انصاف نیوز آن لائن
آسام میں ووٹر لسٹ کی متنازعہ “خصوصی نظرثانی” (Special Revision) نے محض ایک انتظامی عمل سے بڑھ کر سیاسی اور سماجی بحث کا رخ اختیار کر لیا ہے۔ حتمی فہرست کے اجرا کے بعد سامنے آنے والے اعداد و شمار نے جہاں الیکشن حکام کے دعوؤں کو تقویت دی ہے، وہیں اپوزیشن اور سماجی حلقوں کے خدشات کو مکمل طور پر ختم نہیں کیا۔
منگل (10 فروری 2026) کو جاری کی گئی حتمی ووٹر فہرست کے مطابق، دسمبر 2025 میں شائع شدہ ڈرافٹ فہرست کے مقابلے میں خالص کمی2. 43لاکھ (بالکل 2,43,485) ووٹرز کی درج کی گئی ہے۔ چیف الیکٹورل آفیسر (CEO) انوراگ گوئل کا کہنا ہے کہ یہ کمی غیر معمولی نہیں بلکہ بوٹھ لیول افسران (BLOs) کی گھر گھر سروے کے تخمینوں سے بڑی حد تک مطابقت رکھتی ہے۔
دعوے، اعتراضات اور متنازعہ فارم 7
اعداد و شمار کے مطابق، نظرثانی کے دوران نئے ووٹرز کے اندراج کے لیے 7.6لاکھ فارم 6 درخواستیں موصول ہوئیں، جن میں سے5 .86لاکھ منظور کی گئیں۔ دوسری جانب 12.97لاکھ فارم 7 درخواستیں جمع ہوئیں، جن کا مقصد ووٹر لسٹ سے نام حذف کرانا تھا (وفات، غیر موجودگی یا مستقل منتقلی کی بنیاد پر)۔ ان میں سے10.63لاکھ درخواستیں منظور کی گئیں 1.9لاکھ درخواستیں مسترد ہوئیں، جبکہ تقریباً 43563ابھی زیر غور ہیں۔
فارم 7 اس پوری مشق کا سب سے زیادہ متنازعہ پہلو بنا۔ کئی مقامات پر بڑی تعداد میں تھرڈ پارٹی اعتراضات دائر کیے گئے، جن پر الزام لگا کہ وہ منظم انداز میں داخل کیے گئے تھے۔ CEO نے خود تسلیم کیا کہ بعض معاملات میں درخواست گزاروں کو یہ تک معلوم نہیں تھا کہ ان کے EPIC نمبر کے خلاف اعتراض درج ہو چکا ہے۔ گوئل کے مطابق، جہاں بھی بلکی (بڑی تعداد میں) درخواستیں موصول ہوئیں، الیکشن رجسٹریشن افسران کو اختیار دیا گیا کہ وہ ان کی صداقت کی جانچ کریں اور غیر معتبر درخواستوں کو فوری طور پر مسترد کر دیں۔
آسام کے وزیر اعلیٰ ہمنتا بسوا سرما نے اس سے قبل بیان دیا تھا کہ بی جے پی کارکنوں کی شکایات کی بنیاد پر ’’لاکھوںمشکوک ووٹرز (بشمول ’’میاں‘‘ کمیونٹی سے منسوب) کے نام حذف کیے گئے ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ یہ عمل جاری رہے گا اور خصوصی شدید نظرثانی (Special Intensive Revision) کے دوران مزید نام حذف ہوں گے۔ اپوزیشن نے اسے الیکشن کمیشن کی غیر جانبداری پر حملہ قرار دیا۔
گھر گھر سروے: بنیاد یا جواز؟
الیکشن کمیشن کے مطابق، اس خصوصی نظرثانی کا بنیادی ستون BLOs کی گھر گھر تصدیقی مہم تھی۔ سروے کے دوران4 .78لاکھ سے زائد ووٹرز کو وفات کی بنیاد پر حذف کرنے کی نشاندہی کی گئی ہے،5.23لاکھ کو مستقل طور پر منتقل شدہ قرار دیا گیا، جبکہ53,619اندراجات کو ڈپلیکیٹ پایا گیا۔
اسی دوران6 .27لاکھ ایسے افراد کی نشاندہی کی گئی جو 18 برس کی عمر پوری کر چکے تھے مگر ووٹر لسٹ میں شامل نہیں تھے، اور 1.46لاکھ ممکنہ ووٹرز بھی شناخت کیے گئے۔ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ حتمی فہرست میں ہونے والی حذف و اضافہ انہی زمینی مشاہدات کے مطابق ہے، اس لیے اسے غیر معمولی قرار دینا درست نہیں۔
این آر سی کا سایہ اور خصوصی نظرثانی
آسام کی یہ خصوصی نظرثانی دیگر ریاستوں سے مختلف رہی کیونکہ یہاں نیشنل رجسٹر آف سٹیزنز (NRC) کا عمل ابھی تک مکمل نہیں ہو سکا۔ اسی پس منظر میں الیکشن کمیشن نے اسے سالانہ سمری ریویژن کا “ترمیم شدہ ورژن” قرار دیا، جس میں گھر گھر سخت جانچ شامل کی گئی۔ ناقدین کے مطابق، NRC کے ادھورے عمل اور شہریت کے حساس مسائل نے اس نظرثانی کو محض تکنیکی عمل کے بجائے شناخت اور شہریت کی سیاست سے جوڑ دیا۔
سیاست کی مداخلت
تنازع اس وقت مزید گہرا ہو گیا جب وزیر اعلیٰ ہمنتا بسوا سرما نے دعویٰ کیا کہ بی جے پی کارکنوں نے ان کی ہدایت پر بڑے پیمانے پر اعتراضات داخل کیے، جس کے نتیجے میں “لاکھوں” نام ووٹر رولز سے حذف ہوئے۔ اپوزیشن جماعتوں اور شہری تنظیموں نے اس بیان کو انتخابی عمل کی غیر جانبداری پر سوالیہ نشان قرار دیا اور کہا کہ اگر سیاسی کارکنوں نے منظم انداز میں اعتراضات داخل کیے تو شفافیت متاثر ہو سکتی ہے۔
سوالات باقی ہیں
اگرچہ الیکشن انتظامیہ اعداد و شمار کی بنیاد پر اس عمل کو معمول کی انتظامی مشق قرار دے رہی ہے، مگر کئی بنیادی سوالات ابھی بھی زیر بحث ہیں:
کیا تمام حذف شدہ ووٹرز کو مؤثر طریقے سے نوٹس اور سماعت کا موقع دیا گیا؟
کیا تھرڈ پارٹی اعتراضات کے غلط استعمال کو مکمل طور پر روکا جا سکا؟
کیا سیاسی بیانات نے انتظامی عمل کی غیر جانبداری پر اثر ڈالا؟
آسام میں 2026 کے اسمبلی انتخابات سے قبل یہ خصوصی نظرثانی محض فہرستوں کی ترتیب نہیں، بلکہ اعتماد، شفافیت اور جمہوری ساکھ کا امتحان بن چکی ہے۔ آنے والے مہینوں میں یہ واضح ہوگا کہ آیا یہ عمل انتظامی اصلاح کے طور پر یاد رکھا جائے گا یا سیاسی تنازع کے طور پر۔
