نوراللہ جاوید
اس میں کوئی شک نہیں کہ گزشتہ دو دہائیوں سے بہار کی سیاست کا محور نتیش کمار ہی رہے ہیں۔ انہوں نے اپنے پرانے رفیق لالو پرساد یادو کی عوامی مقبولیت کے مقابلے اپنی ایک منفرد شبیہ بنائی اور بی جے پی کی رفاقت کے باوجود اپنے سیکولر اور سماجوادی چہرے کو برقرار رکھا۔ یہی وجہ ہے کہ گزشتہ 20 برسوں تک بی جے پی اور جنتادل (یو) کی مشترکہ حکومت ہونے کے باوجود مسلمانوں کے لیے تحفظ کا سوال پیدا ہی نہیں ہوا۔ تاہم اپنی مقبولیت اور بہتر شبیہ کے باوجود نتیش کمار کبھی اس پوزیشن میں نہیں رہے کہ کسی بڑے اتحادی کے بغیر انتخاب لڑ سکیں۔ وہ سیاسی طور پر ہمیشہ بی جے پی یا راشٹریہ جنتادل (آر جے ڈی) کے محتاج رہے۔ یہی وجہ ہے کہ اب ان کی رخصتی اور جانشین کے انتخاب میں ان کی ذاتی پسند و ناپسند کا عمل نظر نہیں آیا۔ اب یہ سوال نہایت اہم ہو گیا ہے کہ کیا نتیش کمار کے بعد بہار کی سیاست میں جے ڈی یو کی اہمیت باقی رہے گی یا یہ پارٹی آہستہ آہستہ بی جے پی میں ضم ہو جائے گی؟ چوں کہ نتیش کمارکے بعد اقتدار کی باگ ڈور بی جے پی کے ہاتھ میں ہوگی، اس لیے یہ دیکھنا بھی ضروری ہے کہ بہار میں نتیش کمار کی پالیسیوں کا تسلسل برقرار رہتا ہے یا وہاں بھی دیگر بی جے پی مقتدر ریاستوں کا ‘ماڈل’ دہرایا جائے گا۔ ان سوالوں پر غور کرنے سے قبل یہ جاننا ضروری ہے کہ تاریخ نتیش کمار کو کس طرح یاد رکھے گی۔
نتیش کمار کا سیاسی سفر اتار چڑھاؤ سے بھرپور اور دلچسپ رہا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ ایک دور میں وہ ناکامی سے مایوس ہوکر سیاست چھوڑ کر کاروبار کرنے کا ارادہ کر چکے تھے۔ انہیں اکثر ساتھیوں کو بدلنے اور پرانے رفقاء کو کنارہ لگانے والے لیڈر کے طور پر یاد کیا جاتا ہے۔ تاہم، بہار کا ایک بڑا حلقہ انہیں ‘گورننس’ اور ترقی (Development) کے حوالے سے یادکرتا ہے کہ انہوں نے دیہی سطح پر سڑکوں کا جال بچھانے، بجلی کی فراہمی، لڑکیوں کی تعلیم (سائیکل اسکیم) اور امن و امان کی صورتحال بہتر بنانے پر خصوصی توجہ دی۔ انہوں نے بہار کو ”جنگل راج“ کے تصور سے نکال کر ”سوشاسن“ (اچھی حکمرانی) کی پٹری پر ڈالا۔ مگر سوال یہ ہے کہ 20 برس کی حکمرانی کے باوجود بہار آج بھی ملک کی کم ترین فی کس آمدنی والی ریاست کیوں ہے؟ حالیہ برسوں میں بڑے پیمانے پر اساتذہ کی بحالی تو ہوئی، مگر تعلیمی معیار مکمل طور پر منہدم ہو چکا ہے۔ اسکولوں کا کوئی معیار نہیں اور یونیورسٹیوں میں امتحانات کبھی وقت پر نہیں ہوتے۔
آج بہار کا تعلیمی نظام ”ٹیوشن مافیا ؤں“ کے قبضے میں ہے اور نوجوانوں کے پاس سرکاری ملازمت کے علاوہ کوئی دوسرا متبادل نہیں ہے۔چناں چہ پٹنہ کے کچی بستیوں میں بدترین حالت میں نوجوان غیر معیاری ٹیوشن کلاسیس کرتے ہیں۔ اس تناظر میں دیکھا جائے تو نتیش کمار کی ناکامیوں کی فہرست بھی طویل ہے۔ تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ 2005 سے 2010 کے درمیان انہوں نے جو شبیہ بنائی، وہ اسی کی بنیاد پر لگاتار انتخابات جیتتے رہے۔ انہوں نے اپنی کارکردگی سے زیادہ لالو-رابڑی دور کی ‘منفی شبیہ’ (جسے بنانے میں برہمن وادی میڈیا کا اہم کردار رہا) کو اپنے سیاسی وجود کے لیے ڈھال بنایا۔
نتیش کمار کی کامیابیوں اور ناکامیوں پر مختلف آراء ہو سکتی ہیں، مگر ان کی سیاسی ساکھ (Political Credibility) اب بحث کا موضوع نہیں رہی۔ حامی ہوں یا مخالف، سب اس بات پر متفق ہیں کہ وہ ایک ایسے وقت میں بہار کی سیاست سے رخصت ہو رہے ہیں جب ان کی ساکھ مکمل طور پر زمین بوس ہو چکی ہے۔ بار بار اتحاد بدلنے (”پلٹومار“ سیاست) کی وجہ سے ان کی نظریاتی حیثیت بری طرح متاثر ہوچکی ہے۔ بی جے پی کے ساتھ ان کے متزلزل تعلقات نے یہ تاثر پختہ کیا کہ وہ اصولوں کے بجائے اقتدار کو ترجیح دیتے ہیں۔ انہیں ہمیشہ ایک ایسے لیڈر کے طور پر یاد رکھا جائے گا جس نے اقتدار کی خاطر اس جماعت سے سمجھوتہ کیا جو ان کے بنیادی نظریات کے خلاف تھی۔ وہ ایسے وقت میں رخصت ہو رہے ہیں جب ان کی پارٹی دوسرے اور بی جے پی پہلے نمبر پر آ چکی ہے۔ سوشلزم کا آخری گڑھ کہلانے والا بہار اب اس سیاست کو دفن ہوتے دیکھ رہا ہے، جو ریاست کا سب سے بڑا نقصان ہے۔
نتیش کمار کی سیاست کا ایک بڑا ستون ‘خاندانی سیاست’ کی مخالفت رہا ہے۔ انہوں نے اسی نعرے کے ساتھ رابڑی دیوی کے خلاف محاذ آرائی کی اور کامیاب ہوئے، مگر آج اپنی پارٹی کو بچانے کے لیے انہیں اسی خاندانی سیاست کا سہارا لینا پڑرہا ہے۔ یہ واضح نہیں ہے کہ اپنے بیٹے نشانت کمار کو سیاست میں لانے کا فیصلہ ان کا اپنا ہے یا اس ‘ٹولی’ کا جس نے انہیں گزشتہ کئی برسوں سے گھیرے میں لے رکھا ہے۔ یہ امر حیران کن ہے کہ نشانت کمار خود سیاست میں آنے کے لیے تیار نہیں تھے۔ ان میں وہ کرشماتی شخصیت نظر نہیں آتی جو جے ڈی یو کے اس قلعے کو بچا سکے جس کی بنیادیں انتہائی پسماندہ ذاتوں (EBC) کے بھروسے پر کھڑی ہیں۔ 8 مارچ 2026 کو جب نشانت کو پارٹی میں شامل کیا گیا تو نعرہ لگایا گیا کہ”نشانت ہیں تو نشچنت (بے فکر) ہیں“۔ یہ نعرہ بظاہر پرکشش ہے، مگر زمینی حقائق اس سے کوسوں دور ہیں۔
بنیادی سوال یہ ہے کہ کیا نشانت کمار بہار کی نئی نسل کی قیادت، یعنی تیجسوی یادو، چراغ پاسوان اور بی جے پی کے سمراٹ چودھری کا مقابلہ کر سکیں گے؟ نشانت اب تک عملی سیاست کے بجائے روحانی دنیا میں مگن رہے ہیں۔ انہیں اچانک سیاست کے تپتے میدان میں اتار دیا گیا ہے، جبکہ تیجسوی اور چراغ کے برعکس انہوں نے کبھی عوامی سطح پر جدوجہد نہیں کی۔ نشانت نے اپنی سیاست کا آغاز مزاروں، مندروں اور گردواروں کے علامتی دوروں سے کیا ہے، لیکن بہار کی پیچیدہ ذات پات کی سیاست کو سمجھنے کے لیے یہ کافی نہیں ہے۔
دراصل جے ڈی یو کے پاس کوئی دوسرا چارہ بھی نہیں تھا، کیونکہ پارٹی کے بنیادی ووٹروں کو جوڑے رکھنے کے لیے نتیش جیسا کوئی قد آور چہرہ موجود نہیں ہے۔ اشوک چودھری اور شراون کمار جیسے لیڈران عوامی مقبولیت سے محروم ہیں۔ نتیش کی غیر موجودگی میں پارٹی ممبرانِ اسمبلی کا اتحاد خطرے میں ہے اور ان کا رجحان آر جے ڈی یا بی جے پی کی طرف ہونا ایک فطری عمل ہے۔ بی جے پی نے واضح کر دیا ہے کہ اب وہ ‘جونیئر پارٹنر’ بن کر نہیں رہے گی اور نتیش کے راجیہ سبھا جانے کے بعد اس کا راستہ صاف ہو گیا ہے۔ جے ڈی یو کی دوسری صف کی قیادت بی جے پی کے سامنے پہلے ہی فکری طور پر خود سپردگی کر چکی ہے۔
سمراٹ چودھری کے وزیر اعلیٰ بننے کے بعد بی جے پی نے واضح کردیا ہے کہ ابھی بھی وہ پسماندہ کی سیاست کے ذریعہ بہار میں اپنی سیاسی جڑ کو مضبوط کرے گی۔ بی جے پی نے سمراٹ چودھری (کشواہا لیڈر) کے ذریعے نان-یادو او بی سی ووٹوں میں نقب لگائی ہے، جبکہ تیجسوی یادو ”اے ٹو زیڈ“ سیاست کے ذریعے اپنی یادو-مسلم امیج سے باہر نکل کر پسماندہ طبقات کو راغب کر رہے ہیں۔ اگر نشانت اس طبقے کا اعتماد برقرار نہیں رکھ پاتے تو جے ڈی یو کا وجود تاش کے پتوں کی طرح بکھر سکتا ہے۔
تجزیہ نگاروں کے مطابق، نتیش کمار گزشتہ دو تین برسوں سے علیل تھے اور چند ساتھیوں کے ہاتھوں یرغمال بنے ہوئے تھے۔ بی جے پی جانتی تھی کہ انہیں ہٹانے سے ان کے حامی ناراض ہو سکتے ہیں، لہٰذا نشانت کمار کو ایک ‘بفر’ کے طور پر سامنے لایا گیا ہے تاکہ حامیوں کے غصے کو ٹھنڈا کیا جا سکے۔ اب بی جے پی کے لیے نتیش کی غیر موجودگی ایک سنہرا موقع ہے اور 2030 تک وہ بہار پر مکمل کنٹرول چاہتی ہے۔ امت شاہ کا ”مہتواکانکشی“ (امبیشس) ہونے کا مشورہ ظاہر کرتا ہے کہ مرکز اب بہار میں کسی بیساکھی کا محتاج نہیں رہنا چاہتا۔
نتیش کے خروج سے پیدا ہونے والے خلا کو پر کرنے کے لیے تیجسوی یادو سب سے مضبوط امیدوار ہیں، مگر ان کے لیے ”جنگل راج“ کا لیبل دھونا اب بھی ایک چیلنج ہے۔ دوسری طرف، پرشانت کشور کی ‘جن سوراج’ پارٹی ابھی ایک تجربہ لگ رہی ہے، لیکن اگر ووٹر بی جے پی اور آر جے ڈی دونوں سے مایوس ہوئے تو وہ ایک ”تیسرے متبادل“ کے طور پر ابھر سکتے ہیں۔ بہار کی سیاست میں ‘بیٹوں کی سیاست’ (Dynasty Politics) کوئی نئی بات نہیں، لیکن نشانت کمار کے لیے یہ سفر کٹھن ہے۔ وہ ایک ایسی پارٹی کی قیادت سنبھال رہے ہیں جو ”تھک چکی ہے“ اور جس کا سب سے بڑا ستون اب دہلی منتقل ہو چکا ہے اور بیمار بھی ہے۔
یہ کہاجاسکتا ہے کہ نہ نشانت کمارکیلئے راہ بہت ہی آسان ہے اورنہ ہی جنتادل یوکیلئے اپنا وجود باقی رکھنا آسان ہے۔ بلکہ آج بہار اب ایک ”دو قطبی“ (Bipolar) سیاست کی طرف بڑھ رہا ہے، جہاں اصل مقابلہ بی جے پی کی تنظیم اور آر جے ڈی کی سماجی طاقت کے درمیان ہوگا۔کیوں کہ چراغ پاسوان نے پہلے ہی بی جے پی کے فکر و نظریات کے سامنے خودسپردگی کردی ہے۔اوپیندر کشواہا کی پوری تگ و دو اپنے، بیوی اوربیٹے تک محدود رہ گئی ہے۔
اگر اس دو قطبی سیاست کوکوئی چیلنج کرسکتاہے وہ پرشانت کشورہیں مگرپرشانت کشورکی بڑی مجبوری یہ ہے کہ ان کے پاس کوئی ذات پات کی بنیاد نہیں ہے۔ گرچہ انہوں نے اسی کو اپنی سیاسی طاقت بنائی تھی مگر 2025میں ناکام رہے مگراس کامطلب ہرگزنہیں ہے کہ یہ ناکامی دائمی ہے۔بہار کاتعلیم یافتہ نوجوان ذات پات کی سیاست کی تنگ آچکا ہے۔اس سیاست کی وجہ سے بہار ترقی کی راہ سے بھٹک چکا ہے۔صرف چند قومی شاہراؤں کی تعمیر کا نام ترقی نہیں ہے کیوں کہ ہیومن ڈیولپمنٹ کے بغیر ترقی کا کوئی معنی ٰ نہیں ہے۔ہیومن ڈیولپمنٹ کے معاملے میں بہاربہت ہی پیچھے ہے۔یہی وہ چیز ہے جو پرشانت کمارکیلئے راستہ نکالتی ہے۔
