افروز عالم ساحل
بٹلہ ہاؤس انکاؤنٹر کو سترہ برس ہو گئے، مگر ان سترہ برسوں کے بعد بھی اس کے زخم اعظم گڑھ کے کئی گھروں میں ہرے ہیں۔ انکاؤنٹر کے بعد گرفتار کئے گئے نوجوانوں میں سے ایک دو کو چھوڑ کر باقی سب اب بھی جیل میں قید ہیں۔ ان میں سے کئی پر مختلف شہروں میں مقدمات درج ہیں۔ ایک کے بعد ایک، عدالتوں کے چکر، وکلاء کی فیس، اور امید و ناامیدی کا مسلسل سفر جاری ہے۔ انہی نوجوانوں میں ایک نام شہزاد کا بھی ہے، جو جیل میں ہی دم توڑ گیا۔ اس معاملے کا سب سے دردناک پہلو یہ ہے کہ ان لڑکوں کے اہل خانہ آج بھی خوف میں جیتے ہیں۔ بیشتر ماں باپ، بھائی بہن اور رشتہ دار اس موضوع پر بات کرنے سے کتراتے ہیں۔ انہیں ڈر ہے کہ اگر میڈیا میں کچھ کہہ دیا، یا کسی نے ان کے بیٹے کا نام دوبارہ لے لیا، تو کہیں عدالت میں ان کے بچے کا نقصان نہ ہو جائے۔ اس بات کا اندازہ گزشتہ دو تین دنوں میں ہوا، جب میں نے اس معاملے سے جڑے ایکٹوسٹوں یا گھر والوں سے بات کرنے کی کوشش کی۔ کوئی بھی آن ریکارڈ بات کرنے کو تیار نہیں ہوا۔
دراصل، ان گھروں کے حالات بڑے نازک ہیں۔ کئی والدین اپنے بچے کے صدمے میں اس دنیا کو الوداع کہہ چکے ہیں۔ انکاؤنٹر میں مارے گئے عاطف امین کے والد اور ان کے بھائی بھی اب اس دنیا میں نہیں رہے۔ اب گھر میں صرف ان کی ماں ہیں۔ وہیں اسی انکاؤنٹر میں مارے گئے محمد ساجد عرف چھوٹا ساجد کے والد بھی صدمے میں چل بسے ہیں۔ محمد سلمان کے دادا تو وہیں عارف بدر، محمد عارض خان اور ابو راشد کے والد بھی صدمے میں اس دنیا سے چلے گئے ہیں۔ اس طرح سے دیکھا جائے تو جتنے بھی بچے جیل میں ہیں، زیادہ تر کے گھروں میں کسی نہ کسی کا انتقال ضرور ہوا ہے۔
بتادیں کہ 19 ستمبر 2008 کو دہلی کے جامعہ نگر میں بٹلہ ہاؤس کے ایل 18 فلیٹ میں مبینہ طور پر پولیس ’انکاؤنٹر‘ کے دوران دو مسلم نوجوان عاطف امین اور محمد ساجد مارے گئے تھے۔ عاطف جامعہ ملیہ اسلامیہ میں ایم اے ہیومن رائٹس کا طالب علم تھا جبکہ ساجد گیارہویں میں داخلہ کی تیاری کے لیے دہلی آیا ہوا تھا۔ ان دونوں پر 2008 کے دہلی سیریل بم دھماکوں کو انجام دینے کا الزام لگایا گیا اور کہا گیا کہ یہ انڈین مجاہدین کے رکن تھے۔ اس ’انکاؤنٹر‘ میں دہلی پولیس اسپیشل سیل کے انسپکٹر موہن چند شرما کی بھی موت ہوئی تھی۔
اس کے بعد ملک میں مسلم نوجوانوں کی گرفتاریوں کا سلسلہ شروع ہوا۔ صرف اعظم گڑھ سے ہی انڈین مجاہدین کا ’دہشت گرد‘ بتا کر چودہ مسلم نوجوانوں کی گرفتاری ہوئی۔ ان کے نام ملک کے متعدد بم دھماکوں کے ساتھ جوڑ دیے گئے۔ وہیں اس معاملے میں سات نوجوانوں کو مفرور قرار دیا گیا، حالانکہ پانچ سال بعد اس فہرست میں محمد راشد، شرف الدین اور شاداب کے نام کے ساتھ یہ تعداد دس ہوگئی۔ ان تینوں کے خلاف این آئی اے نے سال 2012 میں ایک ایف آئی آر درج کی اور ان پر انسداد غیر قانونی سرگرمیوں کی دفعات لگائی گئیں حالانکہ ان کے ایف آئی آر میں کسی واقعے کا ذکر نہیں تھا۔ گرفتار نوجوان ابھی بھی ہندوستان کی مختلف جیلوں میں بند ہیں اور ان کے گھر والے انصاف پانے کی جدوجہد میں لگے ہوئے ہیں۔
اعظم گڑھ سے گرفتار ان نوجوانوں کے ناموں کو 13 مئی 2008 کے جے پور سیریل دھماکے، 26 جولائی 2008 کو احمد آباد میں ہوئے دھماکے، سورت میں زندہ بموں کی بازیابی، 13 ستمبر 2008 کو دہلی دھماکے، 23 نومبر 2007 کو اتر پردیش کے وارانسی، فیض آباد اور لکھنؤ کی کچہریوں میں ہوئے سلسلے وار دھماکے اور 22 مئی 2007 کو گورکھپور گول گھر دھماکے سمیت کئی معاملوں میں جوڑ دیا گیا۔
اگر جئے پور معاملے کی بات کی جائے تو یہاں کل آٹھ مقدمے الگ الگ چل رہے تھے۔ مجموعی طور پر تقریباً 1200 گواہ تھے۔ 2019 میں جے پور کی ایک خصوصی عدالت کے ذریعہ محمد سیف، محمد سرور عزمی، سیف الرحمٰن اور محمد سلمان کو سزائے موت دی گئی ،جبکہ ایک ملزم شہباز حسین کو عدم ثبوت کی بنا پر بری کر دیا گیا۔ لیکن 29 مارچ 2023 کو راجستھان ہائی کورٹ نے نہ صرف پولیس کی ’ناقص‘ اور ’ناکام‘ تفتیش کو مسترد کر دیا، بلکہ شواہد میں ’ہیرا پھیری اور جعل سازی‘ کی نشاندہی بھی کی۔ راجستھان ہائی کورٹ نے صاف طور پر کہا کہ اس مقدمے کی تحقیقات منصفانہ نہیں تھیں اور تحقیقاتی افسران نے ’غیر اخلاقی طریقے‘ استعمال کئے۔ججوں نے راجستھان پولیس کے سربراہ کو یہ تک ہدایت دی کہ تفتیشی افسران کے خلاف کارروائی کریں۔ ایک خبر کے مطابق، ریاستی حکومت ہائی کورٹ کے اس فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ بھی گئی ہے۔
وہیں، اب اس فیصلے کے بعد ایک نویں ایف آئی آر کے تحت جس میں کہا گیا کہ 13 مئی 2008 کوجے پور میں نواں بم چند پول بازار کے ایک گیسٹ ہاؤس کے قریب برآمد ہوا تھا، جسے دھماکے سے محض 15 منٹ قبل ناکارہ بنا دیا گیا، یوں ایک اور بڑی تباہی ٹل گئی، ان پر پھر سے معاملہ شروع ہوا۔ اور اب پھر سے اسی سال 04 اپریل 2025 کو جے پور کی خصوصی عدالت نے سیف الرحمٰن، محمد سیف، محمد سرور عزمی اور شہباز احمد کو سخت عمر قید کی سزا سنائی ہے۔ اب یہ معاملہ پھر سے راجستھان ہائی کورٹ میں ہے، اور اس نے ۱۳ مئی ۲۰۲۵ کو شہباز احمد کے ریکارڈ طلب کئے ہیں، جب وہ اپنی سزا کے خلاف اپیل کی سماعت کے لیے پیش ہوا۔ اس سلسلے میں عدالت نے ریاستی حکومت کو بھی نوٹس جاری کیا ہے۔
اگر بات احمد آباد کی کریں تو یہاں کے تمام معاملات کو مستحکم کر کے سیشن ٹرائل نمبر 38/2009 کے تحت مقدموں کی سماعت جاری ہے۔ یہاں 3500 سے زائد گواہ ہیں۔ اور تمام گرفتار نوجوان بطور ملزم جیلوں میں قید ہیں۔ وہیں دہلی سیریئل دھماکے معاملے میں تقریباً ایک ہزار گواہ ہیں۔ ثاقب نثار نے اپنی ضمانت کے لئے ٹرائل کورٹ کے جولائی 2022 کی اس حکم کو چیلنج کیا تھا جس نے اسے انسداد غیر قانونی سرگرمیاں ایکٹ (UAPA) کے تحت درج مقدمے میں ضمانت دینے سے انکار کیا تھا، لیکن ثاقب کے اپیل کو ۲۹ اپریل ۲۰۲۴ کو خارج کردیا۔ معاملہ ابھی بھی ٹرائل کورٹ میں ہی ہے۔
وہیں بٹلہ ہاﺅس انکاﺅنٹر میں موہن چند شرما کی ’موت ‘ کے معاملے میں 25 جولائی 2013 کو دہلی کے ساکیت سیشن کورٹ نے ایک ملزم شہزاد احمد (عرف پپو) کو سزا سنائی، وہیں 2018 میں پولیس کے کہنے کے مطابق عارض خان (عرف جنید) کو نیپال بارڈر سے گرفتار کیا گیا اور 15 مارچ 2021 کو ٹرائل کورٹ نے انہیں انسپکٹر موہن چند شرما کے ’قتل ‘ کا مجرم قرار دیا اور موت کی سزا سنائی گئی۔ ساتھ ہی اس پر 1.1 ملین روپے کا جرمانہ بھی عائد کیا گیا۔ لیکن جب معاملہ ہائی کورٹ میں گیا تو 13 اکتوبر 2023 کو دہلی ہائی کورٹ نے سزائے موت کو عمر قید میں تبدیل کر دیا ۔ وہیں اس سے قبل شہزاد قید کے درمیان بیمار ہوئے اور 28 جنوری 2023 کو اس دنیا کو الوداع کہہ گیا۔
