Tuesday, February 24, 2026
homeاہم خبریں’جوتا مار ہولی‘ کے پیش نظر شاہجہاں پور میں 48 مساجد ڈھانپی...

’جوتا مار ہولی‘ کے پیش نظر شاہجہاں پور میں 48 مساجد ڈھانپی گئیں، اضافی فورس تعینات

شاہجہاں پور:
صدیوں پرانی روایت ’جوتا مار ہولی‘ کے سالانہ جلوس کے پیش نظر انتظامیہ نے شہر میں جلوس کے راستوں پر واقع مساجد اور مزارات کو ترپال کی چادروں سے ڈھانپ دیا ہے اور سکیورٹی کے سخت انتظامات کا اعلان کیا ہے۔۔

’جوتا مار ہولی‘ شاہجہاں پور کی ایک منفرد اور قدیم روایت ہے جو ہولی کے دن منائی جاتی ہے۔ اس موقع پر ایک شخص برطانوی دور کے ’لاٹ صاحب‘ کا لباس پہن کر بھینسا گاڑی پر سوار ہوتا ہے، جبکہ لوگ رنگ کھیلتے ہوئے اس پر جوتے اور چپلیں اچھالتے ہیں۔

سپرنٹنڈنٹ آف پولیس راجیش دویدی نے بتایا کہ اس سال جلوس کے لیے گزشتہ برس کے مقابلے میں تقریباً ڈیڑھ گنا زیادہ سکیورٹی اہلکار تعینات کیے جائیں گے، جبکہ 200 سے زائد مجسٹریٹس بھی ڈیوٹی پر مامور ہوں گے۔

ان کے مطابق چار ایڈیشنل ایس پی، 13 سرکل افسران، 310 سب انسپکٹرز، 1200 کانسٹیبلز اور 500 ہوم گارڈز تعینات کیے جائیں گے۔

اس کے علاوہ صوبائی آرمڈ کانسٹیبلری اور ریپڈ ایکشن فورس کی چار، چار کمپنیاں اور نیشنل ڈیزاسٹر ریسپانس فورس کی ایک ٹیم بھی جلوس کے دوران تعینات رہے گی۔

انتظامیہ نے آٹھ کلومیٹر طویل ’بڑے لاٹ صاحب‘ اور ’چھوٹے لاٹ صاحب‘ کے جلوس کے راستے پر 100 سے زائد شمسی توانائی سے چلنے والے سی سی ٹی وی کیمرے نصب کیے ہیں تاکہ بجلی کی بندش کی صورت میں بھی نگرانی کا عمل جاری رہے۔

گزشتہ سال جلوس کے دوران معمولی واقعات پیش آئے تھے، جس کے پیش نظر اس بار ایک اضافی زون قائم کیا گیا ہے۔ ایس ایس پی کے مطابق گزشتہ ایک ماہ سے تمام برادریوں کے افراد کی شرکت کے ساتھ تھانوں اور چوکیوں پر امن کمیٹی کی میٹنگیں منعقد کی جا رہی ہیں۔

انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ ہولی کو پُرامن انداز میں منائیں اور خبردار کیا کہ جلوس میں خلل ڈالنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔

ایڈیشنل ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ (انتظامیہ) راجنیش کمار مشرا نے بتایا کہ جلوس کے راستے پر واقع 48 مساجد اور مزارات کو موٹی پلاسٹک شیٹس سے مکمل طور پر ڈھانپ دیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ جلوس کے راستے سے ملحق 148 گلیوں کو بیریکیڈ کیا جائے گا تاکہ اچانک ہجوم کے دباؤ سے بچا جا سکے۔

انتظامیہ نے جلوس کو سات زونز میں تقسیم کیا ہے اور ہر زون میں سیکٹر اور سب سیکٹر کی سطح پر انتظامات کیے گئے ہیں۔ مجموعی طور پر 136 زونل، سیکٹر اور اسٹیٹک مجسٹریٹس اپنے اپنے علاقوں میں نگرانی کریں گے۔

مشرا نے مزید بتایا کہ ہولیکا دہن کے مقامات پر بھی 103 مجسٹریٹس تعینات کیے جائیں گے، جو آگ جلانے سے لے کر رسومات کے اختتام تک نگرانی کریں گے۔ اس موقع کے پیش نظر بعض افراد کے خلاف احتیاطی کارروائی، ضلع بدری اور ہسٹری شیٹس کھولنے جیسے اقدامات بھی کیے گئے ہیں۔

سوامی سکھ دیوانند کالج کے مؤرخ ڈاکٹر وکاس کھرانہ کے مطابق اس جلوس کی تاریخ 18ویں صدی سے جڑی ہے۔ روایت کے مطابق نواب عبداللہ خان خاندان سے ناراض ہو کر فرخ آباد چلے گئے تھے، اور جب 1728 میں شاہجہاں پور واپس آئے تو ہولی کی تقریبات جاری تھیں، جن میں ہندو اور مسلمان مل کر شہر گیر جلوس نکالتے تھے۔

ڈاکٹر کھرانہ کے مطابق 1859 میں برطانوی انتظامیہ نے شاہجہاں پور پر دوبارہ کنٹرول حاصل کرنے کے بعد اس جلوس کو باضابطہ شکل دی۔

آزادی کے بعد بھی یہ تقریب کئی دہائیوں تک پُرامن طور پر جاری رہی۔ 1988 میں اُس وقت کے ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کپل دیو نے اس کا نام ’نواب صاحب‘ سے تبدیل کر کے ’لاٹ صاحب‘ رکھ دیا۔

جلوس کا آغاز پھولمتی دیوی مندر میں پوجا کے بعد ہوتا ہے اور پھر شہر کے مختلف علاقوں سے گزرتا ہے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ 1990 میں اس جلوس پر پابندی کے لیے ہائی کورٹ میں دائر کی گئی درخواست مسترد کر دی گئی تھی، اور عدالت نے اسے ایک قدیم روایت قرار دیا تھا۔

متعلقہ خبریں

تازہ ترین