ہفتہ 3 جنوری:
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکی افواج نے وینزویلا میں ’بڑے پیمانے پر حملہ‘ کر کے صدر نکولس مادورو کو حراست میں لے لیا ہے۔
صدر ٹرمپ نے سنیچر کو اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ٹروتھ سوشل‘ پر ایک بیان میں کہا ہے کہ امریکہ نے وینزویلا اور اس کے صدر نکولس مادورو کے خلاف ایک بڑے پیمانے پر کارروائی کامیابی سے انجام دی ہے، جس کے نتیجے میں مادورو اور ان کی اہلیہ کو گرفتار کر کے ملک سے باہر منتقل کر دیا گیا ہے۔
امریکی صدر کے مطابق اس کارروائی کے بعد صدر مادورو کو وینزویلا سے باہر منتقل کیا گیا ہے۔
صدر ٹرمپ نے یہ بھی اعلان کیا کہ وہ اس معاملے پر تفصیلات فراہم کرنے کے لیے سنیچر کے روز مقامی وقت کے مطابق صبح گیارہ بجے ( جی ایم ٹی وقت 1600) فلوریڈا میں واقع اپنی رہائش گاہ مار-اے-لاگو میں پریس کانفرنس کریں گے۔
تاحال وینزویلا کی حکومت یا دیگر سرکاری ذرائع کی جانب سے امریکی صدر کے اس دعوے پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔
نیو یارک ٹائمز کو ایک مختصر ٹیلی فونک انٹرویو میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس کارروائی کو ’انتہائی شاندار‘ قرار دیا۔
اخبار کے مطابق ٹرمپ نے کہا کہ ’اس میں بھرپور منصوبہ بندی شامل تھی اور اس میں بہترین، نہایت بہترین فوجی اور قابل لوگ شریک تھے۔‘
صدر ٹرمپ کا یہ اعلان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب بائیں بازو کے رہنما نکولس مادورو اور وینزویلا کی تیل پر انحصار کرنے والی معیشت پر امریکہ کا فوجی اور معاشی دباؤ کئی ماہ سے بتدریج بڑھتا چلا آ رہا تھا۔
امریکی صدر نے دسمبر میں کہا تھا کہ صدر مادورو کے لیے اقتدار چھوڑ دینا ’دانشمندی‘ ہو گی، جبکہ وہ یہ بھی کہہ چکے ہیں کہ وینزویلا کے صدر کے ’دن گنے جا چکے ہیں۔‘
امریکہ صدر نکولس مادورو کی ’زندگی کا ثبوت‘ فراہم کرے
وینزویلا کی نائب صدر ڈیلسی روڈریگز نے سنیچر کے روز امریکہ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ صدر نکولس مادورو کی ’زندگی کا ثبوت‘ فراہم کرے، جن کے بارے میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ انھیں امریکی افواج نے گرفتار کر لیا ہے۔
نائب صدر ڈیلسی روڈریگز نے ایک ٹیلی فونک گفتگو میں وینزویلا کے سرکاری ٹیلی وژن کو بتایا کہ امریکی حملوں کے بعد وہ صدر مادورو اور ان کی اہلیہ سیلیا فلوریس کے ٹھکانے سے لاعلم ہیں۔
دوسری جانب وینزویلا کے وزیر دفاع ولادی میر پیدرینو لوپیز نے سوشل میڈیا پر جاری ایک ویڈیو بیان میں کہا کہ ’دراندازی کرنے والی‘ امریکی افواج نے وینزویلا کی سرزمین کی بے حرمتی کی ہے اور یہاں تک کہ اپنے جنگی ہیلی کاپٹروں سے داغے گئے میزائلوں اور راکٹوں کے ذریعے شہری آبادی والے علاقوں کو بھی نشانہ بنایا۔
انہوں نے مزید کہا کہ ان کا ملک اپنی ’ہمہ
گیر دفاعی حکمتِ عملی‘ کے تحت بری، فضائی، بحری، دریائی اور میزائل صلاحیتوں پر مشتمل ایک بڑے پیمانے پر تعیناتی کرے گا۔
کاراکس میں دھماکے
وینزویلا کے دارالحکومت کاراکاس میں سنیچر کی صبح تقریباً دو بجے (صبح چھ بجے مطابق جی ایم ٹی ٹائم) زور دار دھماکوں کی آوازیں سنی گئی تھیں، جن کے ساتھ طیاروں کی پرواز جیسی آوازیں بھی شامل تھیں۔ خبر رساں ادارے اے ایف پی کے ایک صحافی نے اس کی تصدیق کی ہے۔
یہ دھماکے ایسے وقت میں سنے گئے ہیں جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وینزویلا کے خلاف زمینی حملوں کے امکان کا عندیہ دیا ہے۔ خیال رہے کہ امریکہ نے بحیرہ کیریبین میں بحری ٹاسک فورس تعینات کر رکھی ہے۔
رات تقریباً دو بج کر 15 منٹ تک بھی دھماکوں کی آوازیں سنائی دیتی رہیں، تاہم ان کا درست مقام واضح نہیں ہو سکا۔
وینزویلا میں ایمرجنسی کے نفاذ کا اعلان
اس واقعے کے بعد وینزویلا کے صدر نکولس مادورو نے ملک میں ہنگامی حالت (سٹیٹ آف ایمرجنسی) نافذ کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔
ان کی حکومت نے اسے دارالحکومت کاراکاس پر امریکہ کی جانب سے کی جانے والی ’انتہائی سنگین فوجی جارحیت‘ قرار دیا ہے۔
نکولس مادورو حکومت کا کہنا تھا کہ ’وینزویلا بین الاقوامی برادری کے سامنے امریکہ کی موجودہ حکومت کی جانب سے وینزویلا کی سرزمین اور عوام کے خلاف کی جانے والی انتہائی سنگین فوجی جارحیت کو مسترد کرتا ہے، اس کی مذمت کرتا ہے اور اسے بے نقاب کرتا ہے۔‘
صدر نکولس مادورو نے جمعرات کو کہا تھا کہ وہ امریکہ کی جانب سے کئی ہفتوں کے فوجی دباؤ کے بعد واشنگٹن کے ساتھ تعاون کے لیے تیار ہیں۔
ٹرمپ انتظامیہ نے صدر مادورو پر منشیات کے ایک کارٹیل کی قیادت کا الزام عائد کیا ہے اور کہا ہے کہ وہ منشیات کی سمگلنگ کے خلاف کارروائیاں کر رہی ہے۔ تاہم بائیں بازو کے رہنما نکولس مادورو ان الزامات کی تردید کرتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ واشنگٹن انہیں اقتدار سے ہٹانا چاہتا ہے کیونکہ وینزویلا کے پاس دنیا میں تیل کے سب سے بڑے معلوم ذخائر موجود ہیں۔
