Friday, February 6, 2026
homeاہم خبریں’’دہشت گردی مخالف قوانین‘‘ مسلمانوں کے خلاف بطور ہتھیار استعمال:کرناٹک میں بی...

’’دہشت گردی مخالف قوانین‘‘ مسلمانوں کے خلاف بطور ہتھیار استعمال:کرناٹک میں بی جے پی دورِ حکومت میں UAPA کے غیر متناسب استعمال کا انکشاف

انصاف نیوز آن لاین
بھارت کا انسدادِ دہشت گردی قانون، غیر قانونی سرگرمیاں (روک تھام) ایکٹ (UAPA) 1967، کرناٹک میں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی حکمرانی کے دوران مسلمانوں کے خلاف ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کیا گیا۔ یہ انکشاف ایک نئی تحقیقی رپورٹ میں سامنے آیا ہے، جو ریاست میں گزشتہ بیس برسوں (2005 تا فروری 2025) کے دوران اس قانون کے استعمال کا تفصیلی تجزیہ پیش کرتی ہے۔

یہ تحقیق انسانی حقوق سے وابستہ ادارے آرٹیکل 14 کی جانب سے جمع کیے گئے اعداد و شمار پر مبنی ہے، جس کا تجزیہ لندن کی **SOAS یونیورسٹی** میں کیا گیا۔ اس مطالعے کو برٹش اکیڈمی اور لیورہلم ٹرسٹ کی مالی معاونت حاصل تھی۔

رپورٹ کے مطابق، UAPA کے منظم اور غیر متناسب استعمال نے نہ صرف قانون کی حکمرانی کو کمزور کیا بلکہ جمہوری اقدار کو نقصان پہنچایا اور سینکڑوں خاندانوں کی زندگیاں متاثر کیں۔ تحقیق کے مطابق، 2005 سے فروری 2025 کے درمیان UAPA کے تحت کرناٹک میں 95 واقعات میں مجموعی طور پر 925 افراد کو ملزم بنایا گیا، جن میں سے 783 افراد (84.6 فیصد) مسلمان تھے۔

کرناٹک میں کانگریس نے تقریباً 9.09 سال حکومت کی، جبکہ بی جے پی 10.5 برس اقتدار میں رہی۔ اس کے باوجود، UAPA کے تحت درج کیے گئے تقریباً تمام بڑے مقدمات بی جے پی کے دورِ حکومت میں سامنے آئے۔ رپورٹ کے مطابق، بی جے پی کے دور میں UAPA کا استعمال کانگریس کے مقابلے میں **5.2 گنا زیادہ** رہا۔

نیشنل کرائم ریکارڈز بیورو (NCRB) کے مطابق 2014 سے 2023 کے درمیان ملک بھر میں UAPA کے تحت17,723افراد کو 9,946مقدمات میں گرفتار کیا گیا۔ ان میں سے12,830افراد کے خلاف چارج شیٹ داخل کی گئی، مگر صرف 474 افراد (۲ڈ۶فیصد) کو سزا ہو سکی، جبکہ981 افراد بری یا رہا ہوئے۔

تحقیق میں تجزیے کی اکائی صرف ایف آئی آر نہیں بلکہ ’واقعہ‘ (incident)کو بنایا گیا، تاکہ یہ سمجھا جا سکے کہ ایک ہی واقعے کو کس طرح متعدد ایف آئی آرز اور سازشی مقدمات میں تبدیل کیا جاتا ہے۔ محققین نے 95 واقعات کا مطالعہ کیا، جن سے 1125مقدمات وجود میں آئے، کیونکہ کئی افراد پر ایک سے زائد ایف آئی آرز درج کی گئیں۔

اعداد و شمار کے مطابق1125مقدمات میں سے 37.33فیصد مقدمات ٹرائل شروع ہونے سے پہلے ہی واپس لے لیے گئے، جبکہ باقی مقدمات میں بریت کی شرح سزا کے مقابلے میں پانچ گنا زیادہ رہی۔ مجموعی طور پر 244 افراد بری ہوئے جبکہ صرف 46 کو سزا ملی۔

رپورٹ کے مطابق، کرناٹک میں ہونے والی سزاؤں میں سے 80 فیصد guilty plea** (اعترافِ جرم) کے ذریعے ہوئیں، جبکہ قومی اوسط تقریباً **40 فیصد** ہے۔ یہ صورتِ حال ثبوتوں کی کمزوری اور زیرِ حراست ملزمان پر دباؤ کی نشاندہی کرتی ہے۔

تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ دہشت گردی کی سازش کے الزامات اکثر معمولی یا مشکوک بنیادوں پر لگائے گئے، جیسے:

کسی میٹنگ میں موجودگی
کال ریکارڈ
پمفلٹ یا تحریری مواد
ایک ہی گھر یا تقریب میں شریک ہونا

مثال کے طور پر، 2008 میں بیلاگاوی میں ایک فٹ بال ٹیم کے تمام مسلمان ارکان کو اس بنیاد پر گرفتار کیا گیا کہ ایک کھلاڑی افغانستان جنگ کی ویڈیوز دیکھتا تھا۔ ایک اور کیس میں بابری مسجد انہدام کے خلاف پمفلٹ لگانے پر ایک مسلمان پر SIMI سے تعلق کا الزام لگایا گیا۔

Popular Front of India )(PFI) کے بعض عہدیداروں، جسے 2022 میں UAPA کے تحت ممنوع قرار دیا گیا، پر متعدد دہشت گرد سازشوں کے مقدمات درج کیے گئے، جنہیں آپس میں جوڑ کر طویل قید کا راستہ ہموار کیا گیا۔

UAPA کو 1967 میں ’’غیر قانونی سرگرمیوں‘‘ کے انسداد کے لیے متعارف کرایا گیا تھا، جبکہ 2004 میں دہشت گردی سے متعلق دفعات شامل کی گئیں۔ 2008 میں شامل کی گئی دفعہ 43D(5) کے تحت ضمانت تقریباً ناممکن بنا دی گئی، اور 2019 کی ترمیم کے بعد افراد کو بھی دہشت گرد قرار دیا جا سکتا ہے۔

رپورٹ اس نتیجے پر پہنچتی ہے کہ UAPA کا وسیع، مبہم اور سخت قانونی ڈھانچہ اسے گرفتاری، طویل حراست اور سماجی بائیکاٹ کے ایک مؤثر آلے میں بدل دیتا ہے، جس کا سب سے زیادہ نشانہ مسلمان کمیونٹی بنی۔

متعلقہ خبریں

تازہ ترین