Wednesday, February 18, 2026
homeہندوستانNBDSA کا Zee News پر 1 لاکھ جرمانہ: غیر تصدیق شدہ ’ٹرک...

NBDSA کا Zee News پر 1 لاکھ جرمانہ: غیر تصدیق شدہ ’ٹرک پر نماز‘ ویڈیو پر کارروائی، سوشل میڈیا کے لیے نئی ہدایات جاری

نئی دہلی:انصاف نیوز آن لائن
نیوز براڈ کاسٹنگ اینڈ ڈیجیٹل اسٹینڈرش اتھارٹی براڈکاسٹنگ (NBDSA)نے زی نیوز (Zee News)پر مارچ 2025 میں نشر ہونے والے پروگرام ’’ٹرک پر نماز… جموں میں نیا بوال شروع!‘‘ کے سلسلے میں ایک لاکھ روپے جرمانہ عائد کیا ہے۔ اتھارٹی نے اپنے فیصلے میں کہا کہ کہ چینل نے ایک وائرل سوشل میڈیا ویڈیو کی پیشگی تصدیق کیے بغیر اسے نشر کیا، جو براڈکاسٹنگ کوڈ کے تحت ’’درستگی‘‘ کے اصول کی خلاف ورزی ہے۔

شکایت کنندگان کا کہنا تھا کہ چینل نے ایک وائرل ویڈیو نشر کی جس میں دعویٰ کیا گیا کہ ایک مسلمان ٹرک ڈرائیور نے ہائی وے کے بیچ گاڑی روک کر نماز ادا کی، جس سے شدید ٹریفک جام ہو گیا۔بعد ازاں فیکٹ چیک رپورٹس اور ٹریفک ایڈوائزری سے معلوم ہوا کہ ہائی وے پر خلل شدید موسمی حالات اور لینڈ سلائیڈنگ کی وجہ سے تھا۔ شکایت میں کہا گیا کہ نشریات نے ایک عام ٹریفک مسئلے کو فرقہ وارانہ رنگ دیا اور غیر تصدیق شدہ سوشل میڈیا کلپ کو بنیاد بنا کر غلط معلومات پھیلائیں۔Zee News نے اپنے جواب میں مؤقف اختیار کیا کہ ویڈیو کو وائرل اور غیر تصدیق شدہ قرار دیتے ہوئے نشر کیا گیا تھا، اور بعد میں حقائق سامنے آنے پر اسے ہٹا دیا گیا۔

17 فروری 2026 کو جاری مشترکہ حکم NBDSA کے چیئرمین جسٹس اے کے سکری (ریٹائرڈ) کی سربراہی میں دیا گیا۔ یہ فیصلہ اندرجیت گھورپاڑے، اُتکرش مشرا اور جمعیۃ علمائے ہند کے قانونی مشیر سید کعب رشیدی کی جانب سے دائر شکایات پر سنایا گیا۔

NBDSA نے سماعت کے دوران نوٹ کیا کہ متنازعہ نشریات ایک وائرل سوشل میڈیا ویڈیو پر مبنی تھیں جن کی پیشگی تصدیق نہیں کی گئی تھی۔ اتھارٹی کے مطابق:غیر تصدیق شدہ سوشل میڈیا مواد نشر کرنا کوڈ آف کنڈکٹ کے تحت درستگی (Accuracy) کے اصول کی خلاف ورزی ہے۔صرف یہ ڈس کلیمر دینا کہ ویڈیو غیر تصدیق شدہ ہے، براڈکاسٹر کو ذمہ داری سے بری نہیں کرتا۔پیشکش کا انداز غیر جانبدار اور ذمہ دارانہ رپورٹنگ کے تقاضوں سے مطابقت نہیں رکھتا تھا۔اگرچہ اتھارٹی نے سخت کارروائی پر غور کیا، تاہم ویڈیو ہٹانے کو مدنظر رکھتے ہوئے ایک لاکھ روپے جرمانہ عائد کیا گیا۔ چینل کو ہدایت دی گئی کہ اگر متنازعہ مواد اب بھی دستیاب ہو تو اسے تمام ڈیجیٹل پلیٹ فارمز سے ہٹایا جائے اور مقررہ فارمیٹ میں معافی نامہ نشر کیا جائے۔

NBDSA نے سوشل میڈیا مواد پر بڑھتے انحصار، جعلی خبروں اور AI سے تیار کردہ ڈیپ فیکس کے خدشات کے پیش نظر اضافی ہدایات جاری کیں۔ اہم نکات درج ذیل ہیں:لازمی تصدیق: سوشل میڈیا سے حاصل کردہ مواد نشر کرنے سے پہلے اس کی تصدیق ضروری ہوگی۔قابل اعتماد ذرائع سے جانچ: جہاں ممکن ہو، گراؤنڈ رپورٹنگ، عینی شاہدین، پولیس یا سرکاری ذرائع سے تصدیق کی جائے۔AI اور تحریف کی جانچ: تصاویر اور ویڈیوز کی جعل سازی یا AI سے تیاری کی پڑتال کی جائے۔سیاق و سباق کی درستگی: درست مواد کو بھی گمراہ کن انداز میں پیش نہ کیا جائے۔

حساس معاملات میں سخت جانچ: فرقہ وارانہ کشیدگی، فسادات، جرائم یا فوجی آپریشن جیسے معاملات میں خصوصی احتیاط برتی جائے۔ڈس کلیمر ناکافی ہوگا: محض “وائرل” یا “غیر تصدیق شدہ” کہہ دینا ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں کرے گا۔اتھارٹی نے ہدایت دی کہ یہ رہنما اصول تمام اراکین اور ایڈیٹرز تک پہنچائے جائیں اور سالانہ رپورٹ میں شامل کیے جائیں۔دیگر مقدمات اور ریگولیٹری پس منظرایک الگ حکم میں NBDSA نے Zee Telugu کے پروگرام “Fake Transgenders Arrested in Hyderabad” (9 نومبر 2024) سے متعلق شکایت پر بھی فیصلہ سنایا۔ شکایت میں الزام تھا کہ پروگرام میں توہین آمیز زبان استعمال کی گئی اور ٹرانس جینڈر کمیونٹی کو منفی انداز میں پیش کیا گیا۔یہ پہلا موقع نہیں کہ Zee News کو NBDSA کی کارروائی کا سامنا کرنا پڑا ہو۔ 2023 میں بھی اتھارٹی نے فرقہ وارانہ نوعیت کے مباحث اور غیر تصدیق شدہ دعووں کی نشریات پر چینل کو جرمانہ اور معافی نامہ نشر کرنے کا حکم دیا تھا۔

NBDSA نجی نیوز براڈکاسٹرز کے لیے ایک خود ریگولیٹری ادارہ ہے، جس کے اختیارات جرمانہ عائد کرنے، معافی نامہ نشر کرانے اور مواد ہٹانے تک محدود ہیں۔ تاہم ایک ہی براڈکاسٹر کے خلاف بار بار فیصلوں نے میڈیا مبصرین میں خود ریگولیشن کی مؤثریت پر سوالات بھی اٹھائے ہیں۔

متعلقہ خبریں

تازہ ترین