Friday, February 6, 2026
homeاہم خبریںڈی اے کیس میں ممتا بنرجی حکومت کو بڑا جھٹکا، سپریم کورٹ...

ڈی اے کیس میں ممتا بنرجی حکومت کو بڑا جھٹکا، سپریم کورٹ کا 25 فیصد ڈی اے فوری ادا کرنے کا حکم

نئی دہلی: انصاف نیوز آن لائن

سپریم کورٹ نے مغربی بنگال کی ممتا بنرجی کی قیادت والی حکومت کو بڑا قانونی جھٹکا دیتے ہوئے ریاستی سرکاری ملازمین کے واجب الادا ڈیئرنیس الاؤنس (ڈی اے) کا 25 فیصد فوری طور پر ادا کرنے کا حکم دیا ہے۔ عدالت نے واضح طور پر قرار دیا کہ ڈی اے کوئی خیراتی گرانٹ نہیں بلکہ سرکاری ملازمین کا قانونی اور نافذ العمل حق ہے۔

5 فروری 2026 کو جسٹس سنجے کرول اور جسٹس پرشانت کمار مشرا پر مشتمل ڈویژن بنچ نے فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ ڈی اے مہنگائی کے اثرات کو کم کرنے کے لیے دیا جاتا ہے اور یہ موجودہ تنخواہ کا لازمی جزو ہے۔ عدالت کے مطابق RoPA قواعد میں آل انڈیا کنزیومر پرائس انڈیکس (AICPI) کو شامل کیے جانے کے بعد ڈی اے کی ادائیگی ریاستی حکومت کی آئینی ذمہ داری بن چکی ہے۔

سپریم کورٹ نے 2008 سے 2019 تک کے بقایاجات کی ادائیگی کا حکم دیتے ہوئے ریاستی حکومت کو ہدایت دی کہ مالی دباؤ کا حوالہ دے کر ملازمین کے حق سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ عدالت نے بقیہ 75 فیصد بقایاجات کے تعین اور ادائیگی کے شیڈول کے لیے چار رکنی کمیٹی تشکیل دینے کا حکم دیا ہے۔

اس کمیٹی کی سربراہی سپریم کورٹ کی سابق جج جسٹس انڈو ملہوترا کریں گی۔ دیگر ارکان میں جھارکھنڈ ہائی کورٹ کے سابق چیف جسٹس تارلوک سنگھ چوہان، چھتیس گڑھ ہائی کورٹ کے سابق جج جسٹس گوتم بھادوری، اور کمپٹرولر اینڈ آڈیٹر جنرل (CAG) یا ان کی جانب سے نامزد کوئی سینئر افسر شامل ہوں گے۔

کمیٹی کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ کل بقایاجات کا تعین کرے، ادائیگی کا طریقۂ کار طے کرے اور عمل درآمد کی نگرانی کرے۔ عدالت نے واضح کیا کہ کمیٹی کی سفارشات کی بنیاد پر پہلی قسط 31 مارچ 2026 تک ادا کی جائے گی جبکہ مکمل کمپلائنس رپورٹ 15 اپریل 2026 تک سپریم کورٹ میں داخل کرانا لازمی ہوگا۔ کمیٹی کے تمام اخراجات ریاستی حکومت برداشت کرے گی۔

عدالت نے اپنے مشاہدے میں کہا کہ ڈی اے کسی اضافی فائدے کا نام نہیں بلکہ مہنگائی کے دور میں ملازمین کے معیارِ زندگی کو برقرار رکھنے کا ایک بنیادی ذریعہ ہے۔ عدالت کے مطابق قیمتوں میں اضافے سے حقیقی آمدنی کے تحفظ کے لیے ڈی اے کا تصور ہندوستانی نظام کی ایک منفرد خصوصیت ہے۔

اس فیصلے کے بعد اپوزیشن جماعتوں اور سرکاری ملازمین میں اطمینان کی لہر ہے، جبکہ ریاستی حکومت کے لیے یہ فیصلہ ایک بڑا سیاسی اور قانونی دھچکا تصور کیا جا رہا ہے۔

متعلقہ خبریں

تازہ ترین