Saturday, November 29, 2025
homeاہم خبریںبنگال حکومت نے عالیہ یونیورسٹی کے فنڈ میں کٹوتی کردی۔یونیورسٹی انتظامیہ کوغیر...

بنگال حکومت نے عالیہ یونیورسٹی کے فنڈ میں کٹوتی کردی۔یونیورسٹی انتظامیہ کوغیر مستقل ملازمین، ٹھیکہ ملازمین اور دیگر ضروری اخراجات برداشت کرنے کی ہدایت

ممتا حکومت کا مسلم دشمنی آشکار۔مسلمانوں کی ترقی کیلئے قائم عالیہ یونیورسٹی کو ممتا حکومت تباہ کرنا چاہتی ہے۔

کلکتہ: انصاف نیوز آن لائن
اقلیتوں کی تعلیمی ترقی کیلئے قائم عالیہ یونیورسٹی کے فنڈ میں حکومت نے کٹوتی کرتے ہوئے یونیورسٹی انتظامیہ پر مالی بوجھ کا اضافہ کردیا ہے۔2ستمبر کو وزارت خزانہ کی جانب سے جاری نوٹی فیکشن میں کہا گیا ہے کہ یونیورسٹی کو اپنے فنڈ سے ہی ٹھیکہ ملازمین بشمول پی ٹی ٹی اور گیسٹ فیکلٹیزکی تنخواہوں کی ادائیگی کرنی ہوگی۔اس کے علاوہ سیکورٹی گارڈز، سویپرز(صفائی عملہ) اور باغبانوں کی اجرت کی ادائیگی بھی یونیورسٹی انتظامیہ کو اپنے فنڈ سے کرنی ہوگی۔فنانس اینڈ اکاؤنٹس سیکشن میں کام کرنے والے آؤٹ سورس ملازمین کی تنخواہ۔بجلی، ٹیلی فون اور انٹرنیٹ کی ادائیگی۔کار اور بس کے کرایہ کے چارجز بشمول معاون چارجز اورضروری اور ہنگامی لیب کے استعمال کی اشیاء کی خریداری یونیورسٹی اپنے فنڈ سے کرے گی۔

وزارت خزانہ اس نوٹی فیکشن سے واضح ہوتا ہے کہ حکومت صرف فیکلٹی ممبران کی تنخواہ کی ادائیگی کرے گی۔یونیورسٹی پر دباؤ بڑھانے کا مطلب ہے کہ اتنی ساری ادائیگی کیلئے یونیورسٹی طلبا کے ٹیوشن فیس میں اضافے کا امکان ہے۔عمومی طور پر یونیورسٹی کا فنڈ ریسرچ، سیمینارا ور تعلیمی سرگرمیوں کیلئے استعمال ہوتا ہے۔اب چوں کہ حکومت نے فنڈ میں کٹوتی کردی ہے اور یونیورسٹی کو اپنے فنڈ سے ہی بہت ساری ادائیگی کی ہدایت دی ہے تو اندیشہ ہے کہ تعلیمی سرگرمیاں، ریسرچ پروگرام، سیمینار اور دیگر تعلیمی پروگرام بند ہوسکتے ہیں۔

وزارت خزانہ نے یونیورسٹی کو مشورہ دیا ہے کہ ریفریشمنٹ/ٹفن کے اخراجات کو زیادہ سے زیادہ ممکنہ حد تک کم کیا جائے گا۔افسر کی کار بشمول ڈینز اور پول کار کو بھی کم سے کم استعمال کیا جانا چاہیے۔ہنگامی حالات کا استعمال کم سے کم رکھا جائے۔سالانہ منٹنس سے بچنا ہوگا۔فرنیچر، کمپیوٹر، کمپیوٹر پیری فیرلز، اور کسی دوسرے اثاثوں کی خریداری کی اجازت نہیں ہوگی۔

سچر کمیٹی کی رپورٹ کے بعد 2007میں تاریخی مدرسہ مدرسہ عالیہ کو یونیورسٹی کا درجہ دیا گیا تھا۔یونیورسٹی کے قیام کا مقصد حاشیہ پر پہنچ گئے بنگال کے مسلمانوں کی تعلیمی حالت کو بہتر کرنا تھا۔ممتابنرجی نے 2106میں ترنمول کانگریس کے انتخابی منشور میں وعدہ کیا تھا کہ عالیہ یونیورسٹی کے بنگال میں ایک سے زائد اسٹڈی سنٹر قائم کئے جائیں گے۔میڈیکل کے شعبے قائم کئے جائیں گے۔10برس گزر جانے کے باوجود حکومت اپنے وعدے کو پورا کرنے کے بجائے فنڈ میں کٹوتی کردی ہے۔ حالیہ برسوں میں یونیورسٹی کی عمارتیں بوسیدہ ہوتی جارہی ہیں۔کلاس روم کے فرش کی حالت بوسیدہ ہوچکی ہے۔

آئی ایس ایف کے سربراہ اور ممبر اسمبلی نوشاد صدیقی نے حکومت کے اس قدم کی سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کے اس قدم سے عالیہ یونیورسٹی کے معاملے میں حکومت کی تعلیم دشمن ذہنیت آشکار ہوگئی ہے۔ اس فیصلے سے عالیہ یونیورسٹی کے بارے میں حکومت کا رویہ صاف ظاہر ہوگیا ہے۔ کیا ریاستی حکومت اس یونیورسٹی کو تباہ کرنا چاہتی ہے؟ یہ غفلت اور بے حسی کیوں؟
تعلیم ایک بنیادی حق ہے جو آئین نے دیا ہے۔ یہ عیش و آرام کی چیز نہیں ہے۔ لیکن یونیورسٹی کے اخراجات کو روک کر، نئے اساتذہ کی بھرتی کو روک کر، اور تحقیقی اخراجات کو کم کرکے ریاستی حکومت عالیہ یونیورسٹی کو تباہی کے راستے پر لے جا رہی ہے۔ یونیورسٹی میں گروپ سی اور گروپ ڈی کے ملازمین کی شدید کمی ہے۔ کچھ ملازمین عارضی طور پر کام کر رہے ہیں۔ دیگر کالجوں اور یونیورسٹیوں میں عارضی ملازمین کو مستقل کر دیا گیا ہے۔ لیکن عالیہ یونیورسٹی کے معاملے میں ایسا نہیں کیا گیا۔ دفتری عملہ کی کمی کی وجہ سے عالیہ یونیورسٹی کے طلباء کو ان کی امتحانی مارک شیٹس وقت پر نہیں مل رہے ہیں۔

نوشاد صدیقی نے کہا کہ اگر یونیورسٹی کو اپنے روزمرہ کے اخراجات پورے کرنے کے لیے جدوجہد کرنا پڑتی ہے تو پھر تعلیمی انفراسٹرکچر کا کیا حال ہو گا اس کا اندازہ بآسانی کیا جا سکتا ہے۔ اس یونیورسٹی کو تباہی کے دہانے پر دھکیل کر ترنمول کانگریس کی قیادت والی حکومت مجموعی طور پر اقلیتی برادری کے جذبات کو ٹھیس پہنچا رہی ہے۔ہم ریاستی حکومت کے اس امتیازی رویے کی شدید مذمت کرتے ہیں۔ یہ فیصلہ بالواسطہ طور پر یہ پیغام دے رہا ہے کہ اقلیتوں کو تعلیم کی ضرورت نہیں ہے۔ ہم پرزور مطالبہ کرتے ہیں کہ یونیورسٹی کو تمام بقایا گرانٹس فی الفور ادا کی جائیں۔ اساتذہ کی تمام خالی آسامیاں فوری پر کی جائیں۔ یونیورسٹی کی لیبارٹری سمیت تمام انفراسٹرکچر کو بہتر کیا جائے۔ طلباء کے لیے اسکالرشپ اور ریسرچ فنڈز متعارف کرائے جائیں۔ رواں مالی سال میں محکمہ اقلیتی امور اور مدرسہ تعلیم کا بجٹ 5600 کروڑ روپے سے زیادہ ہے۔ پھر محکمہ اقلیتی امور کے تحت چلنے والے یونیورسٹی کیلئے فنڈ کیوں نہیں ہے؟ یہ اہم سوال ہے۔

متعلقہ خبریں

تازہ ترین