نئی دہلی | خصوصی رپورٹ (انصاف نیوز آن لائن)
بھارت میں پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی تحویل میں ہونے والی اموات (Custodial Deaths) کے اعداد و شمار نے ایک بار پھر انسانی حقوق کی صورتحال پر سوالیہ نشان کھڑے کر دیے ہیں۔ مرکزی وزارتِ داخلہ کی جانب سے پارلیمنٹ میں پیش کیے گئے تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق، سال 2026 کے ابتدائی 74 دنوں (یکم جنوری سے 15 مارچ) کے دوران ملک بھر میں مجموعی طور پر **170 حراستی اموات** ریکارڈ کی گئی ہیں۔
نیشنل ہیومن رائٹس کمیشن (NHRC) کی جانب سے جمع کردہ ان اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ رواں سال حراستی اموات کی شرح میں گزشتہ برسوں کے مقابلے میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔
وزارتِ داخلہ کی رپورٹ کے مطابق گزشتہ چند مالی سالوں میں حراستی اموات کی صورتحال کچھ یوں رہی:اعداد و شمار کے مطابق، اس سال حراستی اموات میں پچھلے مالی سال کے مقابلے اضافہ دیکھا گیا ہے۔2025-24میں 140 کیسز ریکارڈ کیے گئے، جبکہ اس سے پہلے کے سالوں میں2023-24میں 157۔2022-2023میں 163، اور2020-21میں 176 کیسز تھے۔
موجودہ سال کے ابتدائی ڈھائی ماہ میں 170 اموات کا ہونا اس رجحان میں ایک خطرناک تیزی کی نشاندہی کرتا ہے۔
رپورٹ کے مطابق ریاستوں کے درمیان ان واقعات کی شرح میں واضح فرق دیکھا گیا ہے:
بہار: 19 اموات کے ساتھ سرِ فہرست۔
راجستھان: 18 کیسز۔
اتر پردیش: 15 کیسز۔
پنجاب، گجرات اور مہاراشٹر: ہر ریاست میں 14 کیسز۔
جنوبی ہند: تمل ناڈو (7)، تلنگانہ (5)، جبکہ کرناٹک اور کیرالہ میں 3-3 کیسز رپورٹ ہوئے۔
مشرقی و شمال مشرقی بھارت: مغربی بنگال (7)، اڑیسہ (9) اور آسام میں 5 کیسز سامنے آئے۔
خوش آئند بات یہ ہے کہ جموں و کشمیر، لداخ، میزورم اور سکم میں اس عرصے کے دوران کوئی حراستی موت رپورٹ نہیں ہوئی۔
انسانی حقوق کی مختلف رپورٹس اور ‘گلوبل ٹارچر انڈیکس 2025’ کے مطابق، حراستی تشدد کا شکار ہونے والوں میں دلت، قبائلی (آدیواسی)، مسلمان اور دیگر غریب برادریاں غیر متناسب طور پر شامل ہیں۔
اس کی بڑی وجوہات میں درج ذیل عوامل شامل ہیں:
1. غربت: رشوت دینے یا قانونی ضمانت حاصل کرنے کی سکت نہ ہونا۔
2. نظامی تعصب:مخصوص علاقوں یا برادریوں کو نشانہ بنانے والی پولیسنگ۔
3. غیر قانونی مراکز:رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ متروک عمارتوں اور نجی ہوٹلوں جیسے غیر سرکاری مراکز کو تشدد اور زبردستی اعترافِ جرم کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔
فروری 2026 میں اقوامِ متحدہ کے انسانی حقوق کے ماہرین نے بھارت میں بڑھتے ہوئے حراستی تشدد اور ماورائے عدالت ہلاکتوں (Encounters) پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ:
یہ تشدد محض اتفاقی نہیں بلکہ نظامی (Systemic) معلوم ہوتا ہے، جو کہ بین الاقوامی انسانی حقوق کے معیارات اور ‘حقِ حیات’ کی سنگین خلاف ورزی ہے
ماہرین نے حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ پولیسنگ کے طریقوں کو عالمی معیار کے مطابق بنائے اور ہر واقعے کی آزادانہ اور شفاف تحقیقات کو یقینی بنائے تاکہ قانون کی بالادستی قائم رہ سکے۔
