انصاف نیوز آن لاین
دہلی میں منعقدہ ایک سیمینار کے دوران پیش کی گئی شہادتوں کے مطابق، قانونی دستاویزات رکھنے والے متعدد شہریوں کے نام نکال دیے گئے ہیں؛ پورے پورے خاندانوں کو فہرستوں سے خارج کر دیا گیا ہے اور یہاں تک کہ خود بوتھ لیول افسران (BLOs) کو بھی اس اخراج کا سامنا ہے۔
پیر کے روز نئی دہلی میں منعقدہ ایک تقریب میں پیش کردہ اعداد و شمار کے مطابق، مغربی بنگال میں جاری انتخابی فہرستوں کی ‘خصوصی گہری نظرثانی’ (SIR) کے دوران مسلم ووٹرز کی ایک بڑی تعداد کو “منطقی تضادات” (logical discrepancies) کے نام پر نشانہ بنایا گیا ہے۔ اس کے علاوہ، کئی مقامات پر نکالے گئے ناموں میں سے نصف سے زائد تعداد خواتین کی ہے۔

غائب ہوتے انتخابی حقوق اور کمزور شہریت کے عنوان سے ہونے والی اس بحث میں خاص طور پر مالدہ اور مرشد آباد جیسے علاقوں پر توجہ مرکوز کی گئی جہاں بڑے پیمانے پر ناموں کے اخراج کی اطلاعات موصول ہو رہی ہیں۔
سپریم کورٹ کے سینئر وکیل پرشانت بھوشن نے اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا کہ تاریخ میں اس طرح کی گہری نظرثانی اس سے قبل صرف ایک بار اتر پردیش کے ایک اسمبلی حلقے کے ایک حصے میں کی گئی تھی۔ جب جیمز ایم لنگڈوہ چیف الیکشن کمشنر تھے، تو الیکشن کمیشن نے اس کی تفصیلی وجوہات پیش کی تھیں کہ آخر نئے سرے سے انتخابی فہرستوں کی ایسی مشق کیوں ضروری ہے۔


ایسوسی ایشن فار پروٹیکشن آف سول رائٹس (APCR) نے ’اخراج کے خفیہ الگورتھم‘ کے عنوان سے ایک رپورٹ پیش کی، جس میں دعویٰ کیا گیا کہ خواتین کے نام شادی کے بعد سکونت کی تبدیلی، ریکارڈ کی عدم دستیابی اور چینی نژاد باشندوں یا تیسری جنس (خواجہ سراؤں) جیسی چھوٹی اقلیتوں کے ناموں کو “حذف” کرنے کے عمل کے نتیجے میں غائب ہوئے ہیں۔
پرشانت بھوشن نے مزید کہاکہ واضح طور پر دیکھا جا سکتا ہے کہ مغربی بنگال میں مسلمانوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے تاکہ ان کے نام انتخابی فہرستوں سے خارج کیے جا سکیں۔
مالدہ اور مرشد آباد کی صورتحال
APCR کے مطابق، مالدہ اور مرشد آباد کے اضلاع میں صورتحال سب سے زیادہ تشویشناک ہے، جو پہلے ہی دریا کے کٹاؤ اور نقل مکانی جیسے مسائل کا شکار ہیں۔ مقررین کے مطابق، بار بار ری چیک کی درخواستیں، نام نکالنے کی وجوہات میں عدم شفافیت، اور خاندان کے کچھ افراد کے نام برقرار رہنے جبکہ دیگر کے غائب ہونے جیسے واقعات نے اس محض انتظامی عمل کو ایک “بقا کی جنگ” میں بدل دیا ہے۔

بھوشن نے طریقہ کار پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ اگر کسی شہری کا نام پرانی فہرست میں موجود ہے، تو اسے پہلی نظر میں (prima facie) شہری ہی تسلیم کیا جانا چاہیے۔ اگر کوئی شک ہو تو اسے حقائق پر مبنی نوٹس دیا جانا چاہیے تاکہ وہ ثبوت پیش کر سکے۔ اگر الیکشن کمیشن پھر بھی مطمئن نہ ہو، تو وہ صرف اسے ‘نشان زد’ (flag) کر سکتا ہے، شہریت کا حتمی فیصلہ کرنا ٹربیونل، عدالت یا حکومتِ ہند کا کام ہے۔
سپریم کورٹ نے اگرچہ ٹربیونلز اور دوبارہ تصدیق کے عمل پر زور دیا ہے، لیکن ‘SIR’ کی مشق کو روکنے یا انتخابات کے نظام الاوقات میں مداخلت سے انکار کر دیا ہے۔ پیر کو عدالتِ عظمیٰ نے بنگال حکومت کی اس درخواست کو سننے سے معذرت کر لی جس میں خارج شدہ ووٹرز کو ووٹ ڈالنے کی عبوری اجازت دینے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ عدالت کا کہنا تھا کہ *”ہم اس معاملے میں جلد بازی نہیں کرنا چاہتے۔


ریاستی حکومت نے خاص طور پر ان 20 لاکھ سے زائد ووٹرز کے لیے عبوری ریلیف مانگا تھا جن کے خاندان کے دیگر افراد کے نام 2002 کی لسٹ میں موجود ہیں (Mapped Voters)۔ عدالتی فیصلے کا مطلب یہ ہے کہ اگر ٹربیونلز23 اپریل سے شروع ہونے والے انتخابات سے قبل ان اپیلوں کا فیصلہ نہیں کر پاتے، تو یہ لاکھوں ووٹرز اپنا حقِ رائے دہی استعمال نہیں کر سکیں گے۔

سیاسی طور پر اس معاملے پر واضح خلیج نظر آتی ہے۔ ‘SIR’ کے حامیوں کا کہنا ہے کہ انتخابی عمل کی شفافیت کے لیے لسٹوں کی صفائی ضروری ہے، جبکہ ناقدین کا کہنا ہے کہ ثبوت فراہم کرنے کا بوجھ غریبوں، مہاجر مزدوروں اور دستاویزی ثبوت سے محروم طبقوں پر ڈال کر رائے دہندگان کی مجموعی ساخت کو تبدیل کیا جا رہا ہے۔
