Sunday, November 30, 2025
homeاہم خبریںممبئی میں 11 لاکھ سے زائد ڈپلیکیٹ ووٹوں کااندراجات ۔ ناندیڑ میں...

ممبئی میں 11 لاکھ سے زائد ڈپلیکیٹ ووٹوں کااندراجات ۔ ناندیڑ میں کوچنگ سینٹرز کو ’’رہائش گاہ‘‘بتاکر درجنوں ووٹوں درج

ایک رپورٹ میں انکشاف ہوا ہے کہ ممبئی کے1 .30کروڑ رجسٹرڈ ووٹروں میں سے حیرت انگیز طور پر10.64فیصد ڈپلیکیٹ (نقلی/دہرائے گئے) نکلے ہیں، جبکہ ایک دوسری رپورٹ نے ناندیڑ واگھالا کارپوریشن کی ووٹر لسٹ میں عجیب و غریب بے ضابطگیاں سامنے آئی ہیں۔

ممبئی : انصاف نیوز آن لائن۔

ممبئی کے1 .30کروڑ رجسٹرڈ ووٹروں میں سے10.64فیصد ووٹ ڈپلیکیٹ نکلے ہیں۔ جب کہ ناندیڑ واگھالا کارپوریشن کی ووٹر لسٹ میں عجیب و غریب بے ضابطگیاں سامنے آئیں۔ مہاراشٹر کے ڈرافٹ الیکٹورل رولز میں ممبئی میں 11 لاکھ سے زیادہ ڈپلیکیٹ اندراجات اور ناندیڑ کے کوچنگ انسٹی ٹیوٹس کے پتوں پر سینکڑوں ووٹرز رجسٹرڈ ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔اس کی وجہ سے میونسپل انتخابات کے شیڈول پر سوالات اٹھنے لگے ہیں۔

بڑے پیمانے پر بے ضابطگیاں کے سامنے آنے کے بعد (جن کی تفصیل آج تک اور دی کوئنٹ کی الگ الگ رپورٹس میں دی گئی ہے) اور اپوزیشن کی شدید تنقید کے پیشِ نظر، اسٹیٹ الیکشن کمیشن (ایس ای سی) نے ممبئی میں اعتراضات داخل کرنے کی آخری تاریخ بڑھا دی ہے۔

آج تک کے پاس موجود ڈیٹا سے پتہ چلتا ہے کہ ممبئی کے1 .30کروڑ رجسٹرڈ ووٹروں میں سے 10.64فیصد یعنی تقریباً11.10لاکھ اندراجات ڈپلیکیٹ ہیں۔ ایک حیران کن مثال میں ایک ہی ووٹر کا نام 103 بار درج پایا گیا۔ انتظامیہ نے ان غلطیوں کی وجہ پرنٹنگ کی غلطیاں، ووٹروں کا مقام تبدیل ہونا اور مرحوم افراد کے نام نہ ہٹانا بتارہے ہیں ۔

نیوز چینل ’’آج تک‘‘ کے مطابق سب سے زیادہ ڈپلیکیٹ اندراجات والے پانچ میں سے چار وارڈز میں پہلے شیو سینا (یو بی ٹی) یا این سی پی (شراد پوار گروپ) کے نمائندے تھے۔ ورلی کا وارڈ 199 (جس کی سابق میئر کشوری پیڈنیکر نمائندگی کرتی تھیں) 8,207ڈپلیکیٹ ووٹروں کے ساتھ سرِ فہرست رہا۔

مسئلے کی شدت تسلیم کرتے ہوئے ایس ای سی نے ممبئی میں اعتراضات کی آخری تاریخ 27 نومبر سے بڑھا کر 3 دسمبر کر دی ہے۔

دی کوئنٹ کی ایک اور تحقیق میں ناندیڑ واگھالا کارپوریشن کی ووٹر لسٹ میں حیران کن بے ضابطگیاں سامنے آئی ہیں۔ وارڈ نمبر 5 کا تجزیہ کرنے پر پتہ چلا کہ 600 سے زائد ووٹرز نے دو کوچنگ انسٹی ٹیوٹس (IIB کیریئر انسٹی ٹیوٹ اور آر سی سی پیٹرن کوچنگ) کے پتے اپنی رہائش گاہ بتائے ہیں۔ اسی وارڈ میں3, 587اندراجات میں پتہ صرف این اے‘‘ (نہ قابلِ اطلاق) درج ہے۔

آئی آئی بی کیریئر انسٹی ٹیوٹ کے منیجنگ ڈائریکٹر دشرتھ پاٹل نے دی کوئنٹ کو بتایاکہ ’’جو طالب علم یہاں لسٹ میں ہیں، وہ کئی سال پہلے چلے گئے۔ اس وقت کلکٹر کو ہدف ملا تھا کہ زیادہ سے زیادہ ووٹرز شامل کیے جائیں۔ یہ طالب علم اب یہاں نہیں رہتے۔

ایک بوتھ لیول آفیسر نے بھی تصدیق کی کہ رجسٹریشن کے ہدف پورے کرنے کا زبردست دباؤ تھا، اس لیے طالب علموں کے آدھار کارڈ میں جو آبائی پتہ درج تھا، اس کی بجائے انسٹی ٹیوٹ کا پتہ استعمال کر لیا گیا۔

اپوزیشن نے ان بے ضابطگیوں پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ شیو سینا (یو بی ٹی) لیڈر آدتیہ ٹھاکرے (جنہوں نے توسیع کی درخواست کی تھی) نے اسے “انتہائی قابلِ مذمت اور ناقابلِ معافی قرار دیا اور خبردار کیا کہ اگر ان مسائل کو حل نہ کیا گیا تو الیکشن کے منصفانہ ہونے پر شکوک پیدا ہوں گے۔

ممبئی کانگریس صدر اور رکنِ پارلیمنٹ ورشا گائیکواڑ نے 11 لاکھ ڈپلیکیٹ ووٹروں کے اعداد و شمار کو ہتھیار بناتے ہوئے کہا کہ اتنی بڑی غلطی انتخابات کو متاثر کر سکتی ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ 11 لاکھ سے زائد ڈپلیکیٹ ووٹروں کی لسٹ عوامی کی جائے اور ہزاروں ووٹروں کو غلط وارڈز میں منتقل کرنے سے انتخابی نتائج “نمایاں طور پر تبدیل” ہو سکتے ہیں۔

نائب وزیرِ اعلیٰ اور این سی پی لیڈر اجیت پوار نے بھی ستارہ میں انتخابی مہم کے دوران اس بے ضابطگی کو تسلیم کیا۔ انہوں نے کہاکہ ’’ممبئی میں ڈبل، ٹرپل، کواڈرپل ووٹرز کی تعداد تقریباً 11 لاکھ ہے۔ مہاراشٹر میں اس قسم کی ڈبل، ٹرپل ووٹنگ برداشت نہیں کی جائے گی۔انہوں نے الیکشن کمیشن سے مداخلت کی اپیل کی ہے۔

متعلقہ خبریں

تازہ ترین