Friday, April 4, 2025
homeاہم خبریںوقف ترمیمی بل کے خلاف آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کی...

وقف ترمیمی بل کے خلاف آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کی قیادت میں تاریخی مظاہرہ۔۔اگر بل واپس نہیں لیا گیا توملک کے تمام اطراف میں احتجاج کیا جائے گا۔

احتجاجی مظاہرے میں مختلف سیاسی اور سماجی تنظیموں کے نمائندے کی شرکت

آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کی قیادت میں آج وقف ترمیمی بل 2024 کے خلاف راجدھانی دہلی کے جنتر منتر پر بڑی تعداد میں مسلمانوں نے احتجاج کیا۔احتجاج میں متعدد مسلم تنظیموں کے سر براہان کی نے شرکت کی اور بل کو غیر آئینی اور وقف املاک کے لیے خطرہ قرار دیتے ہوئے اپنے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے بل کو واپس لینے کا مطالبہ کیا۔ اس دوران بڑی تعداد میں خواتین نے بھی شرکت کی ۔مسلم رہنماؤں کے علاوہ سکھ ،عیسائی رہنماؤں کے ساتھ اپوزیشن جماعتوں کے رہنماؤں نے بھی شرکت کی اور مسلمانوں کی آواز میں آواز ملا کر وقف بل کو واپس لینے کا مطالبہ کیا۔اس بل کو غیر آئینی اور غیر جمہوری قرار دیا۔

آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے چیئر مین مولانا خالد سیف اللہ رحمانی نے جم غفیر سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ “یہ لڑائی صرف وقف کے بارے میں نہیں ہے۔ یہ انصاف، آئین اور جبر کے خلاف مزاحمت ہے۔ انہوں نے انتباہ دیا کہ اگر بل زبردستی منظور کیا گیا تو ہم اس کے مطابق جواب دیں گے۔”

دریں اثنا جماعت اسلامی ہند کے امیر سید سعادت اللہ حسینی نے حکومت کی نیت پر سوال اٹھایا۔ اگر ہر مذہبی گروہ کو اپنی جائیدادوں کا انتظام کرنے کا حق ہے تو مسلمانوں کو کیوں نشانہ بنایا جا رہا ہے؟

مولانا کلب جواد نے بل پر سخت تنقید کی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کہتی ہے کہ یہ ترقی کا بل ہے، لیکن میں اسے سانپ کا بل کہتا ہوں، جو مسلمانوں کے لیے زہریلا اور نقصان دہ ہے۔

اے آئی ایم آئی ایم کے رکن پارلیمنٹ اسد الدین اویسی نے حکومت پر وقف املاک کو ضبط کرنے کی کوشش کرنے کا الزام لگایا۔ یہ بل وقف اراضی کے تحفظ کے لیے نہیں ہے بلکہ اسے تباہ کرنے کے لیے ہے۔ ان کی نیت خراب ہے وہ برادریوں کے درمیان تقسیم پیدا کرنا چاہتے ہیں۔

انڈین یونین مسلم لیگ جنرل سکریٹری ای ٹی محمد بشیر نے بل کے خلاف مزاحمت کا عزم کیا۔ حکومت وقف املاک پر کھلم کھلا قبضہ کر رہی ہے۔ ہم انتھک جدوجہد کریں گے اور اس ناانصافی کے خلاف متحد رہیں گے۔ کانگریس رہنما عمران مسعود نے بل کو غیر آئینی قرار دیا۔ “جمہوریت سب کی ہے، لیکن حکومت طاقت کو مرکزیت دینا اور مسلمانوں سے ان کے حقوق چھیننا چاہتی ہے۔این سی پی ایم پی فوزیہ خان نے اس بل کو جمہوریت اور مذہبی آزادی کے اصولوں کے خلاف قرار دیا ۔

بورڈ کے ترجمان قاسم رسول الیاس نے بل واپس نہ لینے کی صورت میں بڑے احتجاج کا انتباہ دیا۔ انہوں نے کہا کہ “اگر یہ بل منظور ہوتا ہے، تو کسانوں کے احتجاج کی طرح ایک تحریک ہوگی، جو تمام ریاستوں میں پھیل جائے گی۔ مظاہرین نے واضح کیا کہ جب تک بل واپس نہیں لیا جاتا وہ پیچھے نہیں ہٹیں گے۔


جمعیۃ علمائے ہند کے صدر مولانا محمود اسعد مدنی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وقف ایکٹ میں مجوزہ ترمیم آئین کے بنیادی اصولوں پر حملہ ہے۔ انہوں نے کہا، ’’یہ صرف مسلمانوں کا مسئلہ نہیں بلکہ پورے ملک کا مسئلہ ہے۔ اگر آج ہم خاموش رہے تو کل کسی بھی اقلیتی یا کمزور طبقے کے حقوق سلب کیے جا سکتے ہیں۔‘‘

مولانا مدنی نے حکومت پر الزام لگایا کہ وہ وقف جائیدادوں پر قبضے کی راہ ہموار کرنا چاہتی ہے۔ انہوں نے مزید کہا، ’’ہمارے گھروں، مسجدوں اور مدرسوں پر پہلے ہی بلڈوزر چلائے جا رہے ہیں اور اب آئین پر بھی بلڈوزر چلانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ ہمیں ہر حال میں اس ترمیم کی مخالفت کرنی ہوگی۔‘‘


اس مظاہرے میں کانگریس کے سینئر رہنما سلمان خورشید، ایم پی اسدالدین اویسی اور عمران مسعود سمیت کئی سیاسی و سماجی رہنماؤں نے شرکت کی۔ کانگریس کے رہنما عمران مسعود نے کہا، ’’یہ ملک تمام مذاہب کے ماننے والوں کا ہے لیکن آج مخصوص طبقے کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ ہم ہر ممکن طریقے سے اس ناانصافی کے خلاف لڑیں گے۔‘‘

آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے نمائندوں نے اعلان کیا کہ اگر حکومت نے اس بل کو واپس نہ لیا تو ملک گیر احتجاج کیا جائے گا۔ بورڈ کے ایک عہدیدار نے کہا، “ہم آئینی حقوق پر کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے اور اگر ہماری مانگیں پوری نہ ہوئیں تو احتجاج کا دائرہ مزید وسیع کیا جائے گا۔‘‘

دریں اثنا، بی جے پی کے رکن پارلیمنٹ اور وقف جے پی سی کے صدر جگدمبیکا پال نے اس احتجاج کو سیاسی قرار دیتے ہوئے کہا کہ حکومت وقف ایکٹ میں ترمیم کر کے غریب مسلمانوں کو فائدہ پہنچانا چاہتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’’یہ ترمیم صرف منظم وقف جائیدادوں کے بہتر انتظام کے لیے ہے لیکن کچھ لوگ اسے سیاسی رنگ دے رہے ہیں۔‘‘

متعلقہ خبریں

تازہ ترین