Sunday, January 18, 2026
homeاہم خبریںای ڈی بمقابلہ ممتا بنرجی: مداخلت نہ ہوئی تو لاقانونیت ہوگی، سپریم...

ای ڈی بمقابلہ ممتا بنرجی: مداخلت نہ ہوئی تو لاقانونیت ہوگی، سپریم کورٹ

I-PAC پر ای ڈی چھاپے کے معاملے میں سپریم کورٹ نے ممتا بنرجی اور ڈی جی پی کو نوٹس جاری کیا، ایف آئی آرز پر روک لگائی۔

نئی دہلی: انصاف نیوز آن لائن

سپریم کورٹ نے جمعرات کو مغربی بنگال کی وزیرِ اعلیٰ ممتا بنرجی، ریاست کے ڈائریکٹر جنرل آف پولیس (ڈی جی پی) راجیو کمار اور دیگر افسران کو انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) کی درخواست پر نوٹس جاری کیا ہے۔ ای ڈی نے الزام عائد کیا ہے کہ I-PAC کے دفتر اور اس کے شریک بانی پراتیک جین کی رہائش گاہ پر جاری تلاشی کے دوران ریاستی مشینری نے جان بوجھ کر رکاوٹ ڈالی۔

جسٹس پرشانت کمار مشرا اور جسٹس وپل پنچولی پر مشتمل بنچ نے ممتا بنرجی اور دیگر فریقین سے یہ بھی کہا کہ وہ ای ڈی کی اس درخواست پر جواب داخل کریں جس میں اس معاملے کی سی بی آئی جانچ کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

عدالت نے کہا کہ ای ڈی کی جانب سے دائر کی گئی عرضیاں نہایت سنگین سوالات اٹھاتی ہیں۔
بنچ نے ریمارکس دیے:

> “بادی النظر میں، یہ معاملہ مرکزی تفتیشی ایجنسیوں کے کام میں ریاستی مداخلت سے متعلق ایک سنگین مسئلے کی نشاندہی کرتا ہے۔ اگر اس کی سماعت نہ کی گئی تو ملک میں قانون کی حکمرانی کو شدید نقصان پہنچے گا۔”

عدالت نے مزید کہا کہ اگر ان سوالات کو غیر فیصلہ کن چھوڑ دیا گیا تو مختلف ریاستوں میں لاقانونیت کی صورتحال پیدا ہو سکتی ہے، خاص طور پر اس تناظر میں کہ مختلف ریاستوں میں مختلف سیاسی جماعتوں کی حکومتیں ہیں۔

بنچ نے واضح کیا کہ نہ تو کسی مرکزی ایجنسی کو سیاسی جماعتوں کی انتخابی سرگرمیوں میں مداخلت کا اختیار ہے اور نہ ہی سیاسی جماعتوں کو تفتیشی ایجنسیوں کے کام میں رکاوٹ ڈالنے کا حق حاصل ہے۔

ای ڈی نے نہ صرف اس معاملے کی سی بی آئی جانچ کا مطالبہ کیا ہے بلکہ ان دستاویزات اور الیکٹرانک آلات کی واپسی بھی چاہی ہے جو مبینہ طور پر ممتا بنرجی اپنے ساتھ لے گئی تھیں۔ اس سے قبل ای ڈی نے اسی نوعیت کی درخواست کلکتہ ہائی کورٹ میں بھی دائر کی تھی، جس پر بدھ کے روز سماعت ملتوی کر دی گئی تھی۔

براہِ راست مداخلت کرتے ہوئے سپریم کورٹ نے ممتا بنرجی اور دیگر جواب دہندگان کو دو ہفتوں کے اندر اپنا جواب داخل کرنے کی ہدایت دی۔ عدالت نے یہ بھی حکم دیا کہ تلاشی سے متعلق تمام سی سی ٹی وی فوٹیج اور ڈیجیٹل اسٹوریج آلات کو محفوظ رکھا جائے، بشمول قریبی علاقوں کی ریکارڈنگ۔

عدالت نے مغربی بنگال پولیس کی جانب سے ای ڈی افسران کے خلاف درج کی گئی ایف آئی آرز پر بھی روک لگا دی۔ معاملے کی اگلی سماعت 3 فروری کو ہوگی۔

قابلِ ذکر ہے کہ گزشتہ ہفتے وزیرِ اعلیٰ ممتا بنرجی I-PAC کے دفتر اور اس کے شریک بانی کی رہائش گاہ پر اس وقت پہنچ گئی تھیں جب ای ڈی منی لانڈرنگ کے ایک معاملے میں تلاشی لے رہی تھی۔ ای ڈی کا الزام ہے کہ اس دوران کچھ دستاویزات اور الیکٹرانک آلات احاطے سے ہٹا لیے گئے۔

ممتا بنرجی کا مؤقف ہے کہ یہ مواد ان کی سیاسی جماعت ترنمول کانگریس سے متعلق تھا۔ I-PAC 2019 کے لوک سبھا انتخابات سے ترنمول کانگریس کے ساتھ وابستہ رہا ہے۔

ای ڈی کے مطابق یہ تلاشی 2020 کے ایک منی لانڈرنگ کیس سے جڑی ہے، جس میں تاجر انوپ ماجی پر کوئلے کی اسمگلنگ کے الزامات ہیں۔ ای ڈی نے کہا کہ تلاشی کے دوران مداخلت پی ایم ایل اے کے تحت اس کے اختیارات پر براہِ راست حملہ ہے اور اس سے قانون کی حکمرانی متاثر ہوئی ہے۔

دوسری جانب ترنمول کانگریس نے الزام لگایا ہے کہ I-PAC کے خلاف کارروائی کے بہانے ای ڈی، آئندہ اسمبلی انتخابات سے قبل پارٹی کی سیاسی حکمتِ عملی اور انتخابی ڈیٹا تک غیر قانونی رسائی حاصل کرنا چاہتی ہے۔

متعلقہ خبریں

تازہ ترین