Monday, March 23, 2026
homeاہم خبریںریڈ روڈ پر عید کا اجتماع: تقدس کی پامالی اور سیاسی دھماچوکڑی

ریڈ روڈ پر عید کا اجتماع: تقدس کی پامالی اور سیاسی دھماچوکڑی

نور اللہ جاوید
کلکتہ کے تاریخی ریڈ روڈ پر عید کی نماز کا اجتماع ریاست کا سب سے بڑا مذہبی مجمع ہوتا ہے۔ میں گزشتہ دو دہائیوں سے اس اجتماع کا حصہ رہا ہوں اور 2011 سے قبل و بعد کے خطابات کا عینی شاہد ہوں۔ گزشتہ 15 برسوں میں امامِ عیدین کے لب و لہجے اور خطاب کے موضوعات میں جو تبدیلی آئی ہے، وہ نہ صرف ناقابلِ یقین ہے بلکہ انتہائی مایوس کن بھی ہے۔ اس سال کا خطاب تو ریڈ روڈ جیسے مقدس اور عظیم الشان مذہبی اجتماع کے لیے کسی بھی طور موزوں نہیں تھا۔سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر یہ خطاب غیر موزوں کیوں تھا؟ اس کا جواب دینے سے قبل میں ایک خبرکی طرف توجہ مبذول کرانا چاہتا ہوں۔

’’بھارت سیواشرم سنگھ‘‘ (BSS)کی بنیاد 1917 میں آچاریہ سوامی پرناوانند جی مہاراج نے رکھی تھی۔گزشتہ ایک صدی سے فلاحی اور تعلیمی خدمات کے ساتھ ویدک طرز پر ’’ہندو میلن مندر‘‘ کے نیٹ ورک کے ذریعے ہندئوں میں بیداری کیلئے کام کرتی ہے۔ گزشتہ روز اس آشرم نے اپنے ایک سینئر راہب’’ اتپل مہاراج‘‘ کو صرف اس بنیاد پر آشرم سے نکالنے کا اعلان کیا کہ انہوں نے بی جے پی کے ٹکٹ پر مالدہ ضلع کے کالیا گنج سے انتخاب لڑنے کا فیصلہ کیا ہے۔ آشرم نے بیان جاری کرتےہوئے واضح کیا کہ ’’بھارت سیواشرم سنگھ‘‘ایک مذہبی اور سماجی تنظیم ہے جہاں کوئی بھی راہب سیاسی سرگرمیوں میں حصہ نہیں لے سکتا۔ چونکہ اتپل مہاراج ‘سیاسی جال میں پھنس کر ایک پارٹی میں شامل ہوئے ہیں اس لیے انہیں فوری طور پر آشرم سے نکال دیا گیا ہے۔

اب اس فیصلے کے تناظر میں مغربی بنگال کی مسلم تنظیموں اور اداروں کا جائزہ لیں۔ ایک طرف وہ تنظیم ہے جو اپنے اصولوں کی خاطر اپنے ہی فرد کے خلاف کارروائی سے نہیں ہچکچاتی، اور دوسری طرف ہماری ملی تنظیمیں اور ادارے ہیں جن کا بنیادی مقصدتو بلا تفریقِ سیاست اور تعلقات مسلمانوں کی فلاح و بہبود اورانسانیات کی خدمت کرنا تھا ۔مگر آج صورت حال یہ ہے کہ جماعت اسلامی مغربی بنگال اورچند مستثنیات کو چھوڑ کربنگال کی بڑی مذہبی تنظیمیں چاہے جمعیۃ علما مغربی بنگال ہویا پھر ملی کونسل یا پھرکلکتہ کے تاریخی ادارے جیسے اسلامیہ اسپتال، یتیم خانہ اسلامیہ، اور مسلم انسٹی ٹیوٹ ، انجمن مفید الاسلام اور کلکتہ خلافت کمیٹی سب پر ایک مخصوص سیاسی جماعت کا غلبہ ہے۔ یہاں تک کہ مساجد کے منبر اور عید کے اجتماعات، جو امت کی فکری رہنمائی اور دینی مرکز کیلئے مخصوص تھے، اب ایک خاص سیاسی پارٹی کے زیر اثرہوچکے ہیں ۔صورت حال اس نوبت تک پہنچ چکی ہے یہ ادارے آزادنہ طور پر نہ سوچ سکتے ہیں ، نہ بول سکتے ہیں اور نہ اختلاف رائے کو درج کراسکتے ہیں ۔بلکہ کچھ خبر یہ بھی ہے کہ بعض مساجد کے ائمہ مساجد سیاسی لیڈروں کے اشارے پر تقاریر کرتے ہیں اور اس میں خود امام عیدین کا بھی نام آتا ہے۔

اس سال عید کی نماز بارش کے سائے میں ادا کی گئی، اس کی وجہ سے نمازیوں کی تعداد توقع سے کہیں کم تھی۔ چونکہ ملک میں انتخابات کا موسم ہے اور تاریخوں کا اعلان ہو چکا ہے، اس لیے ریاست بھر میں انتخابی گہما گہمی عروج پر تھی۔ یہی وجہ تھی کہ مقامی میڈیا سے لے کر قومی میڈیا تک کی نظریں ‘ریڈ روڈ پر مرکوز تھیں۔یہ امید کی جا رہی تھی کہ امامِ عیدین موجودہ نازک صورتحال میں دور اندیشی، سیاسی تدبر اور طویل مدتی حکمتِ عملی پر مبنی کوئی لائحہ عمل پیش کریں گے۔ لیکن حسبِ روایت، خطاب کا آغاز نوجوانوں کی بے راہ روی اور ‘رمضان کی راتیں کیرم بورڈ پر ضائع کرنے جیسی روایتی تنقید سے ہوا۔خطبے کا سیاسی موڑ اس وقت آیا جب امام صاحب نے بغیر کسی تمہید کے کھلے طور پر ممتا بنرجی کے حق میں ووٹ دینے کی اپیل کر دی۔ اگرچہ انہوں نے توازن برقرار رکھنے کی کوشش میں اس تلخ حقیقت کا اعتراف بھی کیا کہ ‘مسلمانوں کے بہت سے بنیادی کام اب تک تشنہِ تکمیل ہیں، مگر ان کا جھکاؤ واضح تھا۔عالمی منظرنامے پر امریکہ اور ایران کی کشیدگی کا سرسری ذکر کرنے کے بعد انہوں نے ایس آئی آر جیسے حساس معاملے پر لب کشائی تو کی، لیکن ان کی گفتگو میں معلومات کا فقدان اور سطحی پن صاف نمایاں تھا۔ الیکشن کمیشن کو دھمکی آمیز لہجے میں مخاطب کرنے کے علاوہ ان کے پورے بیان میں کوئی ٹھوس سیاسی و فکری رہنمائی موجود نہ تھی۔ پوری تقریر کا لبِ لباب محض ‘برداشت نہیں کریں گےکے جذباتی نعرے تک محدود رہا۔

عیدالفطر کا اجتماع اصولی طور پر ایک خالص مذہبی اور روحانی تقریب ہے، لیکن اس بار کا پس منظر غیر معمولی تھا۔ ایک طرف عالمِ اسلام جنگ کے سایوں میں گھرا ہوا ہے، جہاں ایران، اسرائیل اور امریکہ کی مثلث میں مشرقِ وسطیٰ سلگ رہا ہے، تو دوسری طرف داخلی سطح پر فرقہ وارانہ خلیج کو ہوا دی جا رہی ہے۔ افسوسناک امر یہ ہے کہ بھارتی میڈیا کا ایک بڑا حلقہ اس صوررتحال میں ہندستانی مسلمانوں کو ہدفِ ملامت بنا رہا ہے اور فسطائی قوتوں کے خلاف آواز اٹھانے کے بجائے ظالم کے ساتھ کھڑا نظر آتا ہے۔ ایسے میں اسلام کی آفاقی تعلیمات سے اقوامِ عالم اور ملتِ اسلامیہ کی رہنمائی وقت کی اہم ضرورت تھی۔

امامِ عیدین، جو عمر کے ساتھ ساتھ اپنی خطابت میں بھی پیرانہ سالی کی منزل کو پہنچ چکے ہیں نے عالمی و ملی مسائل کے بجائے مقامی انتخابی سیاست کو موضوعِ بحث بنانا زیادہ ضروری سمجھا۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جب آپ بابری مسجد کے مجرمین کو سبق سکھانے کے نام پر کھلے عام کسی ایک سیاسی جماعت (ترنمول کانگریس) کے حق میں ووٹ کی اپیل کریں گے، تو کیا اس کے ردِعمل میں ہندوتوا تنظیمیں ‘رام مندرکے نام پر اکثریت کو متحد (Polarize) نہیں کریں گی؟ ایسی صورت میں اس پولرائزیشن کا خمیازہ کسے بھگتنا پڑے گا اور اس کا موقع کس نے فراہم کیا؟سیاسی بصیرت کا تقاضا تو یہ تھا کہ منبر سے کسی ایک جماعت کی وکالت کرنے کے بجائے اتحاد اور شعور کی بات کی جاتی، بالخصوص جب ریاست میں کانگریس، بایاں محاذ اور آئی ایس ایف جیسی سیکولر قوتیں بھی مسلمانوں کے حقوق کی جنگ میں شامل ہیں۔یہی وجہ ہے کہ گزشتہ تین دنوں سے ریڈ روڈ کی نماز کا اجتماع سیاسی موضوعِ بحث بن چکا ہے۔ جہاں بی جے پی اس صورتحال کو اپنے سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کر رہی ہے، وہیں کانگریس نے بھی اس پر گہری ناراضگی کا اظہار کیا ہے۔ مگر بنیادی سوال اب بھی اپنی جگہ قائم ہے کہ آخر اس سنگین صورتحال کا موقع کس نے فراہم کیا؟ اور اس سیاسی انارکی کا اصل مجرم کون ہے؟۔

اسپیشل انٹینسیو ریویژن (SIR) کے حساس موضوع پر گفتگو ناگزیر تھی، لیکن دھمکی آمیز لہجہ کسی مسئلے کا حل نہیں ہے۔ بنگال کے تقریباً 60 لاکھ شہری، جن میں اکثریت مسلمانوں کی ہے، اس وقت جانچ کے دائرے میں ہیں۔ ضرورت اس امر کی تھی کہ ان ووٹرز کو قانونی رہنمائی فراہم کی جاتی کہ وہ شہری جن کے نام جانچ کے دائرے میں ہیں، انہیں فوری طور پر کیا اقدامات کرنے چاہئیں؟ اپنی شہریت کے تحفظ کے لیے دستاویزات کی درستی کیسے یقینی بنائی جائے؟۔اگر کسی کا نام خارج ہو جاتا ہے، تو ٹربیونل میں اپیل کا طریقہ کار کیا ہوگا؟بنیادی سوال یہی ہے کہ کیا ہمارے ملی اور مذہبی ادارے ان لاکھوں مسلمانوں کی قانونی و سماجی نمائندگی کے لیے تیار ہیں، یا ہماری قیادت محض جذباتی نعروں اور ‘برداشت نہیں کریں گے جیسے کھوکھلے دعووں تک محدود رہے گی؟

قوم کیا چیز ہے، قوموں کی امامت کیا ہے
اس کو کیا سمجھیں یہ بیچارے دو رکعت کے امام!

ریڈ روڈ پر نمازِ عیدالفطر کے موقع پر گزشتہ ڈیڑھ دہائی سے سیاسی ‘دھما چوکڑی کا جو سلسلہ شروع ہوا ہے، اس نے عید کے روحانی اجتماع کو ایک تماشہ بنا کر رکھ دیا ہے۔ ابھی خطبہ مکمل بھی نہیں ہوپاتا کہ سیاسی نعرہ بازی کا شور اس قدر بلند ہو جاتا ہے کہ گمان ہی نہیں گزرتا کہ چند لمحے قبل یہاں مسلمانوں نے اللہ کے حضور سرِ نیاز خم کیا تھا۔ اس سال بھی روایت برقرار رہی۔ خطبہِ عید ابھی جاری ہی تھا کہ اسٹیج سے اعلانات کی صدا گونجنے لگی کہ’’جھانسی کی رانی تشریف لا رہی ہیں‘‘اور’’سلطانِ ہند جاوید خان‘‘ مائیک سنبھالنے والے ہیں۔ چشمِ فلک نے دیکھا کہ اسٹیج پر موجود سیاسی طالع آزماؤں میں وزیرِ اعلیٰ کے ساتھ تصویر کھنچوانے کی ایسی ‘ہوڑ لگی کہ عید کا تقدس خاک میں مل گیا۔ دیکھتے ہی دیکھتے عید کا مصلّٰی ایک تند و تیز سیاسی جلسے میں تبدیل ہو گیا۔ ممتا بنرجی نے حسبِ معمول وزیراعظم نریندر مودی اور بی جے پی کو نشانے پر رکھتے ہوئے عید کے خالص مذہبی اجتماع کو سیاسی اکھاڑے میں بدل دیا۔

حد تو تب ہو گئی جب ان کے بھتیجے (ابھیشیک بنرجی) نے خطاب کیا اور ایسی لفاظی کی جو عقیدہِ توحید پر کاری ضرب کے مترادف تھی۔ انہوں نے کہا کہ ’’رمضان میں رام اور دیوالی میں علی ہے‘‘۔ ظاہر ہے کہ یہ محض سیاسی شعبدہ بازی اور لایعنی گفتگو کے سوا کچھ نہیں تھا۔ رمضان کا مہینہ اور روزہ خالص توحید پرستی کا مظہر اور ‘لا الہ الا اللہ کا عملی اظہار ہے۔ حضرت علی کرم اللہ وجہہ توحید کے سب سے بڑے علمبردار تھے۔ مگر افسوسناک المیہ یہ ہے کہ امامِ عیدین کی موجودگی میں ایسی ‘شرکیہ بیان بازی ہوتی رہی اور وہ ایک خاموش تماشائی بنے سب سنتے رہے۔ کیا منبرِ رسول کی خاموشی ان سیاسی نعروں سے زیادہ مجرمانہ نہیں ہے؟۔

اس موقع پر چند بنیادی سوال یہ ہے کہ دنیا کی کونسی قوم ہے جو اپنے عبادات کے موقع پر ایک خاص سیاسی جماعت کو اپنےعزائم کی تکمیل کا اسٹیج فراہم کرتی ہے؟ کیا ممتا بنرجی رام کرشن مشن ، عیسائیوں کے کرسمس کی تقریب کو سیاسی جلسے میںتبدیل کرتی ہیں ۔تو پھر مسلمانوں کے مذہبی اجتماع کا سیاسی استعمال کیوں ہے؟کیا مسلمانوں نے سیاسی جماعت کے سامنے خودسپردگی کردی ہے۔نہ مسلمانوں کو اپنے عبادات کی فکر ہے۔نہ اس کے عظمت کی ۔
آ تجھ کو بتاؤں میں تقدیرِ امم کیا ہے
شمشیر و سناں اول، طاؤس و رباب آخر

’’اگر ہم اپنے اداروں، مساجد اور منبر و محراب کو سیاسی آلودگی سے پاک رکھنا چاہتے ہیں اور یہ خواہش رکھتے ہیں کہ ہماری ملی تنظیموں کی غیر جانبداری برقرار رہے تاکہ وہ انتہا پسندوں کے نشانے پر نہ آئیں، تو ہمیں وقتی مفادات اور سیاسی نفع و نقصان سے بالاتر ہو کر طویل مدتی حکمتِ عملی وضع کرنا ہوگی۔اب وقت آ گیا ہے کہ ‘خلافت کمیٹی جیسے تاریخی اداروں کو سیاسی طالع آزماؤں کے چنگل سے آزاد کرایا جائے، تاکہ وہ ہماری عبادات کا سیاسی استحصال نہ کر سکیں۔ یہ لمحہِ فکریہ ہے کہ محض اسمبلی کی رکنیت یا کارپوریشن کی کرسی کی خاطر پوری ملت کو ‘قربانی کا بکرا نہ بنایا جائے۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ کوئی امام اپنی پیرانہ سالی میں اپنے صاحبزادگان کا مستقبل سنوارنے کی تگ و دو میں پوری قوم کے مستقبل کو تاریکیوں میں دھکیل دے۔مگر بنیادی سوال آج بھی وہی ہے: کیا ملت اس سمت میں سوچنے اور موروثی و سیاسی قبضے کے خلاف آواز اٹھانے کے لیے تیار ہے؟‘‘بقول علامہ اقبال
واعظِ قوم کی وہ پختہ خیالی نہ رہی
برق طبعی نہ رہی،شعلہ مقالی نہ رہی
رہ گئی رسمِ اذاں، روحِ بلالی نہ رہی
فلسفہ رہ گیا، تلقینِ غزالی نہ رہی

متعلقہ خبریں

تازہ ترین