کلکتہ : انصاف نیوز آن لائن (نور اللہ جاوید)
سچر کمیٹی کی رپورٹ کے بعد گزشتہ 20برسوں میں مغربی بنگال کے مسلمانوں میں نمایاں تعلیمی بیداری آئی ہے۔ مسلمانوں نے تعلیم کو ایک بنیادی ضرورت سمجھتے ہوئے اپنے تعلیمی ادارے قائم کرنے کی سنجیدہ کوششیں بھی کی ہیں۔ ان برسوں کے دوران کئی تعلیمی ادارے قائم ہوئے ہیں جو ایک مثبت پیش رفت کی علامت ہیں۔
تاہم جن اداروں نے خاموشی کے ساتھ صرف تعلیم پر اپنی توجہ مرکوز کی ہے، ان میں کلکتہ شہر سے تقریباً گیارہ کلومیٹر کے فاصلے پر ہوڑہ کے منشی پاڑہ میں ”واقع الہدیٰ انٹرنیشنل اسکول“ نمایاں حیثیت رکھتا ہے۔ گزشتہ بارہ، تیرہ برسوں میں تعلیمی معیار اور اسلامی تہذیب و ثقافت کی بنیاد پر ادارے کی شہرت ریاستی حدود سے نکل کر دور دراز علاقوں تک پہنچی ہے۔
19 دسمبر سے یہاں سہ روزہ ثقافتی میلے کا انعقاد ہے، میلہ صرف طلبا کیلئے نہیں بلکہ عام لوگوں کیلئے بھی اور بڑی تعداد میں گارجین اور آس پاس کے عام لوگ بھی آرہے ہیں ۔میلے کے دوران میری ملاقات کئی ایسی خواتین سے ملاقات ہوئی جنہوں نے بتایا کہ وہ بہار سے تعلق رکھتی ہیں اور صرف الہدیٰ انٹرنیشنل اسکول میں اپنے بچوں کو تعلیم دلانے کی غرض سے اسکول کے آس پاس کرایہ پر مکان لیا ہے۔
اس سوال پر کہ آخر اسکول کی ایسی کیا خصوصیت ہے جو آپ کو بہار کے ضلع ویشالی سے یہاں آنے پر مجبور کر گئی، خاتون نے بتایا کہ معیاری تعلیم کے ساتھ جس انداز میں بچوں کی اسلامی تہذیب و ثقافت کے ماحول میں تربیت کی جاتی ہے، وہی میرے لیے سب سے زیادہ اہم ہے۔ ان کے مطابق، اگر تعلیم کے ساتھ اسلامی شناخت کی حفاظت ہو جائے تو اس سے بہتر اور کیا بات ہو سکتی ہے۔
اسی طرح ساتویں جماعت کے ایک طالب علم سے جب میں نے پوچھا کہ تم کہاں کے رہنے والے ہو تو اس نے بتایا کہ وہ ممبئی کے کاشی میرا علاقے سے تعلق رکھتا ہے۔ یہ سن کر میں چونک گیا، کیوں کہ ممبئی میں متعدد معیاری اسلامی اسکول ہیں، اس کے باوجود اگر کوئی طالب علم ہوڑہ میں تعلیم حاصل کرنے آتا ہے تو یقیناً اس کے پیچھے کوئی خاص وجہ ہوگی۔
جب میں نے اس طالب علم سے سوال کیا کہ ممبئی میں اچھے اسلامی اسکول ہونے کے باوجود تمہارے والدین نے اتنی دور یہاں کیوں بھیجا ہے، تو اس نے بتایا کہ الہدیٰ انٹرنیشنل اسکول کا ہاسٹل نظام نہایت معیاری اور منظم ہے، جو والدین کے اعتماد کا سبب بناہے۔
یہ صرف ایک یا دو مثالیں نہیں بلکہ درجنوں ایسے سرپرستوں سے ملاقات ہوئی جو محض اپنے بچوں کو الہدیٰ انٹرنیشنل اسکول میں تعلیم دلانے کی خاطر دور دراز علاقوں سے یہاں آئے ہیں۔ کلکتہ کے راجا بازار کے رہنے والے ایک سرپرست نے بتایا کہ وہ اپنے بچوں کے اصرار پر تینوں بچوں کو اسی اسکول میں تعلیم دلوا رہے ہیں۔ حالانکہ ان کا گھر اور کاروبار کلکتہ کے راجا بازار میں ہے، اس کے باوجود وہ یہاں کرایہ کے مکان میں رہتے ہیں اور ر کاروبار کیلئے وزانہ کلکتہ سے آمد و رفت کرتے ہیں—یہ سب صرف بچوں کی خواہش کی وجہ سے ہے۔


محض ایک دہائی کے عرصے میں اس قدر مقبولیت حاصل کرنا یقیناً ایک بڑی کامیابی ہے، اور اس کے پیچھے ادارے کے بانی مولانا ذکی احمد مدنی کا حسنِ تدبر اور حسنِ انتخاب نمایاں کردار ادا کرتا ہے۔ مولانا ذکی احمد مدنی نے خاموشی، خلوص اور للّٰہیت کے جذبے کے ساتھ اس ادارے کو سنوارا اور بلندی تک پہنچایا ہے۔
مختصر مدت میں یہ ادارہ آئی سی ایس ای بورڈ سے منظوری حاصل کرلی ہے اور گزشتہ پانچ برسوں میں ہر سال تقریباً پچاس سے ساٹھ طلبا دسویں جماعت کا امتحان کامیابی سے پاس کر رہے ہیں۔
الہدیٰ انٹرنیشنل اسکول کے بانی اور پرنسپل مولانا ذکی احمد مدنی نے بتایا کہ ہمارا بنیادی مقصد اسلامی تہذیب و تمدن کے سائے میں بچوں کو معیاری تعلیم فراہم کرنا ہے۔ ہمارے پیش نظر تعلیم کے نام پر کسی قسم کا کاروبار کرنا نہیں ہے۔
انہوں نے کہا کہ چونکہ ایک اسکول کو چلانے کے لیے ہر ماہ بڑی رقم درکار ہوتی ہے اور معیاری تعلیم کے لیے قابل اور باصلاحیت اساتذہ کو مناسب مشاہرہ دینا ضروری ہوتا ہے، اس لیے ہم “نہ نقصان، نہ منافع” کے فلاحی اصول کے تحت فیس لیتے ہیں۔ اس کے باوجود اگر کوئی سرپرست یہ بتاتا ہے کہ اس کے کاروبار میں نقصان ہوا ہے یا مالی حالت غیر مستحکم ہو گئی ہے، تو ہم تحقیق کے بعد انہیں ہر ممکن رعایت فراہم کرتے ہیں۔ ہمارا اصول ہے کہ تعلیمی ترقی کی راہ میں پیسہ رکاوٹ نہیں بننا چاہیے۔
مولانا ذکی احمد مدنی نے مزید بتایا کہ بڑی تعداد میں طلبہ ہاسٹل میں مقیم ہیں، جب کہ متعدد طلبہ ہوڑہ اور کلکتہ کے مختلف علاقوں سے اسکول بس کے ذریعے آتے ہیں۔ ہاسٹل میں رہنے والے طلبہ کی اسلامی ماحول میں تربیت کی جاتی ہے اور ان کی صحت کا بھی بھرپور خیال رکھا جاتا ہے۔
سہ روزہ ثقافتی میلے کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ تعلیمی ادارہ محض کتابیں پڑھانے کا نام نہیں ہوتا، بلکہ یہ ایک مکمل ادارہ ہوتا ہے جہاں سماجی اقدار اور عملی زندگی گزارنے کے طریقے بھی سکھائے جاتے ہیں۔ اسی مقصد کے تحت اس میلے میں طبی جانچ کے کیمپ لگائے گئے ہیں، جہاں این آر ایس میڈیکل کالج و اسپتال کی ٹیم تین دنوں تک خدمات انجام دے رہی ہے، اور اس کیمپ تک عام لوگوں کی رسائی بھی ممکن بنائی گئی ہے۔
اس کے علاوہ بچوں کے لیے سیر و تفریح کے انتظامات کیے گئے ہیں اور صحت سے متعلق سیمینار بھی منعقد کیے گئے ہیں، تاکہ بچوں میں بیداری پیدا کی جا سکے۔ ان سرگرمیوں کے ذریعے یہ پیغام دیا جا رہا ہے کہ ایک صحت مند سماج کے لیے فرد کا صحت مند ہونا کس قدر ضروری ہے۔
مولانا ذکی احمد مدنی نے بتایاکہ یےاں حفظ پلس کا بھی نظام ہے۔جس کے تحت ہم حفظ قرآن کے ساتھ اسکول کی بھی تعلیم دی جاتی ہے۔اس طرح کا نظام ہے کہ حفظ مکمل ہونے کے ساتھ بچے دسویں کا امتحان دینے کے قابل بن جاتے ہیں ۔انہوں نے کا اس کا فائدہ یہ ہے کہ صالح معاشرہ میں تربیت حاصل کرنے والے افراد جب مختلف شعبے میں جاتے ہیں تو نہ صرف شعبے میں بہتری آتی ہے بلکہ بدعنوانی کا خاتمہ ہوتا ہے اور جوابدہی کے احساس میں اضافہ ہوتا ہے۔
