Saturday, November 29, 2025
homeاہم خبریںایس آئی آر:بہار میںمسلمانوں کی آبادی 17فیصدمگر ڈیلیٹ کئے گئے65لاکھ ووٹروںمیں 24.7فیصد...

ایس آئی آر:بہار میںمسلمانوں کی آبادی 17فیصدمگر ڈیلیٹ کئے گئے65لاکھ ووٹروںمیں 24.7فیصد مسلم ووٹرس

بہار انتخابات ۔۔سیریز۔1

بہار اسمبلی انتخابات کی تاریخ کا اعلان ہوچکاہے۔اگلے ایک مہینے تک بہار اسمبلی انتخابات پر انصاف نیوز آپ کیلئے لارہا ہے خصوصی اسٹوری کی سیریز۔
اس سیریز میں بہار کی سیاست، بہار کےسیاسی منظرنامہ میںمسلم ووٹرس کی اہمیت۔سیاسی ایجنڈے میںمسلمانوں کے مسائل کی اہمیت۔بہار میںاردو اور سیاسی جماعتوںکا رویہ ان موضوعات پر انصاف نیوز کی خصوصی سیریز ملاحظہ کریںگے۔

انصاف نیوز آن لائن

بہار اسمبلی انتخابات کی تاریخ کا الیکشن کمیشن آف انڈیا نے پیر کو اعلان کردیا ہے۔بہار میںدو مرحلے6اور 11نومبر کو ہوںگے۔اسمبلی انتخابات کے نتائج کا 14نومبر کو کیا جائےگا۔بہار اسمبلی انتخابات کا انعقاد ایک ایسے وقت میں ہورہا ہے جب کہ65اکھ سے زائد ووٹروں کے نام خارج کئے گئے ہیں ۔اپوزیشن جماعتیں اور سماجی کارکنان کا الزام ہے کہ ایس آئی آر میں بڑے پیمانے پر لوگوں کے نام خارج کئے گئے ہیں ۔ایسے میںیہ بڑا سوال ہے کہ ایس آئی آر کا بہار اسمبلی انتخابات میں کیا اثر پڑے گا ۔یہ سوال اس لئے بھی اہم ہے کہ 26 اضلاع کی صرف 58 اسمبلی حلقوں کے 200 بوتھوں میں غیر معمولی تعداد میں ووٹروں کے نام حذف کیے گئے ہیں — ان بوتھوں میں سے ہرایک بوتھ سے324 سے 641 ووٹر وںکےنام درج کئے گئے ہیں۔چوں کہ بہار میں ایک بوتھ پر زیادہ سے زیادہ12,00ووٹرس ہو سکتے ہیں۔ اس کا مطلب ہے کہ ہر بوتھ سے کم از کم ایک تہائی ووٹرس کےنام حذف کیے گئے، اور بعض میں تو نصف تعداد میںووٹروں کے نام حذف کیا گیا ہے۔ مجموعی طور پر ان 200 بوتھوں میں77,454ووٹر س کے نام خارج ہوئے۔مشرقی چمپارن کے ڈھاکہ اسمبلی حلقے میں، یہ دعویٰ کیا گیا تھا کہ تقریباً 80000مسلم ووٹروں کے نام حذف کیے گئے ہیں۔ ہر ضلع کا ڈیٹا اب بھی دستیاب نہیں ہے لیکن جیسے جیسے ڈیٹا آئے گا تصویر واضح ہوتی جائے گی۔قانون کے مطابق اگر کسی بوتھ سے دو فیصد سے زیادہ ووٹر حذف ہوں، یا چار فیصد سے زیادہ نئے شامل کیے جائیں، تو الیکشن افسران کو زمینی تصدیق کرنی ہوتی ہے۔بہار کے جن اضلاع میںسب سے زیادہ ووٹروں کے نام خارج کئے گئے ہیںان میںسب سے زیادہ ریکارڈ حذف مدھوبنی میں ریکارڈ کی گئی ہے جہاں2, 66,900نام حذف کیے گئے، اس کے بعد پورنیہ ضلع میں190,858 سیتامڑھی میں 177,474اور دیگر قابل ذکر اضلاع میں سپول103,675کشن گنج میں104,488اور مشرقی چمپارن میں 7,834ووٹروں کے نام خارج کردئیے گئے ہیں ۔ان اضلاع میں مسلمانوں کی تعداد اچھی خاصی ہے۔

ایس آئی آر کے بعد بہار میںکل ووٹروں کی تعداد 7.24کروڑ ووٹرس ہیں ۔اس میںتقریبا 3.92کروڑ مرد، 3.5خواتین اور 1,725,ٹرانس جینڈر شامل ہیں ۔14,10لاکھ نوجوان پہلی مرتبہ ووٹنگ کریں گے جب کہ 85سال سے زائد بزرگوں کی تعداد 4لاکھ سے زائد ہیں ۔الیکشن کمیشن جس پر کئی سارے الزامات لگ رہے ہیںاس نے کئی اہم تبدیلیا ں کی ہیںجس میں ای وی ایم مشین پر امیدواروں کی رنگین تصاویر کا استعمال کیا جائے گا۔تمام پولنگ اسٹیشنز پر 100 فیصد ویب کاسٹنگ کی جائے گی۔

کمیشن کے شائع کردہ اعداد و شمار کے آزادانہ تجزیے میںشماریاتی تضادات کی نشاندہی ہوتی ہے۔ حتمی اعداد و شمار اور موصول ہونے والی درخواستوں کی تعداد کے موازنہ میں اضافے اور ہٹاؤ کی ’’غیر واضح اضافی‘‘تعداد کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔ مزید رپورٹس میں نوٹ کیا گیا کہ خواتین ووٹرز، خاص طور پر جوان شادی شدہ خواتین، کو ’’مستقل طور پر منتقل‘‘ کے زمرے میں غیر متناسب طور پر ہٹایا گیا۔ کچھ تجزیوں نے حتمی انتخابی فہرست کا ریاستی سرکاری آبادی کے تخمینوں سے موازنہ کرتے ہوئے 83 لاکھ افراد کے ممکنہ “جمہوری خسارے” کا حساب لگایا گیا ہے۔جس سے ممکنہ حق رائے دہی سے محرومی کے سوالات اٹھ رہے ہیں ۔

بہار حکومت کی ایک رپورٹ کے مطابق جولائی 2025 میں 18 سال اور اس سے زیادہ عمر کے شہریوں کی کل آبادی 8.18کروڑ ہونے کا تخمینہ تھا۔ایس آئی آر شروع ہونے سے قبل بہار میںکل ووٹرس کی تعداد 7.89کروڑ تھی۔ریاست میں اہل بالغوں کی تعداد اور رجسٹرڈ ووٹروں کی تعداد کے درمیان تقریباً 29 لاکھ کا فرق تھا۔ایس آئی آر کا بنیادی مقصد ممکنہ طور پر اس خلا کی نشاندہی کرنا اور اس کا ادراک تھا۔حکومتی رپورٹ کے مطابق بہار میں 27.50لاکھ افراد 2025 کے دوران 18 سال کے ہو جائیں گے۔ یکم اکتوبر 2025 کو حتمی فہرست جاری ہونے کے ایک دن بعد ایک اندازے کے مطابق ان میں سے 20.62لاکھ افراد سال کے دوران ووٹ ڈالنے کے اہل ہو چکے ہوں گے۔اب حتمی فہرست کو دیکھاجائے تو ایس آئی آر بنیادی مقصد حاصل کرنے میں ناکام رہا ۔

بہار اسمبلی انتخابات کی تیاریوںکا جائزہ لینے کیلئے پہنچے چیف الیکشن کمشنر گیانیشور کمارسے پریس کانفرنس کے دوران ایک صحافی نے سوال کیا کہ ایس آئی آر کی شروعات سے قبل دعویٰ کیا جارہا تھا کہ ایس آئی آر کا اصل مقصد غیرملکی ووٹرس کی شناخت ہے تو سوال یہ ہے کہ 30ستمبر کو ایس آئی آر کی فائنل لسٹ جو شائع ہوئی ہے اس میںکتنے غیر ملکیوں کی شناخت کی گئی ہے ۔گیانیشور کمار اس سوال کا کوئی حتمی جواب دینے سے گریزکیا۔گیانیشور کمار کا مذکورہ بالا سوال سے صرف نظر یہ واضح کرتا ہے کہ کمیشن کے پاس ایسا کوئی پیمانہ نہیںتھا جس سے وہ حذف کئے گئے ناموںمیںغیر ملکی کی شناحت کرسکے؟۔ بہار کے سی ای او کی ویب سائٹ ڈرافٹ رولز پر اعتراضات کے 2.4لاکھ پڑھنے کے قابل ریکارڈ دکھاتی ہے۔ ان میں سے صرف 1780کیسز (کل ووٹروں کا0 .018فیصد) کسی ایسے شخص کے بارے میں تھے جو ہندوستانی شہری نہیں تھے۔ یہاں تک کہ یہ مقدمات زیادہ تر مشکوک تھے (ان میں سے 779 خود اعتراضات تھے، کسی نے اپنے خلاف غیر ملکی ہونے کی شکایت کی تھی) یا شاید نیپالی (چونکہ صرف 226 نام مسلمانوں کے تھے)۔ ای سی آئی نے ان اعتراضات میں سے صرف 390 کو قبول کیا ہے (جن میں سے صرف 87 مسلمان ہیں) اور ان کے نام حذف کر دیے ہیں۔ تعجب کی بات نہیں کہ سی ای سی ان غیر ملکیوں کا ڈیٹا شیئر کرنے میں دلچسپی نہیں رکھتا جن کے نام حذف کیے گئے تھے۔

اب سوال یہ ہے کہ جب کمیشن غیر ملکی کی شناخت کرنے سے قاصر رہا ہے تو پھر دائیں بازوںکی جماعتیںاور خود کمیشن بنگلہ دیشی دراندازیکے نام پر سنسنی خیزی کا ارتکاب کیوں کیا؟ جھاڑ کھنڈ اسمبلی انتخابات سے قبل بھی دراندازی کے نام پر مسلمانو ں کو نشانہ بنایا گیا ۔اب بہار اور مغربی بنگال میںدراندازی کے نام پر مسلم طبقے کو نشانہ بنانے کی کوشش کی جارہی ۔

بہار کی ووٹر لسٹ میں خواتین کا تناسب آبادی میں ان کے حصے سے ہمیشہ کم رہا ہے۔ کئی سالوں میں، یہ فرق 2012 میں 21 لاکھ سے کم ہو کر اس سال جنوری میں صرف 7 لاکھ رہ گیا۔ SIR نے اس تاریخی رجحان کو پلٹ دیا ہے، خواتین کی حصہ داری کو کم کیا ہے، اور لاپتہ خواتین ووٹرز کی تعداد 16 لاکھ تک بڑھا دی ہے۔

الیکشن کمیشن کی فہرست میںمذہب کا الگ سے کوئی زمرہ نہیں ہےلیکن نام کی شناخت کے سافٹ ویئر کا استعمال ایک تشویشناک حقیقت کو سامنے لاتا ہے۔حذف کئے گئے 65 لاکھ ووٹروںمیں 24.7فیصد مسلم ووٹرس ہیںجن کے نام خارج کئے گئے ہیں۔ جب کہ مردم شماری میں مسلمانوں کی آبادی کا حصہ۱16.9فیصد تھا۔ اس کا مطلب واضح ہے تقریباً 6 لاکھ مسلمانوں کا اضافی اخراج کیا گیا ہے۔

متعلقہ خبریں

تازہ ترین