Thursday, February 19, 2026
homeاہم خبریںآر ایس ایس چیف کا ’گھر واپسی‘ کا بیان آئینی اقدار کے...

آر ایس ایس چیف کا ’گھر واپسی‘ کا بیان آئینی اقدار کے لیے خطرہ: مولانا ارشد مدنی

نئی دہلی:
جمعیت علماء ہند کے صدر مولانا سید ارشد مدنی نے آر ایس ایس (RSS) کے سربراہ موہن بھاگوت کے ’گھر واپسی‘ (ہندو مذہب میں واپسی) کی مہم تیز کرنے سے متعلق حالیہ بیان کی سخت مذمت کی ہے۔ انہوں نے اس بیان کو غیر معمولی، تشویشناک اور بھارت کے سیکولر ڈھانچے کے لیے انتہائی خطرناک قرار دیا ہے۔

ملک کو دشمنی کی طرف دھکیلنے کی کوشش بدھ کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ (X) پر اپنی پوسٹ میں مولانا مدنی نے کہا کہ گزشتہ سات دہائیوں میں کبھی ایسی بات نہیں سنی گئی کہ “20 کروڑ مسلمانوں” کی گھر واپسی کا انتظام کیا جائے گا۔ انہوں نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ ایسی بیان بازی جو ملک کو تباہی، بے چینی اور باہمی دشمنی کی طرف دھکیلتی ہو، اسے کسی بھی صورت میں ملک کے ساتھ وفاداری نہیں کہا جا سکتا۔

موہن بھاگوت کا متنازعہ بیان مولانا مدنی کا یہ ردعمل آر ایس ایس سربراہ کے اس بیان کے بعد سامنے آیا ہے جس میں انہوں نے لکھنؤ میں ایک اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے ہندو معاشرے کو متحد ہونے اور ’گھر واپسی‘ کی کوششوں میں تیزی لانے کی اپیل کی تھی۔ بھاگوت نے ہندوؤں کی آبادی میں کمی اور مبینہ جبری تبدیلیِ مذہب پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے تنظیم سازی پر زور دیا تھا۔

مولانا ارشد مدنی نے ملک کی موجودہ صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ گائے کے تحفظ کے نام پر ہونے والی ماب لنچنگ (ہجوم کے ہاتھوں قتل) کے واقعات اس بات کا ثبوت ہیں کہ ملک میں “قتل و غارت اور تشدد کی فضا” پیدا کی جا رہی ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ حکومت ایسے واقعات پر خاموش ہے، جبکہ کچھ عناصر مسلسل یہ پروپیگنڈا کر رہے ہیں کہ بھارت میں صرف ایک خاص نظریے کے ماننے والوں کو رہنے کا حق ہے۔ مولانا مدنی نے اسے بھارتی آئین کی “کھلی خلاف ورزی” قرار دیا۔

کسی تنظیم کا براہ راست نام لیے بغیر انہوں نے متنبہ کیا کہ مخصوص نظریات ملک کے اتحاد، سالمیت اور امن کے لیے سنگین خطرہ ہیں۔ انہوں نے جمعیت علماء ہند کے اس عزم کو دہرایا کہ وہ فرقہ وارانہ اور نفرت پر مبنی سیاست کی مخالفت جاری رکھیں گے۔

اپنے بیان کے آخر میں مولانا مدنی نے واضح کیا کہ مسلمان اپنے ایمان پر ثابت قدم رہیں گے۔ انہوں نے زور دیا کہ بھارت میں پائیدار امن صرف سیکولر آئینی فریم ورک کے تحت ہی ممکن ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کوئی بھی مذہب تشدد کی اجازت نہیں دیتا اور جو لوگ مذہب کو نفرت پھیلانے کے لیے استعمال کرتے ہیں، وہ اپنے مذہب کے سچے پیروکار نہیں ہو سکتے۔

متعلقہ خبریں

تازہ ترین