کلکتہ : انصاف نیوز آن لاٰین
الیکشن کمیشن نے مغربی بنگال میں جاری ایس آئی آر کے تحت نوبل انعام یافتہ ماہرِ معاشیات امرتیہ سین کو نوٹس جاری کیا ہے۔اس کے بعد ریاست میں سیاسی ہنگامہ آرائی تیز ہوگئی ہے۔
انتظامیہ کے مطابق یہ نوٹس بدھ کے روز جاری کیا گیا ہے۔ اور بولپور، شانتی نکیتن (ضلع بیر بھوم) میں واقع سین کی پراتیچی رہائش گاہ پر ان کے رشتہ داروں کو بوتھ لیول افسر نے نوٹس تھمایا ہے۔ سماعت 16 جنوری کو کی جائے گی۔افسر ان کے فارم میں درج مبینہ تضادات کی تصدیق کے لیے ان کے گھر جائیں گے۔
الیکشن کمیشن نے بتایا کہ فارم میں عمر سے متعلق تفصیل میں مسئلہ سامنے آنے کے بعد نوٹس جاری کیا گیا ہے۔ ایک افسر نے کہاکہ ’’فارم کے مطابق امرتیہ سین اور ان کی والدہ کے درمیان عمر کا فرق 15 سال سے کم ہے۔، جو ممکنہ طور پر ایک تکنیکی غلطی ہے۔ الیکشن کمیشن بلا وجہ نوٹس جاری نہیں کرتا ہے ۔‘‘ انہوں نے یہ بھی کہا کہ 85 سال سے زائد عمر کے ووٹروں کے لیے خصوصی ضوابط موجود ہیں اور ایسے معاملات میں 13 میں سے کوئی ایک دستاویز جمع کرانی ہوتی ہے۔
تاہم سین کے رشتہ داروں نے اس نوٹس کو ہراسانی قرار دیا ہے۔ ان کے چچازاد بھائی شانتابھانو سین نے کہا کہ نوٹس میں درج دعویٰ حقیقت کے خلاف ہے۔ ’’اصل عمر کا فرق تقریباً19.5سال ہے۔ وہ پہلے بھی ووٹ ڈال چکے ہیں، پھر ایسا نوٹس کیوں؟‘‘
یہ خبر سامنے آنے کے بعد سیاسی بیان بازی کا سلسلہ شروع ہوگیا۔ کانگریس نے الیکشن کمیشن سے معافی کا مطالبہ کرتے ہوئے نوٹس کو ’’افسوسناک‘‘ قرار دیا۔ ترنمول کانگریس نے بھی الیکشن کمیشن اور بی جے پی پر حملہ کرتے ہوئے کہا کہ ایک عالمی سطح پر معزز نوبل انعام یافتہ کو مشکوک عمل کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
ترنمول کانگریس کے قومی جنرل سیکریٹری ابھیشیک بنرجی نے الزام لگایا کہ الیکشن کمیشن بنگال کی نمایاں شخصیات کو نشانہ بنا رہی ہے۔ جن میں امرتیہ سین کے علاوہ کرکٹر محمد شامی اور اداکار دیو بھی شامل ہیں۔
الیکشن کمیشن کے ذرائع نے وضاحت کی کہ امرتیہ سین کو ذاتی طور پر پیش ہونے کی ضرورت نہیں اور یہ معاملہ محض انتظامی نوعیت کا ہے، جس کا ووٹر ہونے کی اہلیت سے کوئی تعلق نہیں۔
یہ تنازع ایسے وقت سامنے آیا ہے جب مغربی بنگال میں اسپیشل انٹینسو ریویژن کے تحت 58 لاکھ سے زائد ووٹروں کے نام مسودہ ووٹر لسٹ سے خارج کیے جانے پر شدید تنقید ہو رہی ہے۔ وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی نے چیف الیکشن کمشنر کو خط لکھ کر اس عمل کو روکنے کا مطالبہ کیا ہے، جبکہ بی جے پی نے اس عمل کا دفاع کیا ہے۔
منگل کو ابھیشیک بنرجی نے بیر بھوم کے رام پورہاٹ میں جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ کمیشن نے نوبل انعام یافتہ ماہر اقتصادیات کو ایس آئی آر نوٹس بھیجا ہے۔ اس کے تھوڑی دیر بعد، کمیشن نے انہیں بتایا کہ امرتیہ کے ذریعہ بھرے گئے ایس آئی آر فارم میں منطقی تضادات (معلومات کی غلطیاں) ہیں۔ انہیں سماعت کے لیے نہیں بلایا گیا۔ بدھ کو پراتیچی پر بی ایل او نوٹس بھیجے جانے کے بعد، ترنمول کانگریس نے سوشل میڈیا پر حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہاکہ نوبل انعام یافتہ کو شک سے بالاتر رکھا جانا چاہیے۔ کیا یہ ٹھیک ہے؟ لیکن اگر وہ بنگالی ہے تو اسے سماعت کا نوٹس دیا جانا چاہیے۔ گویا وہ بھی مجرم ہے۔”
ترنمول کانگریس نے مشترکہ طور پر بی جے پی اور کمیشن کو نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ایس آئی آر عمل خود ایک مذاق بن گیا ہے۔ یہاں تک کہ معاشرے کے نامور لوگوں کو بھی کیچڑ میں گھسیٹا جا رہا ہے۔
