تہران (انصاف نیوز ڈیسک): مشرق وسطیٰ میں جاری جنگ نے مزید شدت اختیار کر لی ہے۔ ایرانی فوج کے مرکزی آپریشنل ہیڈ کوارٹر خاتم الانبیاء نے بدھ (11 مارچ 2026) کو سرکاری ٹی وی پر بیان جاری کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ امریکہ اور اسرائیل (“صہیونی رجیم”) سے منسلک معاشی مراکز اور بینکوں کو اب نشانہ بنانے کی آزادی حاصل ہے۔ یہ بیان تہران میں ایک ایرانی بینک پر مبینہ امریکی-اسرائیلی حملے کے جواب میں آیا ہے۔
فوجی بیان اور وارننگ:
خاتم الانبیاء کے ترجمان ابراہیم ذوالفقاری نے کہا: “دشمن نے ہمیں یہ آزادی دے دی ہے کہ ہم امریکہ اور صہیونی رجیم سے تعلق رکھنے والے معاشی مراکز اور بینکوں کو نشانہ بنائیں۔” انہوں نے خطے کے عوام کو سخت خبردار کیا کہ وہ کسی بھی (امریکہ یا اسرائیل سے منسلک) بینک کے ارد گرد ایک کلومیٹر کے علاقے میں نہ جائیں۔ بیان میں مزید کہا گیا کہ “امریکیوں کو ہمارا دردناک جواب منتظر رہنا چاہیے۔”
سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کی صحت:
ایران کے نئے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای (سابق سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے بیٹے، جن کی 28 فروری 2026 کو امریکی-اسرائیلی حملے میں ہلاکت ہوئی تھی) کی صحت کے بارے میں افواہیں گردش کر رہی تھیں۔ ایرانی صدر مسعود پزشکیان کے بیٹے یوسف پزشکیان نے تصدیق کی ہے کہ مجتبیٰ خامنہ ای “خیریت سے ہیں اور کوئی مسئلہ نہیں ہے” (الحمدللہ)۔

تاہم، دی نیویارک ٹائمز کے مطابق ایرانی حکام نے بتایا کہ جنگ کے پہلے دن (28 فروری) کے حملوں میں ان کی ٹانگوں پر چوٹیں آئیں (بشمول فریکچرڈ فٹ)، چہرے پر معمولی کٹاؤ اور آنکھ کے گرد نیل پڑا، لیکن وہ ہوش میں ہیں اور ایک انتہائی محفوظ اور خفیہ مقام پر موجود ہیں جہاں مواصلات محدود ہیں۔ ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ وہ “ہلکے زخمی” ہیں لیکن کام جاری رکھے ہوئے ہیں۔ ایرانی سرکاری ٹی وی نے انہیں “رمضان کی جنگ کا زخمی فوجی” کہا تھا۔
حملوں کا پس منظر:
یہ پیش رفت منگل کی رات (10-11 مارچ) تہران میں بینک سپاہ (ایک سرکاری بینک جس کے فوج سے تاریخی روابط ہیں) کے ایک انتظامی عمارت پر اسرائیلی حملے کے بعد سامنے آئی۔ ایرانی میڈیا کے مطابق اس حملے میں بینک کے کچھ ملازمین ہلاک ہوئے تعداد کا اعلان نہیں کیا گیا)۔ ایران اسے “جنگ میں غیر قانونی اور غیر معمولی اقدام” قرار دے رہا ہے۔
– ابوظبی میں میزائل حملے میں ایک پاکستانی شہری کی ہلاکت کی اطلاعات ہیں (تصدیق شدہ ذرائع سے محدود)۔
– سعودی عرب نے راس تنورہ آئل ریفائنری پر ڈرون حملہ ناکام بنانے کا دعویٰ کیا ہے۔
– ایران نے خلیج میں تجارتی جہازوں پر حملے کیے ہیں اور ہرمز آبنائے میں تیل کی ترسیل روکنے کی دھمکی دی ہے۔
– خلیجی ایئرلائنز فضائی حدود کی بندش کے باوجود محدود پروازیں بحال کرنے کی تیاری کر رہی ہیں۔
