کلکتہ : انصاف نیوز آن لائن
الہ آباد ہائی کورٹ نے بدھ کے روز2022میں انتخابی مہم کے دوران نفرت انگیز تقریر کے معاملے میں عباس انصاری کی سزا کو کا العدم قرار دیتے ہوئے ان کی اسمبلی کی رکنیت کو بحال کردیا ہے۔
جسٹس سمیر جین نے ایک خصوصی ایم پی/ایم ایل اے عدالت کے حکم کو مسترد کر دیا جس میں عباس کو دو سال کی سخت قید کی سزا سنائی گئی تھی۔
عباس انصاری مئوصدر سے سہیل دیو بھارتیہ سماج پارٹی کی نمائندگی کرتے ہیں ۔ممبر اسمبلی عباس انصاری کو ابتدائی طور پر مئی 2023 میں مئو کی خصوصی عدالت نے مجرم قرار دیا تھا۔انہیں تعزیرات ہند کی دفعہ 153-A (گروہوں کے درمیان دشمنی کو فروغ دینا)، 189 (سرکاری ملازم کو دھمکی)، 506 (مجرمانہ دھمکی) اور 171 ایف (انتخابات کے دوران غیر ضروری اثر و رسوخ) کے تحت قصوروار پایا گیا تھا، اور ان پر 2000 روپے کا جرمانہ بھی عائد کیا گیا تھا۔سزا سنائے جانے کے بعد عباس نے اپیل کورٹ سے رجوع کیا مگر اپیل کورٹ نے 5 جولائی2025 کو ان کے چیلنج کو مسترد کر دیا۔ اس کے بعد، انہوںنے الہ آباد ہائی کورٹ سے رجوع کیا، جس نے اسے سزا کو منسوخ کر کے راحت دی۔
یہ تنازعہ عباس کی 2022 کے اسمبلی انتخابی مہم کے دوران کی گئی تقریر سے پیدا ہوا، جہاں انہوں نے مبینہ طور پر حکومتی اہلکاروں کو سماج وادی پارٹی کے اقتدار میں آنے کی صورت میں نتائج کے بارے میں خبردار کیا تھا۔میں نے اکھلیش بھیا (سابق سی ایم اکھلیش یادو) سے کہا ہے کہ حکومت بننے کے بعد، چھ ماہ تک نوکرشاہوں کی کوئی ٹرانسفر یا پوسٹنگ نہیں ہوگی، سب سے پہلے وہاں حسب کتاب ہوگا، تب ہی ٹرانسفر ہوگا۔
عباس انصاری نے 2022 کے اسمبلی انتخابات میں ماؤ حلقہ سے 38,ہزار ووٹوں کے فرق سے کامیابی حاصل کی تھی۔