کلکتہ :
مغربی بنگال کی وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی کے دیرینہ معتمد اور ترنمول کانگریس کے بانی ارکان میں سے ایک، اروپ بسواس نے 13 دسمبر کو فٹ بال کے عظیم کھلاڑی لیونل میسی کے کلکتہ کے دورے کے دوران سالٹ لیک اسٹڈیم میںافرا تفری مچ گئی تھی اس کی وجہ سے وزارت سے استعفیٰ دیدیا ہے۔
تاہم اروپ بسواس وزارت میںقائم رہیں گے ۔بجلی اور ہائوسنگ کی وزارت پر قائم رہیں گے۔محکمہ کھیل سے ان کا استعفیٰ ایسے وقت میں آیا ہے جب بنگال حکومت نے اس معاملے پر یوتھ افیئر سکریٹری کو معطل کر دیا تھا۔
اپنے مسلسل انتخابی ریکارڈ کے لیے مشہور، بسواس نے اپنے سیاسی سفر کا آغاز کلکتہ کے نیو علی پور کالج میں کانگریس کے طلبہ ونگ کے ساتھ کیا تھاحالانکہ ان کے والد سی پی آئی (ایم) کے ایک سرگرم کارکن تھے۔ 1998 میں، انہوں نے کانگریس سےترنمول کانگریس میںشامل ہوگئے تھے۔
بسواس نے پہلی بار 2006 میں ٹالی گنج اسمبلی سیٹ جیتی تھی اور اس کے بعد سےہی وہ لگاتار کامیاب ہوتے جارہے ہیں ۔جنوبی کلکتہ میں ٹالی گنج وہ جگہ ہے جہاں بنگالی فلم انڈسٹری، جسے ٹالی ووڈ کے نام سے جانا جاتا ہے۔ بسواس کے بھائی سوروپ مشرقی ہندوستان کے بااثر فیڈریشن آف سنے ٹیکنیشنز اینڈ ورکرز کے صدر ہیں۔
2011 میں ٹی ایم سی کے اقتدار میں آنے کے بعد، بائیں بازو کی 34 سالہ حکومت کو ختم کرنے کے بعد، اروپ کو کابینہ میں نوجوانوں اور ہاؤسنگ کے وزیر مملکت کے طور پر شامل کیا گیا۔
2013 میں، مکل رائے اور مدن مترا جیسے سینئر لیڈروں کے مبینہ چٹ فنڈ گھوٹالہ میں پھنسنے کے بعد پارٹی کے اندر ان کا اثر نمایاں طور پر بڑھ گیا۔ اس کے بعد، وہ ممتا بنرجی کے قابل اعتماد معاونین میں سے ایک کے طور پر دیکھا جانے لگا۔
بسواس سروچی سنگھا سربوجنن درگا پوجا کمیٹی سے بھی وابستہ ہیں، جو ان چند پنڈلوں میں سے ایک ہے جن کا افتتاح خود وزیر اعلیٰ ہر سال کرتی ہیں۔ کلب کے پاس ایک فٹ بال ٹیم بھی ہے جو کلکتہ فٹ بال لیگ میں حصہ لیتی ہے۔
سالٹ لیک اسٹیڈیم میں افراتفری کے بعدبسواس کی زبردست تنقید ہوہی ہے۔اور سوشل میڈیا پر بھی وہ تنقیدوںکی زد میں ہے۔پارٹی میں بھی وہ لیڈروں کے نشانے پر ہیں ۔
