دی وائر میں شائع افروز عالم ساحل کے مضمون سے ماخذ
مرکزی بجٹ 2026-27 میں وزارتِ اقلیتی امور کے لیے3, 400کروڑ روپےمختص کیے جانے کا اعلان بظاہر ایک مثبت قدم دکھائی دیتا ہے۔ حکومت یہ تاثر دینے کی کوشش کررہی ہے کہ گزشتہ سال کے3, 350کروڑ روپےکے مقابلے میں یہ اضافہ اس کی فلاحی سوچ اور ’’سب کا ساتھ، سب کا وکاس‘‘کے وعدے کی توثیق ہے۔ لیکن بجٹ صرف اعلانات کا نام نہیں ہوتا، بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ اعلانات زمین پر اتررہا ہے۔
اعداد و شمار کا جائزہ بتاتا ہے کہ یہ اضافہ محض کاغذی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ وزارتِ اقلیتی امور کے بجٹ میں برسوں سے ایک مستقل نمونہ دکھائی دے رہا ہے۔یکم فروری کو بڑے اعلانات، چند ماہ بعد خاموش نظرِ ثانی، اور پھر مختص شدہ رقم کا بڑا حصہ خرچ ہی نہ ہونا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اقلیتوں کے لیے بجٹ اب فلاحی پالیسی نہیں بلکہ ایک شماریاتی دھوکہ بنتا جا رہا ہے۔
اہم سوال یہ نہیں کہ بجٹ میں 50 کروڑ روپے کا اضافہ ہواہے یا نہیں۔ بلکہ یہ ہے کہ کیا یہ رقم واقعی ان اقلیتی برادریوں تک پہنچے گی جو ملک کی تقریباً 19.3آبادی پر مشتمل ہیں؟ پچھلے برسوں کا ریکارڈ اس سوال کا جواب نفی میں دیتا ہے۔
2024-25 میں وزارتِ اقلیتی امور کے لیے اصل بجٹ3, 183کروڑ روپے تھا۔مگر نظر ثانی کے مرحلے میں اس کو گھٹاکر 1,868کروڑ کر دیا گیا، اور سال کے اختتام پر اصل خرچ صرف98.714کروڑ روپے رہا۔ اس سے ایک سال پہلے، یعنی 2023-24 میں، صورتحال اس سے بھی زیادہ سنگین تھی۔جب 3,097کروڑ روپےکے بجٹ کے مقابلے میں محض 154.17کروڑ روپے خرچ کیے گئے۔یہ اعداد و شمار کسی انتظامی ناکامی نہیں بلکہ ایک واضح پالیسی سمتکی نشاندہی کرتے ہیں۔
مودی حکومت کے دور میں اقلیتوں کے لیے مخصوص اسکیموں کا بتدریج خاتمہ ایک ناقابلِ تردید حقیقت بن چکا ہے۔ مولانا آزاد میڈیکل ایڈ اسکیم، جو غریب اقلیتی خاندانوں کے لیے علاج معالجے کا سہارا تھی، بند کر دی گئی۔ اقلیتی طالبات کے لیے شروع کی گئی بائیسکل یوجنا، جس کا مقصد لڑکیوں کی تعلیم کو فروغ دینا تھا، ختم کر دی گئی۔ مولانا آزاد ایجوکیشن فاؤنڈیشن کے کئی اہم پروگرام محدود کیے گئے اور بالآخر 2024 میں فاؤنڈیشن کو ہی باضابطہ طور پر بند کر دیا گیا۔
یہ سلسلہ یہیں نہیں رکتا۔ نئی منزل، اُستاد (USTTAD)، اقلیتی خواتین کی قیادت کی ترقی کی اسکیم، ’ہماری دھروہر‘ اور اسکل ڈیولپمنٹ سے متعلق متعدد پروگرام یا تو ختم کر دیے گئے یا عملاً غیر مؤثر بنا دیے گئے۔ یو پی ایس سی، ایس ایس سی اور ریاستی پبلک سروس کمیشن کے امتحانات کی تیاری کرنے والے اقلیتی طلبا کے لیے امدادی اسکیموں کا خاتمہ اس بات کا اعلان ہے کہ ریاست اب اس طبقے کو تعلیمی دوڑ میں پیچھے چھوڑنے کے لیے تیار ہے۔
سب سے تشویش ناک پہلو اعلیٰ تعلیم سے متعلق اسکالرشپس میں کی گئی کٹوتیاں ہیں۔ میرٹ کم مینز اسکالرشپ جو پیشہ ورانہ اور تکنیکی تعلیم حاصل کرنے والے اقلیتی طلبہ کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی تھی کو عملی طور پر ختم کر دیا گیا ہے۔ 2025-26 میں اس کے لیے7. 34 کروڑ روپے مختص تھے، جو 2026-27 میں گھٹا کر محض6کروڑ روپےکر دیے گئے۔ یاد رہے کہ 2014-15 میں اسی اسکیم کے تحت302 کروڑ روپےمختص کیے گئے تھے اور381کروڑ روپے خرچ ہوئے تھے۔ یہ فرق صرف مالی نہیں بلکہ نظریاتی ہے۔
مولانا آزاد نیشنل فیلوشپ کا انجام بھی مختلف نہیں۔ اگرچہ حکومت یہ دعویٰ کرتی رہی کہ پہلے سے منتخب طلبا کو فیلوشپ ملتی رہے گی، لیکن ادائیگیوں میں تاخیر اور فنڈز کی رکاوٹ نے اس اسکیم کو ایک خاموش تدفین میں بدل دیا ہے۔ یہ وہ فیلوشپ تھی جو اقلیتوں، خصوصاً مسلمانوں کی اعلیٰ تعلیم میں نہایت کم نمائندگی کو دور کرنے کے لیے شروع کی گئی تھی۔
مدرسہ تعلیم کے لیے بھی بجٹ میں حکومت کی بے اعتنائی صاف دکھائی دیتی ہے۔ ’ایجوکیشن اسکیم فار مدرسہ اینڈ مائنورٹیز‘ کے لیے اس سال کوئی رقم مختص نہیں کی گئی، جبکہ گزشتہ برس بھی اسے علامتی حد تک محدود رکھا گیا تھا۔
یہ تمام فیصلے ایک بنیادی سوال کو جنم دیتے ہیںکہ کیا حکومت واقعی اس نتیجے پر پہنچ چکی ہے کہ اقلیتوں کو کسی مخصوص ریاستی مدد کی ضرورت نہیں رہی، یا پھر یہ دانستہ پالیسی ہے جس کا مقصد اقلیتوں کو فلاحی ریاست کے دائرے سے باہر دھکیلنا ہے؟
یہ سوال محض بجٹ تک محدود نہیں رہتا، بلکہ ریاست کے آئینی اور اخلاقی کردار سے جڑ جاتا ہے۔ ایک ایسے وقت میں جب ملک میں اقلیتوں کے خلاف نفرت انگیز تقاریر، سماجی بائیکاٹ اور تشدد کے واقعات بڑھ رہے ہوں، ریاست کی ذمہ داری تھی کہ وہ اعتماد سازی کے اقدامات کرے۔ لیکن بجٹ 2026-27 اس کے برعکس ایک مختلف پیغام دیتا ہے۔
آخر میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ اقلیتوں کے لیے مختص بجٹ اب ترقی کا ذریعہ نہیں رہا ہے، بلکہ ایک ایسا بیانیہ بن چکا ہے جو عدم توجہی اور دستبرداری کو چھپانے کے لیے استعمال ہو رہا ہے۔ سوال یہ نہیں کہ حکومت کتنے کروڑ مختص کر رہی ہے، بلکہ یہ ہے کہ وہ کن کروڑوں کو خاموشی سے دفن کر رہی ہے۔
کلیم عاجز کا شعر آج کے منظرنامے پر پوری طرح صادق آتا ہے:
دامن پہ کوئی چھینٹ نہ خنجر پہ کوئی داغ
تم قتل کرو ہو کہ کرامات کرو ہو
(افروز عالم ساحل—صحافی و مصنف)
