Thursday, February 5, 2026
homeاہم خبریںووٹ چوری پر راہل گاندھی کے سوالات ۔ الیکشن کمیشن اور بی...

ووٹ چوری پر راہل گاندھی کے سوالات ۔ الیکشن کمیشن اور بی جے پی کے تعلقات کو بے نقاب کیا

راہل گاندھی نے ’انتخابی اصلاحات‘ کو انتہائی آسان قرار دیا اور کہا کہ حکومت انتخابی اصلاحات کرنا ہی نہیں چاہتی۔

نئی دہلی : انصاف نیوز آن لائن

لوک سبھا میں حزب اختلاف کے قائد راہل گاندھی نے آج ایوان زیریں میں ’انتخابی اصلاحات‘ پر بحث میں حصہ لیتے ہوئے ’ووٹ چوری‘ کو موجودہ وقت کا سب سے بڑا ملک دشمن عمل قرار دیا۔ انھوں نے اپنی آواز مضبوطی کے ساتھ رکھتے ہوئے مرکز کی مودی حکومت اور الیکشن کمیشن کو ہدف تنقید بنایا۔ انھوں نے کہا کہ ’’سب سے بڑا ملک دشمن کام، جو آپ کر سکتے ہیں، وہ ووٹ چوری ہے۔‘‘ وہ مزید کہتے ہیں کہ ’’ایسا اس لیے، کیونکہ جب آپ ووٹ کی چوری کرتے ہیں، تو اس کا مطلب ہے کہ آپ ملک کے تانے بانے کو برباد کر رہے ہیں، آپ جدید ہندوستان کو تباہ کر رہے ہیں، آپ ہندوستان کے حقیقی تصور کو مجروح کر رہے ہیں۔‘‘

راہل گاندھی نے اپنی تقریر کے دوران برسراقتدار طبقہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے ان پر ’ووٹ چوری‘ کا سنگین الزام عائد کیا۔ انھوں نے کہا کہ ’’جو لوگ سامنے والی صف میں بیٹھے ہیں، وہ ایک ملک دشمن عمل انجام دے رہے ہیں۔‘‘ اپنی تقریر کے دوران راہل گاندھی نے ناتھورام گوڈسے کے ذریعہ مہاتما گاندھی کو قتل کیے جانے کا ذکر بھی کیا۔ وہ کہتے ہیں کہ ’’30 جنوری 1948 کو مہاتما گاندھی جی کے سینے میں 3 گولیاں اتار دی گئیں۔ ناتھورام گوڈسے نے ہمارے بابائے قوم کا قتل کر دیا۔ آج ہمارے دوست اس سلسلے میں بات نہیں کرتے، بلکہ دور بھاگتے ہیں، کیونکہ یہ ایک ایسی حقیقت ہے جو انھیں مشکل میں ڈال دیتی ہے۔‘‘

اپنی بات کو آگے بڑھاتے ہوئے راہل گاندھی کہتے ہیں کہ ’’منصوبہ وہیں (مہاتما گاندھی کے قتل پر) ختم نہیں ہوا تھا۔ گاندھی جی کے قتل کے بعد اس منصوبے کا اگلا مرحلہ ہندوستان کے ادارہ جاتی ڈھانچے پر مکمل قبضہ تھا۔‘‘ وہ یہ بھی واضح کرتے ہیں کہ ’’ہر چیز، تمام ادارے ’ووٹ‘ (کی طاقت) سے وجود میں آئے ہیں۔ اس لیے یہ بالکل واضح تھا کہ آر ایس ایس کو (اپنا خواب پورا کرنے کے لیے) ان تمام اداروں پر قبضہ کرنا ہوگا۔ یہی وجہ ہے کہ آر ایس ایس کا منصوبہ ملک کے ادارہ جاتی ڈھانچے پر قبضہ کرنا تھا۔‘‘ وہ موجودہ حالات میں اس کی مثال بھی پیش کرتے ہیں، جو اس طرح ہیں:

تعلیم کا نظام قبضے میں لیا جا چکا ہے۔ ایک کے بعد ایک وائس چانسلر مقرر کیے جا رہے ہیں، لیکن ان کی صلاحیت کی بنیاد پر نہیں۔ انھیں قابلیت یا سائنسی ذہنیت کی بنیاد پر نہیں رکھا جاتا، بلکہ اس بنیاد پر رکھا جاتا ہے کہ وہ ایک مخصوص تنظیم سے تعلق رکھتا ہے۔

دوسرا قبضہ وہ ہے جو جمہوریت کو تباہ کرنے میں مدد دیتا ہے، یعنی خفیہ ایجنسیوں پر قبضہ۔ سی بی آئی، ای ڈی، انکم ٹیکس ڈپارٹمنٹ پر کنٹرول، اور اس (آر ایس ایس) نظریے کے حامل بیوروکریٹس کی منظم تعیناتی، جو ان کی سوچ کی حمایت کرتے ہیں اور مخالف پارٹیوں سمیت ہر اس شخص کو نشانہ بناتے ہیں جو آر ایس ایس کی مخالفت کرے۔

تیسرا ادارہ جاتی قبضہ اُس ادارے پر ہے جو براہِ راست ہمارے ملک کے انتخابی نظام کو کنٹرول کرتا ہے، یعنی الیکشن کمیشن۔

راہل گاندھی ان مثالوں کو پیش کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ میں یہ بات بغیر ثبوت کے نہیں کہہ رہا۔ میں اس بارے میں کافی ثبوت سامنے رکھ چکا ہوں کہ الیکشن کمیشن کس طرح اقتدار والوں کے ساتھ مل کر انتخابات کی شکل بدل رہا ہے۔

کانگریس کے سابق صدر اور لوک سبھا میں حزب اختلاف کے قائد راہل گاندھی نے آج ایوانِ زیریں میں 3 ایسے سوالات سامنے رکھے، جس نے الیکشن کمیشن پر بی جے پی کا کنٹرول ایک طرح سے واضح کر دیا۔ انھوں نے ’انتخابی اصلاحات‘ پر بحث کے دوران یہ 3 سوالات پیش کیے۔ انھوں نے کہا کہ ’’میں 3 سوالات پوچھنا چاہتا ہوں، جن سے یہ بالکل واضح ہو جائے گا کہ بی جے پی الیکشن کمیشن کو ہدایت دے رہی ہے اور اسے استعمال کر رہی ہے، تاکہ ہندوستان کی جمہوریت کو نقصان پہنچایا جا سکے۔‘‘ جو 3 سوالات راہل گاندھی نے پوچھے، وہ اس طرح ہیں—

پہلا سوال:
آخر چیف جسٹس آف انڈیا کو الیکشن کمشنر کے انتخابی پینل سے کیوں ہٹایا گیا؟ انہیں ہٹانے کی کیا وجہ ہو سکتی ہے؟ کیا ہم چیف جسٹس پر بھروسہ نہیں رکھتے؟ ظاہر ہے رکھتے ہیں۔ پھر وہ اُس کمرے میں کیوں موجود نہیں؟ میں اُس کمرے میں بیٹھتا ہوں۔ یہ نام نہاد جمہوری فیصلہ ہے۔ ایک طرف وزیر اعظم نریندر مودی اور وزیر داخلہ امت شاہ، دوسری طرف اپوزیشن لیڈر۔ اُس کمرے میں میری کوئی آواز نہیں ہوتی۔ جو فیصلہ وہ کرتے ہیں، وہی ہوتا ہے۔ آخر وزیر اعظم اور امت شاہ اس بات پر اتنے مجبور کیوں ہیں کہ وہی طے کریں کہ الیکشن کمشنر کون ہو؟

دوسرا سوال:
یہ سوال بہت سنگین ہے۔ ہندوستان کی تاریخ میں کسی بھی وزیر اعظم نے ایسا نہیں کیا۔ دسمبر 2023 میں اس حکومت نے قانون بدل دیا۔ قانون میں ایسی تبدیلی کی گئی کہ الیکشن کمشنرز کو اپنے عہدے کے دوران کیے گئے کسی بھی عمل پر سزا نہیں دی جا سکتی۔ وزیر اعظم اور وزیر داخلہ الیکشن کمشنر کو ایسی بے مثال چھوٹ کیوں دینا چاہتے ہیں؟ یہ غیر معمولی تحفہ دینے کی ضرورت انہیں کیوں پیش آئی، جو آج تک کسی وزیر اعظم نے نہیں دیا؟

تیسرا سوال:
سی سی ٹی وی کیمروں اور ان کے ڈاٹا سے متعلق قانون کیوں بدلا گیا؟ ایسا قانون کیوں بنایا گیا کہ الیکشن کمیشن انتخابات کے 45 دن بعد سی سی ٹی وی فوٹیج کو ضائع کر سکتا ہے؟ اس کی ضرورت کیا ہے؟ جواب دیا گیا کہ یہ ڈاٹا کا مسئلہ ہے۔ لیکن یہ ڈاٹا کا مسئلہ نہیں ہے۔ یہ انتخابات چوری کرنے کا مسئلہ ہے۔

اپنی تقریر کے دوران راہل گاندھی نے ’انتخابی اصلاحات‘ کو انتہائی آسان قرار دیا اور کہا کہ حکومت انتخابی اصلاحات کرنا ہی نہیں چاہتی۔ وہ کہتے ہیں کہ انتخابی اصلاحات کے لیے کیا چاہیے؟ بس وہی جو ہم ہمیشہ سے کہہ رہے ہیں۔ یعنی:

مشین سے پڑھے جانے والے ووٹر لسٹ انتخابات سے ایک ماہ قبل تمام سیاسی پارٹیوں کو فراہم کی جائیں۔

اس قانون کو واپس لیا جائے جو سی سی ٹی وی فوٹیج کو ضائع کرنے کی اجازت دیتا ہے۔ یہ کرتے ہوئے ہمیں یہ بھی بتایا جائے کہ ای وی ایم کی آرکیٹکچر (بناوٹ) کیا ہے۔ ہمیں ای وی ایم تک رسائی دی جائے۔ ہمارے ماہرین کو ای وی ایم کے اندر جا کر دیکھنے دیا جائے کہ اس کے اندر کیا ہے۔ آج تک ہمیں ای وی ایم تک رسائی نہیں ملی۔

اس قانون میں تبدیلی کی جائے جو الیکشن کمشنر کو ہر طرح کے عمل پر مکمل چھوٹ دیتا ہے۔ انتخابی اصلاحات کے لیے بس اتنا ہی کافی ہے۔

راہل گاندھی نے تنبیہ والے انداز میں کہا کہ ’’میں الیکشن کمشنر کو یقین دلانا چاہتا ہوں کہ فکر نہ کریں، ہم یہ قانون بدلنے والے ہیں۔ شاید انھیں لگتا ہو کہ یہ قانون انھیں بچا لے گا، لیکن ایسا نہیں ہونے والا۔‘‘ وہ یہ عزم بھی ظاہر کرتے ہیں کہ ’’قانون بدلا جائے گا اور وہ بھی ماضی سے نافذ کرنے کے ساتھ، اور ہم آ کر آپ کو ڈھونڈ نکالیں گے۔‘‘

متعلقہ خبریں

تازہ ترین