انصاف نیوز آن لائن
آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین (AIMIM) کے صدر اسد الدین اویسی نے مغربی بنگال کے اپنے حالیہ دورے کے دوران وعدہ کیا ہے کہ ان کی پارٹی ریاست میں ایک متبادل سیاسی قیادت فراہم کرنے کے لیے تیار ہے۔ انہوں نے کہا کہ “اقلیتیں موجودہ قیادت کے سائے میں گھٹن محسوس کر رہی ہیں اور اب ان کے پاس ایک واضح متبادل موجود ہے”۔
اسد الدین اویسی اور ‘عام جنتا انیئن پارٹی (AJUP) کے چیئرمین ہمایوں کبیرنے باضابطہ اتحاد کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ دونوں جماعتیں آئندہ مغربی بنگال اسمبلی انتخابات مل کر لڑیں گی۔ کولکتہ میں مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اویسی نے کہا کہ بنگال کے انتخابات میں سب سے بڑا مسئلہ مسلمانوں کی سیاسی قیادت کا فقدان ہے۔
اسد الدین اویسی نے کولکتہ میں اپنی پہلی پریس کانفرنس میں ترنمول کانگریس کی قیادت کے سامنے جو سوالات رکھے ہیں، اس میں کوئی شک نہیں کہ وہ جائز ہیں، مگر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اویسی صاحب کس قسم کی قیادت فراہم کرنے کی بات کر رہے ہیں؟ گزشتہ پانچ ماہ سے بنگال کے مسلمان **ایس آئی آر (SIR)** کو لے کر سخت پریشان ہیں۔ مرشد آباد، مالدہ، شمالی دیناج پور اور شمالی 24 پرگنہ کے بیشتر مسلم ووٹرز کے نام جانچ کے دائرے میں ہیں اور تقریباً 10 لاکھ ناموں کے حذف ہونے کا خطرہ منڈلا رہا ہے، مگر اویسی اس حساس معاملے پر خاموش رہے۔ کیا ان کے پاس اس کا کوئی ٹھوس لائحہ عمل ہے؟
دوسری جانب ہمایوں کبیر کی شخصیت ہمیشہ متنازع رہی ہے۔ وہ خود مرشد آباد میں بھی مقبول لیڈر تصور نہیں کیے جاتے اور ان کے لیے اپنی نشست بچانا بھی مشکل ہو سکتا ہے۔ ہمایوں کبیر کی سیاسی تاریخ وفاداریاں بدلنے سے بھری پڑی ہے؛ وہ کانگریس، ترنمول، بی جے پی اور پھر ترنمول سے ہوتے ہوئے اب اپنی پارٹی بنا چکے ہیں۔ سیاسی حلقوں میں یہ سوال اٹھ رہا ہے کہ پہلے انہوں نے بابری مسجد کے نام پر سیاست کی اور اب مسلم اکثریتی نشستوں پر امیدوار کھڑے کر کے مسلم ووٹوں کی تقسیم کی کوشش کر رہے ہیں۔ اویسی صاحب کو اس سوال کا جواب دینا ہوگا کہ ووٹوں کی اس تقسیم کا براہ راست فائدہ کس کو پہنچے گا؟ کیا اس طرح واقعی مسلم قیادت مضبوط ہوگی؟
اویسی صاحب آج مسلم او بی سی (OBC) کا مسئلہ تو اٹھا رہے ہیں، مگر جب یہ معاملہ ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ میں زیرِ سماعت تھا، تو انہوں نے وہاں وکیل کیوں کھڑے نہیں کیے؟
اویسی کا ماننا ہے کہ سرکاری اعداد و شمار گواہ ہیں کہ جن ریاستوں میں مسلمانوں کی سیاسی قیادت نہیں ہے، وہاں ان کی سماجی اور معاشی حالت ابتر ہے۔ انہوں نے کہاکہ ہمارا اصل مقصد مسلمانوں کو جمہوری طریقے سے بااختیار بنانا ہے۔ ٹی ایم سی ہمیں روکنے کی کوشش کر سکتی ہے، لیکن ہمیشہ کے لیے نہیں۔ انہوں نے مسلمانوں کو صرف ووٹ بینک سمجھ کر کمزور رکھا۔”
ایم آئی ایم سربراہ نے الزام لگایا کہ بنگال میں 30 فیصد مسلم آبادی کے باوجود سرکاری ملازمتوں میں ان کی نمائندگی صرف 7 فیصد ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ برسوں تک ترنمول نے ہمارا ووٹ لیا، لیکن زمینی سطح پر صرف عید کی نمازیں پڑھوائیں؛ کیا عید گاہ جانے سے ہمارے بچوں کو روٹی اور تعلیم مل جائے گی؟
ترنمول کانگریس کی جانب سے ‘بی ٹیم کہے جانے پر اویسی نے ترکی بہ ترکی جواب دیتے ہوئے کہاکہ ’’ہم ‘ایم ٹیم (M-Team) ہیں۔ جب گجرات جل رہا تھا، تب ممتا بنرجی مودی حکومت کی حمایت کر رہی تھیں۔ 2004-2005 کی ویڈیوز گواہ ہیں جب ممتا بنرجی خود ‘گھس پیٹھیوں’ کا مسئلہ اٹھا کر ڈپٹی اسپیکر کی میز پر فائلیں پٹخ رہی تھیں۔
انہوں نے نندی گرام واقعے کو یاد دلاتے ہوئے کہا کہ جب مسلم ایم پیز کو وہاں جانے سے روکا گیا تھا، تب ہمایوں کبیر اور میں وہاں پہنچے تھے اور سوبھندو ادھیکاری ہمیں موٹر سائیکل پر بٹھا کر لے گئے تھے۔ تب ممتا بنرجی نے شکریہ ادا کیا تھا اور اب ہم برے ہو گئے؟ یہ خالصتاً موقع پرستی کی سیاست ہے۔
اویسی نے واضح کیا کہ ان کی پارٹی 10سیٹوں پر الیکشن لڑے گی اور دیگر پر AJUP کی حمایت کرے گی۔ ہمایوں کبیر کا دعویٰ ہے کہ وہ 182 سے 192 نشستوں پر مشترکہ امیدوار اتاریں گے اور ریاست بھر میں 20 بڑی ریلیاں کریں گے۔
اویسی نے الیکشن کمیشن کو خبردار کیا کہ اگر انتخابات میں تشدد ہوا تو اس کی ذمہ داری کمیشن پر ہوگی۔ واضح رہے کہ بنگال کی 294 نشستوں کے لیے ووٹنگ 23 اور 29 اپریل کو ہوگی، جبکہ نتائج کا اعلان 4 مئی کو متوقع ہے۔
