نئی دہلی: انصاف نیوز آن لائن
عظیم پریم جی یونیورسٹی کی جانب سے جاری کردہ تازہ ترین رپورٹ اسٹیٹ آف ورکنگ انڈیا 2026’نے بھارت میں تعلیم اور روزگار کے درمیان بڑھتی ہوئی خلیج کو بے نقاب کر دیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق، جہاں ملک میں تعلیمی داخلوں کی شرح میں ریکارڈ اضافہ ہوا ہے، وہیں گریجویٹ نوجوانوں کے لیے موزوں روزگار کا حصول ایک سنگین چیلنج بن چکا ہے۔
بے روزگاری کے ہوش ربا اعداد و شمار
رپورٹ کے مطابق، بھارت میں 15 سے 25 سال کی عمر کے گریجویٹ نوجوانوں میں بے روزگاری کی شرح تقریباً 40 فیصد تک پہنچ گئی ہے، جبکہ 25 سے 29 سال کی عمر کے گروپ میں یہ شرح 20 فیصد ہے۔
اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ:
2023 میں 20 سے 29 سال کی عمر کے 6.3 کروڑگریجویٹس میں سے 1.1 کروڑ بے روزگار تھے۔
ملازمت حاصل کرنے والے 50 فیصد مرد گریجویٹس کو ایک سال کے اندر کام تو مل جاتا ہے، لیکن ان میں سے صرف 7 فیصدمستقل تنخواہ والی (Regular Salaried) نوکری حاصل کرنے میں کامیاب ہوتے ہیں۔
حیرت انگیز طور پر، گریجویٹ بے روزگاری کی یہ بلند شرح (35 سے 40 فیصد) گزشتہ چار دہائیوں (1983 سے اب تک) سے تقریباً برقرار ہے۔
تعلیمی نظام کی توسیع اور چیلنجز
گزشتہ 40 برسوں میں اعلیٰ تعلیم (Tertiary Education) کے حصول میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ خواتین کی شرحِ داخلہ 1983 میں 38 فیصد سے بڑھ کر 2023 میں 68 فیصد ہو گئی ہے، جبکہ مردوں میں یہ شرح 49 فیصد سے بڑھ کر 73 فیصدتک پہنچ گئی ہے۔
تاہم، رپورٹ نے چند منفی رجحانات کی بھی نشاندہی کی ہے
1. تعلیم سے دوری: 2017 سے 2024 کے درمیان نوجوان مردوں کی تعلیمی شرح میں کمی آئی ہے۔ تقریباً 72 فیصد مردوں نے گھریلو آمدنی میں ہاتھ بٹانے کی ضرورت کے باعث تعلیم ادھوری چھوڑ دی۔
2. اساتذہ کی کمی: پرائیوٹ کالجوں میں ایک استاد پر اوسطاً 28 طلبہ، جبکہ سرکاری کالجوں میں یہ تعداد 47 ہے، جو کہ طے شدہ معیار (15-20 طلبہ) سے کہیں زیادہ ہے۔
3. مہنگی تعلیم: میڈیکل اور انجینئرنگ جیسی ڈگریوں کے اخراجات غریب خاندانوں کی سالانہ آمدنی سے کہیں زیادہ ہیں، جس سے پیشہ ورانہ شعبوں میں عدم مساوات بڑھ رہی ہے۔
لیبر مارکیٹ اور صنفی فرق
رپورٹ میں ایک مثبت پہلو یہ سامنے آیا ہے کہ گریجویٹ سطح پر صنفی بنیادوں پر تنخواہ کا فرق (Gender Wage Gap) کم ہوا ہے۔ اب نوجوان خاتون گریجویٹس اپنے مرد ساتھیوں کے برابر کما رہی ہیں۔ تاہم، مرد گریجویٹس کی ابتدائی تنخواہیں (Entry-level salaries) 2011 سے اب تک منجمد ہیں۔
شعبہ جاتی تبدیلیاں اور ہجرت
نوجوان افرادی قوت اب زراعت سے نکل کر جدید خدمات (Services) جیسے آئی ٹی، آٹوموبائل اور بزنس سپورٹ کی طرف منتقل ہو رہی ہے۔ ذات پات کی بنیاد پر مخصوص پیشوں سے وابستگی میں بھی کمی آئی ہے، اور ایس سی/ایس ٹی کمیونٹی کے نوجوان اب مینوفیکچرنگ اور ٹیلی کمیونیکیشن جیسے شعبوں میں زیادہ نظر آ رہے ہیں۔
ہجرت کے حوالے سے رپورٹ بتاتی ہے کہ بہار اور اتر پردیش جیسے صوبے افرادی قوت فراہم کرنے والے بڑے مراکز ہیں، جبکہ دہلی، ہریانہ اور پنجاب روزگار تلاش کرنے والوں کی بڑی منزلیں ہیں۔
ماہرین کی رائے اور سفارشات
عظیم پریم جی یونیورسٹی کی صدر انڈو پرساد کے مطابق، نوجوانوں کا تعلیم یافتہ اور باخبر ہونا ایک بڑی کامیابی ہے، لیکن اب اصل چیلنج ان کی صلاحیتوں کے مطابق روزگار فراہم کرنا ہے۔ رپورٹ کی مصنفہ پروفیسر روزا ابراہم نے زور دیا کہ اس تحقیق کا مقصد تعلیم سے ملازمت تک کے سفر میں حائل رکاوٹوں کو سمجھنا ہے تاکہ بہتر پالیسیاں بنائی جا سکیں۔
اہم سفارشات:
اسکول اور فنی تعلیم (Vocational Training) کے نصاب کو مربوط کیا جائے۔
نیشنل کیریئر سروسز (NCS) کو مزید فعال بنایا جائے۔
غیر رسمی شعبے میں کام کرنے والے اور تارکینِ وطن نوجوانوں کے لیے سماجی تحفظ کا نظام وضع کیا جائے۔
