نئی دہلی/ کولکاتا سپریم کورٹ نے مغربی بنگال کے ضلع مالدہ میں ووٹر لسٹوں کی جانچ کرنے والے جوڈیشل افسران پر ہجوم کے حملے اور انہیں 8 گھنٹے تک محبوس رکھنے کے واقعے پر شدید برہمی کا اظہار کیا ہے۔ عدالت نے اسے ریاست کی سول اور پولیس انتظامیہ کی “مکمل ناکامی” قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ واقعہ محض اتفاق نہیں بلکہ ایک سوچی سمجھی سازش اور منصوبہ بند کارروائی معلوم ہوتی ہے۔
سپریم کورٹ کے تلخ ریمارکس
چیف جسٹس آف انڈیا، جسٹس سوریہ کانت کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کلکتہ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کے خط کا حوالہ دیتے ہوئے نوٹ کیا کہ مالدہ میں جوڈیشل افسران کو رات ساڑھے آٹھ بجے تک کوئی مدد نہیں ملی۔ ریاست کی جانب سے الیکشن کمیشن (ECI) پر ذمہ داری ڈالنے کی کوشش پر چیف جسٹس نے سوال کیا:
> “سیاسی لیڈرز کیا کر رہے تھے؟ کیا ان کی ذمہ داری نہیں تھی کہ وہ موقع پر پہنچ کر صورتحال کا جائزہ لیتے؟”
بنگال کے ایڈووکیٹ جنرل کشور دتہ کو مخاطب کرتے ہوئے چیف جسٹس نے سخت لہجے میں کہا:
> “بدقسمتی سے آپ کی ریاست میں سب سیاسی زبان بولتے ہیں۔ ہم نے کبھی اتنی پولرائزڈ (تقسیم شدہ) ریاست نہیں دیکھی جہاں عدالت کے احکامات کی تعمیل میں بھی سیاست نظر آتی ہے۔ میں خود رات دو بجے تک صورتحال مانیٹر کر رہا تھا، یہ سب انتہائی افسوسناک ہے۔”
عدالتی اتھارٹی کو چیلنج
جسٹس جے مالیہ باگچی اور جسٹس وپول پنچولی پر مشتمل بینچ نے واضح کیا کہ یہ صرف افسران کو دبانے کی کوشش نہیں بلکہ براہِ راست عدالت کی اتھارٹی کو چیلنج کرنا ہے۔ عدالت نے کہا کہ اس کارروائی کا مقصد عدالتی افسران کی ہمت شکنی کرنا اور انتخابی عمل میں رکاوٹ ڈالنا تھا، جو کہ ‘کریمنل کنٹیمپٹ’ (توہینِ عدالت) کے زمرے میں آتا ہے۔
عدالت نے چیف سیکریٹری، ہوم سیکریٹری، ڈی جی پی، کلکٹر اور ایس پی مالدہ کے رویے کو “قابلِ مذمت” قرار دیتے ہوئے انہیں نوٹس جاری کیا اور 6 اپریل کو ورچوئلی پیش ہونے کا حکم دیا۔ ساتھ ہی الیکشن کمیشن کو ہدایت دی کہ واقعے کی تفتیشCBI یا NIA جیسی کسی آزاد ایجنسی سے کرائی جائے۔
ممتا بنرجی کی اپیل: ‘انتظامیہ میرے ہاتھ میں نہیں’
دوسری طرف، وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی نے مرشدآباد میں ایک ریلی کے دوران سپریم کورٹ کے ریمارکس سے اتفاق کرتے ہوئے عوام سے پرامن رہنے کی اپیل کی۔ انہوں نے کہا:
> “آج سپریم کورٹ نے جو کچھ کہا ہے وہ بالکل درست ہے۔ مجھے مالدہ کے واقعے کی کوئی اطلاع نہیں تھی، چیف سیکریٹری نے مجھے ایک بار بھی فون نہیں کیا۔ میں نے ایک صحافی کے ذریعے جانا کہ ججوں کو گھیر لیا گیا ہے۔”
ممتا بنرجی نے واضح کیا کہ چونکہ انتخابات کا عمل جاری ہے، اس لیے ریاستی انتظامیہ اب ان کے نہیں بلکہ الیکشن کمیشن کے کنٹرول میں ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ بی جے پی “غداروں” کے ذریعے لوگوں کو اشتعال دلا رہی ہے تاکہ ریاست میں صدر راج نافذ کرنے کا بہانہ مل سکے۔ انہوں نے متاثرہ ووٹرز کو یقین دلایا کہ حکومت ٹریبونل میں اپیل کے لیے انہیں مفت قانونی مدد فراہم کرے گی۔
پس منظر: مالدہ کی صورتحال
واضح رہے کہ مالدہ کے کلیاچوک-II بلاک میں ووٹر لسٹوں سے نام حذف کیے جانے کے خلاف احتجاج کرنے والے دیہاتیوں نے سات جوڈیشل افسران (بشمول تین خواتین) کا 8 گھنٹے تک محاصرہ کیے رکھا۔ رات گئے پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے انہیں باہر نکالا، جس کے دوران پتھراؤ سے ایک کانسٹیبل اور دو شہری زخمی بھی ہوئے۔ فی الوقت جوڈیشل افسران 60 لاکھ میں سے 49 لاکھ کیسز کا فیصلہ کر چکے ہیں، جبکہ بقیہ شکایات کے لیے 19 ٹریبونلز قائم کیے جا رہے ہیں۔
