Wednesday, February 11, 2026
homeاہم خبریںمرشدآباد میں فہیم اختر کی ادبی خدمات پر سیمینار کا انعقاد

مرشدآباد میں فہیم اختر کی ادبی خدمات پر سیمینار کا انعقاد

کلکتہ: انصاف نیوز آن لائن

مرشدآباد کے دو سو سالہ قدیم نواب بہادر ہائی اسکول میں لندن میں مقیم معروف شاعر و ادیب فہیم اختر کی ادبی خدمات پر ایک سیمینار کا انعقاد کیا گیا۔ اس موقع پر سپریم کورٹ آف انڈیا کے سینئر وکیل خلیل الرحمن نے کلیدی خطاب کرتے ہوئے کہا کہ فہیم اختر نے لندن میں اپنے ادبی و تخلیقی سفر کا آغاز کیا۔ مغرب اور برصغیر کے شعری رجحانات میں نمایاں فرق پایا جاتا ہے، تاہم فہیم اختر کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ انہوں نے دونوں رجحانات سے بھرپور استفادہ کیا ہے اور اپنے تخلیقی سفر میں حقائق، معروضیت اور فطرت کو سمویا ہے۔

انہوں نے کہا کہ فہیم اختر کے اشعار میں اردو کے بھاری بھرکم الفاظ کم ملتے ہیں۔ وہ سہل اور سادہ انداز میں شاعری کرتے ہیں، مگر ان کے اشعار معنویت سے بھرپور ہوتے ہیں۔

خلیل الرحمن نے مرشدآباد کی تاریخی حیثیت اور اردو کے فروغ میں اس کے کردار پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ مرشدآباد ایک زمانے میں اردو کا اہم مرکز ہوا کرتا تھا۔ اگرچہ وقت کے ساتھ حالات میں تبدیلی آئی ہے، تاہم آج جس بڑی تعداد میں لوگ اس پروگرام میں شریک ہوئے اور جس ذوق و شوق کا مظاہرہ کیا گیا، اس سے ایک نئی امید پیدا ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اردو کی بستیاں وقتی طور پر ویران ضرور ہوتی ہیں، مگر جلد ہی وہ دوبارہ سرسبز و شاداب ہو جاتی ہیں۔

سابق آئی پی ایس افسر سید محمد حسین مرزا نے مرشدآباد اور نواب بہادر ہائی اسکول کا مختصر تعارف پیش کرتے ہوئے کہا کہ نظامت کے دور سے ہی مرشدآباد ایک اہم ادبی مرکز رہا ہے، جہاں شعرا کی ہمیشہ پذیرائی کی جاتی رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے لیے یہ باعثِ فخر ہے کہ ہم فہیم اختر کا استقبال کر رہے ہیں۔ عام طور پر تارکینِ وطن کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ صرف اپنا وطن ہی نہیں چھوڑتے بلکہ اپنی تہذیب و ثقافت سے بھی دور ہو جاتے ہیں، مگر فہیم اختر کی نمایاں خوبی یہ ہے کہ انہوں نے لندن میں رہتے ہوئے بھی اپنی اردو تہذیب سے مضبوط وابستگی قائم رکھی ہے اور وہاں بھی اپنا تخلیقی سفر جاری رکھے ہوئے ہیں۔ مرشدآباد کی سرزمین پر ان کا استقبال کرنا ہمارے لیے باعثِ مسرت ہے۔

filter: 0; fileterIntensity: 0.000000; filterMask: 0; captureOrientation: 0;
hdrForward: 0; shaking: 0.007517; highlight: 1; algolist: 0;
multi-frame: 1;
brp_mask: 8;
brp_del_th: 0.0000,0.0003;
brp_del_sen: 0.1000,0.1000;
delta:null;
module: photo;hw-remosaic: false;touch: (0.4613887, 0.5415624);sceneMode: 3145728;cct_value: 0;AI_Scene: (-1, -1);aec_lux: 262.0;aec_lux_index: 0;albedo: ;confidence: ;motionLevel: 0;weatherinfo: null;temperature: 45;zeissColor: bright;

اس موقع پر فہیم اختر نے نواب بہادر اسکول کی انتظامیہ اور مرشدآباد کالج کے استاذ سید محمد مہتاب جاہ، جو اس پروگرام کے کنوینر ہیں، کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ مرشدآباد تہذیب و ثقافت کا اہم مرکز رہا ہے اور آج اہلِ مرشدآباد کی ضیافت اور مہمان نوازی نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ یہ شہر زندہ دل لوگوں کا شہر ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک ایسے وقت میں جب قارئین کی تعداد کم ہو رہی ہے اور اردو ایک بحرانی دور سے گزر رہی ہے، تخلیقی معیار میں بھی کسی حد تک گراوٹ آئی ہے۔ ایسے میں کسی شاعر اور تخلیق کار کی خدمات کے اعتراف میں اتنے کامیاب سمپوزیم کا انعقاد بذاتِ خود بڑی کامیابی ہے۔

دو مختلف نشستوں میں ملک کے مختلف حصوں سے آئے مقالہ نگاروں نے فہیم اختر کی ادبی خدمات پر مختلف زاویوں سے روشنی ڈالی۔ سمپوزیم کے بعد فہیم اختر کی صدارت میں ایک مشاعرہ بھی منعقد کیا گیا۔

اس موقع پر محمد اظہار کریم، پرویزاخترسہنور حسین، منور حسین، عالمگیر رضوی، ڈاکٹر اسما کوثر، مجیب الرحمن، سلیم الدین، ڈاکٹر محمد کاشف، سید مہتاب جاہ اور محترمہ صبا سمیت دیگر معزز شخصیات موجود تھیں۔

متعلقہ خبریں

تازہ ترین