Tuesday, January 13, 2026
homeاہم خبریںکلکتہ سے سلیکن ویلی تک: 20 سالہ نوجوان کی ہیکرز کو مات...

کلکتہ سے سلیکن ویلی تک: 20 سالہ نوجوان کی ہیکرز کو مات دینے کے لیے اے آئی پر بازی

این ٹول (Anytool)کی بنیادی پروڈکٹ پینیٹریشن ٹیسٹنگ کے ذریعے کمزوریوں کو اس سے پہلے بے نقاب کرتی ہے کہ حقیقی حملہ آور فائدہ اٹھائیں

ترجمہ: عبدالعزیز
20 برس کی عمر میں احمد عبد الرحمن خان وہ کچھ کر چکے ہیں جسے ان سے دگنی عمر کے بیشتر بانی ابھی سوچ ہی پاتے ہیں: انہوں نے سلیکون ویلی میں مصنوعی ذہانت (AI) پر مبنی ایک سائبر سیکورٹی کمپنی قائم کی ہے جو ہیکر کی طرح سوچتی ہے — تاکہ کمپنیوں کو مشکل طریقے سے سبق نہ سیکھنا پڑے۔

خان این ٹول (Anytool) کے شریک بانی ہیں، یہ اے آئی سیکورٹی اسٹارٹ اپ 2025ءمیں قائم ہوا اور سان فرانسسکو میں رجسٹرڈ ہے۔ کمپنی کو وائی کومبینیٹر کے انتہائی مسابقتی ونٹر 2026ءبیچ کے لئے منتخب کیا گیا، اور اس کا ماننا ہے کہ سائبر سیکورٹی کا مستقبل انسانی ٹیموں کو بڑھانے سے نہیں بلکہ ایسی مشینوں سے جیتا جائے گا جو حملہ آوروں کی چالوں کو پہلے ہی بھانپ سکیں۔ دنیا بھر سے آنے والی دسیوں ہزار درخواستوں میں سے این ٹول منتخب ہوا، اور اب تک تقریباً 10 لاکھ ڈالر کی فنڈنگ حاصل کر چکا ہے، جبکہ اس کی تخمینی ویلیوایشن تقریباً 2 کروڑ 50 لاکھ ڈالر بتائی جاتی ہے۔

این ٹول کی بنیادی پروڈکٹ پینیٹریشن ٹیسٹنگ کرتی ہے — یعنی کمپنی کی اجازت سے کیے جانے والے فرضی سائبر حملے — تاکہ اصل حملہ آوروں سے پہلے ہی کمزوریوں کو سامنے لایا جا سکے۔ خان کے مطابق فرق یہ ہے کہ ان کا سسٹم محض چیک لسٹس پر عمل نہیں کرتا؛ بلکہ حملہ آور کی طرح برتاو¿ کرتا ہے۔

”میں یہاں ہیکر ہاوس میں رہنا شروع کیا۔ یہاں اور بھی کمپنیاں بن رہی تھیں۔ اس لیے میرے اردگرد ایسے بہترین دوست تھے جو خود بھی کمپنیاں بنا رہے تھے“۔ خان نے کیلیفورنیا سے بزنس لائن کو بتایا۔ ”میرے خیال میں اگلا ہدف اس کمپنی کو تیزی سے اسکیل کرنا، جلد از جلد ریونیو کے اگلے اہداف حاصل کرنا، اور یہ سوچنا ہے کہ ہم اس کمپنی کے ذریعے مزید کون سے بڑے کام کر سکتے ہیں تاکہ دیگر اداروں کو چین اور روس جیسے ممالک کی جانب سے لاحق کمزوریوں سے محفوظ رکھا جا سکے۔“

سلیکون ویلی تک کا سفر کولکاتا سے شروع ہوا، جہاں خان نے لا مارٹینیئر فار بوائز سے اسکولنگ مکمل کی۔ ہائر سیکنڈری تعلیم کے بعد وہ کینیڈا چلے گئے، جہاں انہوں نے یونیورسٹی آف واٹرلو سے ریاضی اور کرپٹوگرافی کی تعلیم حاصل کی، جو عالمی ٹیک ٹیلنٹ کا ایک اہم مرکز ہے۔ وہاں ان کا شیڈول نہایت سخت تھا: آٹھ ماہ کی پڑھائی کے بعد انٹرن شپس، جہاں انہوں نے محض نظریات ہی نہیں بلکہ یہ بھی سیکھا کہ اسٹارٹ اپس کیسے بنتے اور کیسے اسکیل کیے جاتے ہیں۔

تکنیکی گہرائی اور اسٹارٹ اپ تجربے کے اسی امتزاج نے بالآخر انہیں امریکہ لے آیا، جہاں وہ O-1A ویزا پر آئے — جو “غیر معمولی صلاحیت” رکھنے والے افراد کے لیے مخصوص ہے۔ یہ کیٹیگری عموماً ممتاز محققین اور فنکاروں سے منسوب ہوتی ہے، مگر اب تیزی سے ان نوجوان بانیوں کے لیے بھی استعمال ہو رہی ہے جن کے خیالات عالمی سرمایہ کاری کو متوجہ کرتے ہیں۔

بیرونِ ملک ابتدائی کامیابی کے باوجود خان نے بھارت کو نظرانداز نہیں کیا۔ انہوں نے کہا، ”یقینا ایسے مواقع موجود ہیں جن کے ذریعے میں اس ملک کے لیے کچھ کرنا چاہتا ہوں جہاں میں پیدا ہوا اور رہا ہوں، اور بھارت بہت تیزی سے ترقی کر رہا ہے۔ میرا خیال ہے کہ باصلاحیت لوگ بھارت میں کام کرنے اور وہیں کچھ بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔“

خطرناک خیالات:تاہم وہ فرق کے بارے میں کھل کر بات کرتے ہیں۔ ان کے مطابق امریکہ میں سرمایہ کاروں، ریگولیٹرز اور معاشرے کے اندر خطرناک اور نڈر خیالات کی حمایت کرنے کا ادارہ جاتی حوصلہ زیادہ ہے۔ بھارت، جو ابھی ایک ترقی پذیر معیشت ہے، کو بھی اسی طرح کی تجرباتی ثقافت کو فروغ دینے کی ضرورت ہے۔

”اصل بات یہ ہے کہ کمپنی بنانے جیسے کاموں کی طرف بڑھا جائے یا اچھی ایپلیکیشنز بنانے کی کوشش کی جائے“ خان نے کہا۔ ”اے آئی کے ساتھ آپ کو کوڈنگ آئے بغیر بھی بہت سا کوڈ لکھنے اور دوبارہ لکھنے کا موقع ملتا ہے۔ اب اے آئی کے ساتھ بے پناہ مواقع ہیں، اور لوگ ابھی تک ان سے واقف نہیں ہیں۔“

وہ نوجوان بانیوں میں پائی جانے والی قلیل مدتی سوچ پر بھی تنقید کرتے ہیں۔ “بھارت میں بہت زیادہ توجہ ای کامرس اور ج±گاڑ کے ذریعے پیسہ کمانے پر ہے“ انہوں نے کہا۔ ”اگر آپ اگلے دو سال کسی چیز کو بنانے میں لگا دیں، تو تیسرے سال اس کا نتیجہ غیر معمولی حد تک بڑھے گا۔“
خان کےلئے این ٹول ایک طویل المدتی شرط ہے — صبر پر، گہری ٹیکنالوجی پر، اور اس نظریے پر کہ سائبر دنیا میں بہترین دفاع یہ ہے کہ سب سے پہلے حملہ آور کے ذہن کو سمجھا جائے۔

متعلقہ خبریں

تازہ ترین