کلکتہ:انصاف نیوز آن لائن :
عالیہ یونیوسٹی کے طلبا کاایگ گروپ جنہوں نے سندر بن کا دورہ کرکے مختلف موضوعات پرریسرچ کرنے کے بعد رپورٹ پیش کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اگر قبل از وقت کارروائی نہیں کی گئی تو ماحولیاتی آلودگی کی وجہ سے سندر بن جو دنیا کا سب سے سمندری مینگرو ہے تباہ و برباد ہوجائے گا اور اس کی قیمت بنگال اور بنگلہ دیش ہی نہیں اس پورے خطے کو برداشت کرنا پڑے گا۔
طلبا نے اپنی تحقیق میںآب و ہوا سمیت ہر شعبے میں ہونے والی تبدیلیوں کی وجہ سے سندربن متاثر ہوا ہے۔ ماحولیاتی آلودگی کی وجہ سے سندر بن کے علاقے میں باندھ ٹوٹ رہے ہیں ، سمندر میں مدو جز،ساحل سمندر دیہاتوں میں زمین پھٹنے کے واقعات میں اضافہ ہورہاہے ، سمندر کی سطح میں اضافہ ہورہا ہے اور شدید طوفان کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے۔اس کی قیمت سندر بن کے جنگل ، مقامی افراد اور زمین کی زرخیزی متاثر ہورہی ہے۔
طلبا کے ایک گروپ میں سندر بن میں رائل بنگال ٹائیگرکے اچانک حملے کی وجہ سے جنگل اور کھیتوں میں کام کررہے لوگوں کی موت ہوجاتی ہے۔اس کی وجہ سے کئی نوجوان خواتین بیوہ ہوجاتی ہیں ۔ان خواتین کو کئی سطح پر مشکلات کا سامنا کرتا ہے۔ویڈیو رپورٹنگ کے ذریعہ ان خواتین کی درد ناک کہانی پیش کی گئی ہے۔
طلبا اس گروپ نے مطالعہ- 3-4 نومبر 2025، سندربن (علاقے جیسے جھرکالی، کیکھلی) پر مبنی فیلڈ مشاہدات پرمبنی ہے۔اس مطالعے میں آب و ہوا کے مسائل جیسے کہ پشتوں کو نقصان، تیز سمندری بہاو¿ اور دیگر دیہات بھی سمندری شگافوں کا مشاہدہ کرتے ہیں۔ ان تبدیلیوں کے پیچھے کئی عوامل ہیں جیسے سمندر کی سطح میں اضافہ، بار بار شدید طوفان، درجہ حرارت میں اضافہ وغیرہ بتایا گیا ہے۔
گزشتہ دنوں منعقد ایک تقریب میں یونیورسٹی کی تحقیقاتی ٹیم کے طلبا نے اپنے مشاہدات کو پاور پوائنٹ کے ذریعہ پیش کیا ۔اس موقع پر طلبا نے پوسٹر کے ذریعہ سندر بن کے علاقے کو درپیش مشکلات و مسائل سے آگاہ کیا گیا ہے۔آب و ہوا سے پیدا ہونے والی آفات جیسے طوفانوں اور طوفان کے اضافے کے دوران سندربن کو درپیش فوری مواصلاتی چیلنجوں پر روشنی ڈالی گئی ہے۔ جب موبائل نیٹ ورک ٹوٹ جاتے ہیں اور بجلی فیل ہو جاتی ہے، تو آفیشل ڈیجیٹل الرٹس دور دراز جزیروں کی کمیونٹیز تک وقت پر نہیں پہنچ پاتے ہیں۔طلبا نے بتایا کہ طوفان کے بعد ہونے والی تباہی کے بعد سندر بن کے علاقے میں آباد ماہی گیروں اور کسانوں کے لیے معلومات حاصل کرنا انتہائی مشکل ہوجاتا ہے۔
طلبا نے اپنی پیش کش کے ذریعہ بتایا کہ بحران پیدا ہونے کی صورت میں کمیونٹی پر مبنی مواصلاتی نظام کی مسلسل اہمیت پر زور دیتا ہے جس میں پولیس مائکنگ اور ورڈ آف ماو¿تھ میسجنگ کے ذریعہ بہتر انتطامات کئے جاسکتے ہیں ۔

سندربن، دنیا کا سب سے بڑا مینگروو جنگل ہے، مسلسل سمندری اثرات، دریا کے اخراج اور انسانی سرگرمیوں کی وجہ سے مائیکرو پلاسٹک (MP) آلودگی سے تیزی سے متاثر ہو رہا ہے۔ تحقیقاتی رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ مینگروو کی جڑوں سے جڑے مصنوعی فائبر نما مائکرو پلاسٹک کی موجودگی کا انکشاف ہوا ہے ۔جو سندربن کو شدید نقصان پہنچارہے ہیں اس کی وجہ سے سندربن کے جنگلوں کے درخت کی جڑوں کو آکسیجن کی سپلائی کم ہو سکتی ہے، غذائی اجزاءکو جذب کرنا محدود ہو سکتا ہے، اور جڑوں کی نشوونما کمزور ہو سکتی ہے، بالآخر مینگروو کی صحت اور پیداواری صلاحیت کو متاثر کر سکتا ہے۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے یونیورسٹی کے وائس چانسلر رفیق الاسلام نے کہا کہ یونیورسٹی صرف تعلیم کا مرکز نہیں ہوتا ہے ۔بلکہ یونیورسٹی کا بنیادی کام اپنی سوسائٹی کو فائدہ پہنچانا ہے۔انہوں نے کہا کہ ہماری کوشش ہے کہ ہم سوسائٹی کیلئے کچھ کام کرسکیں ۔
ڈاکٹر اوما شنکر نے مینگرووز کے ایکو سسٹم، ٹائیگر ہیبی ٹیٹ، کمیونٹی ڈیولپمنٹ، اور بلو کاربن ٹریڈنگ پر جاری منصوبوں کی تفصیلات پیش کرتے ہوئے کہا کہ مینگرووز کی کمی، دریا کنارے کٹاو¿ اور جنگلات کی تیزی سے کمی خطے کے سماجی و معاشی ڈھانچے کو شدید نقصان پہنچا رہی ہے۔امفان، آئیلا اور یاس جیسے تباہ کن طوفانوں نے خصوصاً گوسابا سمیت کئی علاقوں کو بری طرح متاثر کیا۔ایوارڈ یافتہ ماہر ڈاکٹر اوما شنکر منڈل نے خبردار کیا کہ اگر فوری اقدامات نہ کیے گئے تو 2050تک سندربن کا بڑا حصہ سمندر میں ڈوب سکتا ہے۔

آئی اے ایس افسر جی۔ ایچ۔ عبید الرحمٰن نے سندربن میں اپنے قیام کے تجربات بیان کرتے ہوئے مقامی کمیونٹیز کی غیر معمولی مزاحمت کو سراہا اور محققین کو مشورہ دیا کہ وہ فطرت سے براہِ راست سیکھیں—جیسے مینگرووز کی بقا کے طریقے اور فوٹو سنتھیسِس کے عمل۔
عربی کے محکمے کے ایک متوازی مطالعہ سے سندربن میں عربی لسانی اور ثقافتی اثر و رسوخ کے پختہ ثبوت ملے۔ اگرچہ عربی اس خطے کی مقامی نہیں ہے، لیکن تحقیق سے پتہ چلتا ہے کہ قرون وسطی کے دوران اسلامی ثقافت، تجارت اور ہجرت کے ذریعے اس کا پھیلاو¿ ہوا۔ عربی الفاظ آہستہ آہستہ مقامی بنگالی تقریر میں ضم ہو گئے ہیں، جو نہ صرف لسانی بلکہ ثقافتی اور مذہبی اثر و رسوخ کی عکاسی کرتے ہیں۔ صدیوں کے اسلامی اسکالرشپ، تجارت اور ہجرت میں جڑے ہوئے عربی الفاظ جیسے کہ حق (سچ)، محلہ (پڑوس)، ادب (آداب/ادب)، حقہ (حقیقت)، باقی (باقی)، اور باتل (جھوٹا/باطل) مقامی بنگالی بولی میں گھل مل گئے ہیں۔ محققین نے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ سندربن پر عربی کا اثر زبان سے باہر ہے، جو نسل در نسل تاریخی اور روحانی شناخت کو تشکیل دیتا ہے
طلبا کے ایک گروپ نے بتایا کہ یہاں کے مقامی لوگوں کی20فیصد آبادی شہد جمع کرنے کے پیشے سے وابستہ ہیں، جنہیں “موالی” کہا جاتا ہے۔فی الوقت شہد کی کوالٹی کے لیے HPLC اور GC-MS جیسے مہنگے آلات استعمال ہوتے ہیں، جو مقامی افراد کی دسترس سے باہر ہیں۔محض دس ہزار روپے کی لاگت سے والا پورٹیبل ملٹی موڈل سینسنگ سسٹم** تیار کیا گیا جاسکتا ہے ۔جس سے آسانی سے شہد کی جانچ ہوسکتی ہے۔
اس تقریب میں یونیورسٹی کے سینئر اساتذہ موجود تھے۔
