کبریا انصاری ؍ ای نیوز روم
کلکتہ :
بنگلہ بولنے والے بھارتی شہریوں کو بنگلہ دیشی قرار دے کر ہراساں کیے جانے اور مبینہ تشدد کے واقعات صرف مغربی بنگال کے باشندوں تک محدود نہیں ہے۔ہراسانی کا سامنا وہ خاندان بھیکر رہے ہیں جو تقریباً 70 برس قبل بنگال چھوڑ کر دیگر ریاستوں میں آباد ہوگئے تھے۔
ایک چونکا دینے والے واقعہ میں اڈیشہ کے ایک اوڈیابنگالی خاندان کے 14 افراد کو دسمبر میں بارڈر سیکیورٹی فورسیس (BSF) نے مبینہ طور پر ‘بنگلہ دیشی’ ہونے کے شبہ میں بنگلہ دیش دھکیل دیا۔
یہ واقعہ جمعہ 26 دسمبر 2025 کو پیش آیا، جب ان 14 افراد کو مبینہ طور پر مغربی بنگال کے ندیا ضلع میں واقع گیدے سرحد کے راستے بنگلہ دیش بھیج دیا گیا۔ سرد موسم کے دوران ایک ہفتے سے زیادہ گزرنے کے باوجود خاندان کے افراد کے بارے میں کوئی اطلاع نہیں مل سکی ہے۔
رشتہ داروں کے مطابق بنگلہ دیش دھکیلے گئے افراد میں چار بچے، پانچ خواتین اور پانچ مرد شامل ہیں۔ ان کی شناخت اس طرح بتائی گئی ہے: گلشن بی بی (90)، شیخ جبار (70) اور ان کے چار بیٹے شیخ حکیم (45)، شیخ عقیل (40)، شیخ راجا (38) اور شیخ بنتی (28)۔ اس کے علاوہ شیخ عقیل کی 11 سالہ بیٹی شکیلہ خاتون۔ شیخ راجا کے تین بچے12 سالہ بیٹی نسرین پروین، 11 سالہ بیٹا شیخ توحید اور 2 سالہ بیٹا شیخ راہد۔نیز الکم بی بی (65)، سمسری بی بی (40)، صابرہ بی بی (35) اور مہیرن بی بی (25) شامل ہیں۔
یہ تمام افراد اڈیشہ کے جگت سنگھ پور ضلع میں ایرسامہ تھانہ کے تحت امبیکا گاؤں کے رہنے والے ہیں۔
آدھار، ووٹر آئی ڈی، پیدائشی سرٹیفکیٹ اور زمین کے کاغذات رکھنے والے بھارتی شہری ‘بنگلہ دیشی’ قرار
شیخ جبار اور ان کا خاندان دہائیوں سے اڈیشہ میں مقیم ہے اور وہیں کے رجسٹرڈ ووٹر بھی ہیں۔ ان کے کئی بچے اڈیشہ میں پیدا ہوئے۔ خاندان کے پاس درست آدھار کارڈ، ووٹر شناختی کارڈ، راشن کارڈ، پین کارڈ، پیدائشی سرٹیفکیٹس اور قدیم زمین کے کاغذات موجود ہیں۔ اس کے باوجود انہیں مبینہ طور پر ‘بنگلہ دیشی’ قرار دے کر پش بیاگ کردیا گیا ہے۔
خاندان کے افراد کا کہنا ہے کہ مقامی پولیس نے ان کے گھروں میں توڑ پھوڑ کی اور 8 دسمبر کو تمام 14 افراد کو حراست میں لے لیا۔ ان کے مطابق اس سے پہلے بھی کئی ہفتوں تک خاندان کو حراست اور نقل و حرکت کی پابندیوں کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ شیخ جبار کے ایک رشتہ دار نے بتایا کہ خاندان کو تقریباً ڈیڑھ ماہ قبل حراست میں لیا گیا تھا۔
رشتہ دار نے کہاکہ ہم نے تمام دستاویزات دکھایا مگر پولیس نے ہماری بات نہیں سنی، بلکہ ہمیں دھمکیاں دی گئیں۔ ہمیں یہ بھی نہیں بتایا گیا کہ انہیں کہاں رکھا گیا ہے یا ان کے ساتھ کیا ہو رہا ہے۔
ایک اور رشتہ دار، شیخ اکرم نے بتایا گیا ہے کہ بعد میں میڈیا رپورٹس کے ذریعے ہمیں معلوم ہوا کہ 26 دسمبر کی شام انہیں سرحد کے راستے بنگلہ دیش دھکیل دیا گیا۔ یہ اڈیشہ انتظامیہ اور بی ایس ایف کی جانب سے غیر قانونی پش بیک ہے۔
خاندان کے مطابق شیخ جبار کے آبا و اجداد اصل میں مغربی بنگال کے ضلع جنوبی 24 پرگنہ کے نام خانہ سے تعلق رکھتے تھے اور تقریباً 70 سال قبل روزگار کی تلاش میں اڈیشہ منتقل ہوئے تھے۔ جبار اور ان کے آبا کے نام پر جنوبی 24 پرگنہ میں زمین بھی موجود ہے۔ وقت کے ساتھ خاندان نے اڈیشہ میں تمام سرکاری دستاویزات حاصل کرلیا تھا اور نئی نسل وہیں پیدا ہوئی۔
ایک اور رشتہ دار، سیف الاسلام خان،نے بتایا کہ “یہ سب جائز بھارتی شہری ہیں۔ انہیں صرف اس لیے حراست میں لیا گیا کہ وہ بنگلہ بولتے ہیں۔ تقریباً ڈیڑھ ماہ سے خاندان کے بارے میں کوئی اطلاع نہیں۔ جب ہم تھانے گئے تو ہمیں لاک اپ میں ڈالنے کی دھمکی دی گئی۔ پولیس نے ہمارے کاغذات دیکھنے سے بھی انکار کر دیا۔
انہوں نے مزید کہا: “27 دسمبر کو اچانک ہم نے خبروں میں دیکھا کہ انہیں بنگلہ دیش بھیج دیا گیا ہے۔ ان میں چار بچے، پانچ خواتین اور پانچ مرد شامل ہیں۔ ہم ان سے رابطہ نہیں کر پا رہے اور انتظامیہ تعاون نہیں کر رہی۔ ہم بالکل بے بس ہیں۔
بنگلہ دیش کے معروف اخبار ‘پرتھم آلو’ کی رپورٹ کے مطابق، لیفٹیننٹ کرنل محمد نظمُل حسن، کمانڈنگ آفیسر 6 بی جی بی چوآڈانگا بٹالین، نے واقعے کی تصدیق کی ہے۔ ان کے مطابق 26 دسمبر 2025 کی رات گھنی دھند کا فائدہ اٹھاتے ہوئے بی ایس ایف نے درشانہ نمتلا بارڈر گیٹ کھولا اور بچوں اور بزرگوں سمیت 14 بھارتی شہریوں کو بنگلہ دیش میں داخل کر دیا۔
انہوں نے کہا کہ یہ تمام 14 افراد بنگلہ دیشی نہیں ہیں اور بنگلہ دیش میں ان کا کوئی رشتہ دار یا جاننے والا نہیں۔ ان کے مطابق بی ایس ایف نے 23 دسمبر کو کُشتیہ سرحد کے راستے بھی انہیں دھکیلنے کی کوشش کی تھی، جو ناکام رہی۔ بارڈر گارڈ بنگلہ دیش (BGB) نے اس واقعے پر احتجاج درج کرایا ہے اور بی جی بی اور بی ایس ایف کے سینئر حکام کے درمیان بات چیت بھی ہوئی ہے۔
انہوں نے کہاکہ ضروری کارروائی مکمل ہونے کے بعد انہیں واپس بھارت بھیج دیا جائے گا۔
سیاسی غم و غصہ اور قانونی کارروائی کی تیاری
دریں اثنا، مغربی بنگال پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر شوبھَنکر سرکار نے اس واقعے پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے اور لوک سبھا میں قائدِ حزبِ اختلاف راہل گاندھی کو خط لکھا ہے، جس میں انہوں نے بی جے پی کی حکومت والی ریاستوں میں بالخصوص بنگلہ بولنے والے مہاجر مزدوروں کے خلاف حملوں کے ایک مبینہ سلسلے کی نشاندہی کی ہے۔
اپنے خط میں سرکار نے اڈیشہ کے اس 14 رکنی خاندان کو بنگلہ دیش دھکیلے جانے کے مبینہ واقعے کا ذکر کیا، اور اڈیشہ کے سمبل پور میں بنگلہ بولنے والے مہاجر مزدور جیول رانا کے قتل کا حوالہ بھی دیا، جسے مقامی لوگوں نے بنگلہ دیشی قرار دے کر نشانہ بنایا تھا۔
انسانی حقوق کی تنظیم ‘انڈین جسٹس فورم’ نے اس واقعے کو “آئین کی سنگین خلاف ورزی” قرار دیا ہے۔
تنظیم کے چیئرمین اور وکیل اشفاق احمد نے کہا کہ یہ واقعہ آئینی حقوق کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ ان لوگوں کے ساتھ محض اس لیے غیر انسانی سلوک کیا گیا کہ وہ مسلمان ہیں۔ ایک آزاد ملک کے جائز شہریوں کو ‘بنگلہ دیشی’ قرار دے کر دوسرے ملک میں کیسے دھکیلا جا سکتا ہے؟ پولیس اور بی ایس ایف نے سپریم کورٹ کی ہدایات کو مکمل طور پر نظر انداز کیا ہے۔ ہم نے اعلیٰ ترین انتظامی حکام کو اطلاع دے دی ہے، اور اگر کوئی کارروائی نہیں ہوئی تو ہم اڈیشہ ہائی کورٹ سے رجوع کرنے کی تیاری کر رہے ہیں۔
ہم نے بی ایس ایف کے حکام سے رابطہ کرنے کی کوشش کی، تاہم تاحال کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔
(بشکریہ ای نیوز روم )
