انصاف نیوز آن لائن
مغربی بنگال کے قلب میں واقع وسطی کولکاتہ کا علاقہ سنٹرل ایونیو، جو دھرم تلہ اور شیام بازار جیسی مصروف شاہراہوں کو جوڑتا ہے، اپنے اندر ایک ایسی بستی سموئے ہوئے ہے جو وقت کی گرد میں گم ہو چکی ہے۔ ‘گیری بابو لین’—یہ محض ایک گلی نہیں بلکہ محرومیوں کی وہ داستان ہے جہاں کے مکینوں کو اب نہ صرف غربت بلکہ اپنی شناخت چھین لیے جانے کے خوف کا بھی سامنا ہے۔
بھوت بنگلہ’ یا انسانی بستی؟ پروپیگنڈے کی حقیقت
گزشتہ چند دنوں سے سوشل میڈیا پر بی جے پی کے مختلف ہینڈلز سے ایک مہم چلائی جا رہی ہے جس میں 28/1 گیری بابو لین کو ایک ‘مشکوک ٹھکانہ’ اور یہاں کی ایک عمارت کو ‘بھوت بنگلہ’ قرار دیا گیا ہے۔ الزامات لگائے جا رہے ہیں کہ یہاں سینکڑوں ‘بنگلہ دیشی ووٹرز’ کو غیر قانونی طور پر آباد کیا گیا ہے۔ سوشل میڈیا پر طنزیہ تبصرے کیے جا رہے ہیں کہ “بنگال میں ورچوئل ووٹرز کے لیے ورچوئل پتے بنائے گئے ہیں۔”
تاہم، انصاف نیوز آن لائن کی ٹیم نے جب اس علاقے کا زمینی دورہ کیا تو حقیقت ان دعووں کے برعکس نظر آئی۔ یہ تقریباً 24 کٹھہ زمین پر پھیلی ایک گنجان کچی بستی ہے جہاں دہائیوں سے محنت کش خاندان آباد ہیں۔
700 ووٹرز اور 50 سالہ سکونت: دستاویزات بمقابلہ الزامات
مقامی ریکارڈ کے مطابق، اس ایک پتے پر کم از کم 700 ووٹرز رجسٹرڈ ہیں۔ میڈیا کا ایک طبقہ سوال اٹھا رہا ہے کہ ایک ہی پتے پر اتنے لوگ کیسے ہو سکتے ہیں؟ لیکن بستی کی جغرافیائی حقیقت یہ ہے کہ یہاں چھوٹے چھوٹے کمروں میں 6 سے 7 افراد پر مشتمل خاندان رہتے ہیں۔
بستی کے بزرگوں کا کہنا ہے کہ:
“ہمیں ‘بھوت’ کہنا ہماری تذلیل ہے۔ ہم یہاں 1970 سے ووٹ ڈال رہے ہیں۔ ہمارے پاس جائز دستاویزات ہیں، ہم اسی مٹی کے بیٹے ہیں، پھر آج ہمیں اجنبی کیوں بنایا جا رہا ہے؟”
ایس آئی آر (SIR): حقِ رائے دہی پر شب خون
ووٹر لسٹوں کی ‘خصوصی گہری نظرثانی’ (SIR) کے نام پر اس بستی کے 111 سے زائد مسلمانوں کے نام لسٹ سے خارج کر دیے گئے ہیں۔ متاثرین کے مطابق یہ تعداد 140 سے تجاوز کر چکی ہے۔ حیرت انگیز بات یہ ہے کہ ان میں وہ بزرگ بھی شامل ہیں جن کی دوسری اور تیسری نسل کے نام تو لسٹ میں موجود ہیں، مگر خاندان کے سربراہ کا نام غائب کر دیا گیا ہے۔
ترقی سے محرومی اور شناخت کا بحران
وسطی کولکاتہ جیسے اہم تجارتی مرکز میں واقع ہونے کے باوجود گیری بابو لین کی گلیاں اتنی تنگ ہیں کہ پاؤں رکھنے کی جگہ نہیں۔ یہاں کے مکینوں کے لیے اب تک سب سے بڑا چیلنج غربت اور بنیادی سہولیات کا فقدان تھا، لیکن اب ان کے لیے اپنی شہریت ثابت کرنا زندگی اور موت کا مسئلہ بن گیا ہے۔
سماجی کارکنوں کی مدد سے یہ لوگ اب ٹربیونل کا دروازہ کھٹکھٹانے کی تیاری کر رہے ہیں، لیکن ان کا اصل کرب وہ ‘میڈیا ٹرائل’ ہے جو انہیں ان کے اپنے ہی ملک میں مشکوک بنا کر پیش کر رہا ہے۔
بڑا سوال: یہ لوگ کہاں جائیں گے؟
جب اقتدار کے ایوانوں اور سیاسی مہمات میں عام شہریوں کو ‘اعداد و شمار’ اور ‘ووٹ بینک’ کے طور پر دیکھا جانے لگے، تو جمہوریت کی بنیادیں ہلنے لگتی ہیں۔ گیری بابو لین کے ضعیف مردوں اور بے بس خواتین کی آنکھوں میں لرزتا یہ سوال آج پورے بھارتی جمہوری نظام کے سامنے کھڑا ہے: اگر ہم سے ہمارا حقِ رائے دہی اور شناخت چھین لی گئی، تو ہم کہاں جائیں گے؟”
