Sunday, August 31, 2025
homeاہم خبریںشرم شری یا انتخابی شوشہ؟ بنگالی مزدوروں کی بربادی اور سیاست...

شرم شری یا انتخابی شوشہ؟ بنگالی مزدوروں کی بربادی اور سیاست کی مکاری

محمد فاروق
انتخابات سے پہلے سیاست کا سب سے بڑا ہتھیار عوام کے دکھ درد کا استحصال ہوتا ہے۔ مغربی بنگال کی وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی نے بالکل یہی کھیل کھیلا ہے۔ بنگالی مہاجر مزدوروں کی حالت زار کو بہانہ بنا کر ’’شرم شری‘‘ اسکیم کے نام پر ایک اورہوامحل کھڑاکردیاگیاہے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ اسکیم بھی ماضی کی طرح ایک کھوکھلا وعدہ ہے جس کے انجام کا خاکہ ابھی سے نظر آ رہا ہے۔

حکومت کے اپنے اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ پچھلے چند مہینوں میں بنگلہ بولنے والے 2,730 خاندان‘پولیس کی حراست‘ایذا رسانی‘سرحد پار دھکیلنے اور بار باربنگلہ دیشی درانداز کہہ کر ذلیل کئے جانے کے بعد خوف کے مارے واپس لوٹے ہیں۔ یہ بلاشبہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ ہندستان کے مختلف حصوں میں صرف بنگالی ہونے یا بنگلہ زبان بولنے پر شہریوں کو تشدد کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ دہلی‘ممبئی‘احمد آباد اور دیگر شہروں میں مزدوری کرنے والے یہ غریب لوگ پولیس کے ہاتھوں ذلت سہتے ہیں‘عدالتوں تک اپنی فریاد لے جاتے ہیں‘لیکن مرکزی حکومت کی کان پر جوں تک نہیں رینگتی۔

شرم شری اسکیم کے تحت اعلان کیا گیا ہے کہ واپس آنے والے مہاجرین کو پانچ ہزار روپے یکمشت اور پھر ایک سال تک ماہانہ پانچ ہزار روپے کا وظیفہ دیا جائے گا۔ سوال یہ ہے کہ کون سا مزدور اپنی دہاڑی چھوڑی کر محض پانچ ہزار روپے کی خیرات کیلئے واپس آئے گا؟ مزدور ہجرت اس لئے کرتا ہے کہ وہ دہلی‘ممبئی یا گجرات میں دن رات محنت کر کے اپنے بچوں کیلئے بہتر کھانا‘کپڑا اور علاج مہیا کر سکے۔ اگر بنگال میں کام ہوتا تو وہ پہلے ہی ریاست میں رہتا۔ حقیقت یہ ہے کہ بنگال کی معیشت زوال کا شکار ہے‘اجرتیں شرمناک حد تک کم ہیں اور حکومت کے پاس صنعتی ترقی یا روزگار کے پائیدار منصوبے موجود ہی نہیں۔ ایسے میں پانچ ہزار روپے کا لالچ محض ووٹ خریدنے کا ایک ہتھکنڈہ ہے جو انتخابات کے بعد ردی کی ٹوکری میں چلا جائے گا۔

یاد رہے کورونا کے دوران ممتا حکومت کے اندازے کے مطابق 40 لاکھ مہاجر مزدور بنگال واپس آئے تھے۔ حکومت نے بڑے طمطراق سے وعدے کئے،مائیگرنٹ ویلفیئر بورڈ بنایا‘لیکن محض 22 لاکھ مزدوروں کا اندراج کر سکی۔ باقی 18 لاکھ کا کوئی پتہ نہیں۔ اگر حکومت اپنے ہی شہریوں کا حساب کتاب رکھنے میں ناکام ہے تو وہ ان کی زندگیوں کو سنوارنے کے دعوے کیسے پورے کرے گی؟

یہ بھی المیہ ہے کہ ہندستان جیسا کثیر لسانی اور کثیر ثقافتی ملک‘جس کی طاقت ہی اس کا تنوع ہے‘آج اپنی ہی لسانی اور مذہبی اکائیوں کو کمزور کرنے میں مصروف ہے۔ڈبل انجن والی ریاستوں میں بنگالی مزدوروں کو محض زبان کی بنیاد پرغیر قرار دے کر تشدد کا شکار بنایا جا رہا ہے۔ عدالتوں کی سرزنش کے باوجود مرکزی حکومت بے حسی کا شکار ہے۔ ایسے میں ممتا بنرجی کی احتجاجی ریلیاں اور بلند بانگ دعوے اپنی جگہ‘لیکن جب تک ٹھوس روزگار کے مواقع پیدا نہیں ہوتے‘بنگالی مزدور نہ محفوظ ہوں گے اور نہ ہی اپنے وطن میں ٹک سکیں گے۔

مزدور کا اصل مسئلہ عزت اور روزگار ہے‘خیرات اور لولی پاپ نہیں۔ شرم شری جیسے منصوبے اس حقیقت کو بدل نہیں سکتے کہ ریاست میں روزگار کی قلت ہے‘صنعتیں دم توڑ چکی ہیں اور مزدور طبقہ دوبارہ ہجرت کرنے پر مجبور ہو گا۔ ممتا کا اعلان محض انتخابی اسٹیج پر تالی بجوانے کیلئے ہے‘جس کا انجام بھی ماضی کی ناکام اسکیموں جیسا ہو گا۔

سچ یہ ہے کہ بنگالی مزدور کے آنسو‘اس کی دربدری اور اس کی محرومی کو سیاست کی منڈی میں بیچنے کا کھیل جاری ہے۔ ایک طرف زعفرانی طاقتیں انہیںدرانداز کہہ کر ملک بدر کرتی ہیں‘تو دوسری طرف ممتا بنرجی انہیں شرم شری کے وعدے سنا کر اپنے ووٹ بینک کی کھیتی کرتی ہیں۔ لیکن مزدور کی زندگی میں نہ روشنی آتی ہے نہ آسودگی۔ وہی دربدری‘وہی کسمپرسی‘وہی ظلم اور وہی بے بسی۔ اور یہی اس ملک کا اصل المیہ ہے۔

متعلقہ خبریں

تازہ ترین