب سے چھوڑی گئی کمزور معیشت، کمزور آئینی و قانونی اداروں، اور بگڑتی ہوئی امن و امان کی صورتحال کا سامنا ہے۔‘
طارق رحمان کے حلف اٹھانے کے بعد ان کی کابینہ کے وزرا نے بھی اپنے عہدوں کا حلف لیا۔
’پرامن اپوزیشن‘
طارق رحمان کی کامیابی ایک حیران کن تبدیلی کی علامت ہے، کیونکہ وہ دسمبر میں 17 سالہ جلاوطنی کے بعد برطانیہ سے وطن واپس آئے تھے، اور ڈھاکہ کی سیاسی ہلچل سے دور رہے تھے۔
انتخابات میں بی این پی اتحاد نے 212 نشستیں حاصل کیں، جبکہ جماعتِ اسلامی کی قیادت میں قائم اتحاد کو 77 نشستیں ملیں۔
جماعتِ اسلامی، جس نے پارلیمنٹ میں ایک چوتھائی سے زائد نشستیں حاصل کیں، نے 32 حلقوں میں نتائج کو چیلنج کیا ہے۔
تاہم جماعت کے رہنما، 67 سالہ شفیق الرحمان نے کہا کہ جماعت اسلامی ’چوکنا، اصولی اور پرامن اپوزیشن‘ کا کردار ادا کرے گی۔
انتخابات سے قبل ہفتوں کی بے چینی کے باوجود پولنگ کا دن بڑے پیمانے پر پُرامن رہا اور اب تک ملک نے نتائج پر نسبتاً سکون کا مظاہرہ کیا ہے۔
کرائسس گروپ کے تجزیہ کار تھامس کین نے کہا کہ ’اگر بی این پی معیشت کے معاملے میں اچھی کارکردگی دکھا سکی تو باقی معاملات حکومت کے لیے آسان ہو جائیں گے۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ ’اس سے استحکام کی فضا قائم کرنے میں مدد ملے گی، تاکہ معیشت سے ہٹ کر دیگر متعدد چیلنجز سے بھی نمٹا جا سکے۔‘
