Wednesday, January 7, 2026
homeاہم خبریںبنگلہ دیش: بی این پی رہنما طارق رحمان 17 سالہ جلاوطنی کے...

بنگلہ دیش: بی این پی رہنما طارق رحمان 17 سالہ جلاوطنی کے بعد وطن واپس پہنچ گئے

ڈھاکہ:

بنگلہ دیش کے طویل عرصے تک حکمران خاندان کے وارث اور ملک کی سب سے طاقتور سیاسی جماعت کے رہنما طارق رحمان 17 برس کی جلاوطنی کے بعد اہم انتخابات سے قبل وطن واپس پہنچ گئے ہیں۔

بنگلہ دیشی اخبار ڈھاکہ ٹریبون کے مطابق بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی کے قائم مقام چیئرمین طارق رحمان سلہٹ کے عثمانی ایئرپورٹ پر اتر گئے ہیں۔
پرواز جمعرات کی صبح مقامی وقت کے مطابق 9 بج کر 59 منٹ پر ایئرپورٹ پر اتری۔

لینڈنگ کے بعد طارق رحمان نے اپنے فیس بک اکاؤنٹ پر اپنی ایک تصویر شیئر کی، جس کے ساتھ کیپشن لکھا کہ ’6,314 دن بعد بنگلہ دیش کی فضاؤں میں واپس!‘
سلہٹ میں ایک گھنٹے رکنے کے بعد طارق رحمان ڈھاکہ پہنچے۔ ڈھاکہ ایئرپورٹ پر لینڈ کرنے کے بعد پارٹی رہنماؤں سے مصافحہ کیا۔
طارق رحمان اپنی اہلیہ اور بیٹی کے ہمراہ تھے۔ ڈھاکہ ایئرپورٹ سے سخت سکیورٹی میں قافلے میں نکلنے سے پہلے انہوں نے استقبال کے لیے آنے سپورٹروں کی جانب دیکھ کر ہاتھ ہلایا۔

Acting chairman of the Bangladesh Nationalist Party (BNP), Tarique Rahman (C) waves to supporters from a bus, upon his arrival in Dhaka on December 25, 2025. Aspiring prime minister and political heavyweight Rahman was welcomed back to Bangladesh on December 25 by huge crowds of joyous supporters after 17 years in self-imposed exile. (Photo by KAMRUL ISLAM RATAN / AFP)

60 سالہ طارق رحمان، جو وزیرِ اعظم بننے کے خواہاں ہیں، 2008 میں بنگلہ دیش چھوڑ کر لندن منتقل ہو گئے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ سیاسی بنیادوں پر انتقام کا نشانہ بنائے جا رہے تھے۔

اے ایف پی کے مطابق توقع کی جا رہی ہے کہ طارق رحمان اپنی علیل والدہ، 80 سالہ سابق وزیرِ اعظم خالدہ ضیا، سے پارٹی کی قیادت سنبھال لیں گے۔

طویل علالت اور قید کے باوجود خالدہ ضیا نے نومبر میں اعلان کیا تھا کہ وہ 12 فروری 2026 کو ہونے والے انتخابات میں مہم چلائیں گی، تاہم اس اعلان کے کچھ ہی عرصے بعد انہیں ہسپتال منتقل کر دیا گیا اور وہ تب سے انتہائی نگہداشت کے یونٹ میں زیرِ علاج ہیں۔

یہ انتخابات گزشتہ سال ہونے والی عوامی بغاوت کے بعد پہلے انتخابات ہوں گے، جس کے نتیجے میں شیخ حسینہ کے 15 سالہ سخت گیر اقتدار کا خاتمہ ہوا تھا۔ شیخ حسینہ کی حکومت بی این پی سے اختلافات کا شکار رہی۔

شیخ حسینہ کے اقتدار سے ہٹنے کے بعد طارق رحمان کے خلاف سب سے سنگین الزام ختم کر دیا گیا، جس میں انہیں 2004 میں شیخ حسینہ کے جلسے پر دستی بم حملے کے مقدمے میں غیر موجودگی میں عمر قید کی سزا سنائی گئی تھی۔ طارق رحمان ان الزامات کی ہمیشہ تردید کرتے رہے۔

Acting chairman of the Bangladesh Nationalist Party (BNP), Tarique Rahman (C) waves to supporters from a bus, upon his arrival in Dhaka on December 25, 2025. Aspiring prime minister and political heavyweight Rahman was welcomed back to Bangladesh on December 25 by huge crowds of joyous supporters after 17 years in self-imposed exile. (Photo by KAMRUL ISLAM RATAN / AFP)

This handout photograph from the official Facebook page of the Bangladesh Nationalist Party (BNP) Media Cell taken and released on December 25, 2025 shows acting chairman of the Bangladesh Nationalist Party (BNP), Tarique Rahman (C) waving to supporters upon his arrival in Dhaka. Aspiring prime minister and political heavyweight Tarique Rahman was welcomed back to Bangladesh on December 25 by huge crowds of supporters after his 17 years in self-imposed exile. (Photo by Bangladesh Nationalist Party (BNP) Med

طارق رحمان کو اکثر بی این پی کے بینرز پر اپنی والدہ کے ساتھ دکھایا جاتا ہے اور انہیں طویل عرصے سے قیادت کے لیے تیار کیا جاتا رہا ہے۔

جون میں انہوں نے لندن میں 85 سالہ نوبیل امن انعام یافتہ محمد یونس سے ملاقات کی، جو فروری کے انتخابات تک عبوری حکومت کی قیادت کر رہے ہیں۔
پرتشدد سیاست
بنگلہ دیش میں طارق رحمان کو طارق ضیا کے نام سے بھی جانا جاتا ہے، ایک ایسا سیاسی نام جس نے ان کی زندگی کی پہچان بنائی۔
وہ 1967 میں پیدا ہوئے، جب بنگلہ دیش مشرقی پاکستان تھا۔ 1971 کی جنگِ آزادی کے دوران وہ بطور بچہ مختصر عرصے کے لیے حراست میں لیے گئے، اور بی این پی انہیں ’کم عمر ترین جنگی قیدیوں میں سے ایک‘ قرار دیتی ہے۔ ان کے والد ضیاء الرحمٰن فوجی افسر تھے۔
1975 میں ہونے والی فوجی بغاوت کے چند ماہ بعد انہوں نے سیاسی اثر و رسوخ حاصل کیا، جس میں شیخ حسینہ کے والد اور بانی رہنما شیخ مجیب الرحمٰن کو قتل کر دیا گیا تھا۔

اس واقعے نے ضیا اور حسینہ خاندانوں کے درمیان عمر بھر کی کشیدگی کو جنم دیا، جسے ’بیگمز کی جنگ‘ کہا جاتا ہے۔
طارق رحمان جب 15 برس کے تھے تو ان کے والد ضیاء الرحمٰن کو قتل کر دیا گیا۔

بعد ازاں طارق رحمان نے اپنی والدہ کی زیرسرپرستی سیاسی ماحول میں پرورش پائی، کیونکہ خالدہ ضیا ملک کی پہلی خاتون وزیرِ اعظم بنیں اور شیخ حسینہ کے ساتھ باری باری اقتدار میں رہیں۔

متعلقہ خبریں

تازہ ترین