اسپین :
اسپین نے بدھ کو اسرائیل سے اپنا سفیر مستقل طور پر واپس بلا لیا ہے۔برطانوی خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق سپین کا یہ اقدام ایران پر امریکی و اسرائیلی حملوں کی مخالفت پر دونوں ممالک کے درمیان پیدا ہونے والے شدید سفارتی تعطل کے نتیجے میں سامنے آیا ہے۔
ہسپانوی سفیر کو گزشتہ برس ستمبر میں اس وقت واپس بلایا گیا تھا جب سپین نے غزہ میں اسرائیلی فوجی کارروائیوں کے پیش نظر اسرائیل کے لیے اسلحہ لے جانے والے طیاروں اور بحری جہازوں کو اپنی بندرگاہوں اور فضائی حدود کے استعمال سے روک دیا تھا۔
اسرائیلی وزیر خارجہ جدعون سار نے سپین کے ان اقدامات کو ’یہود دشمنی‘ قرار دے کر اس کی مذمت کی تھی۔
منگل کو سپین نے اپنے سرکاری گزٹ میں ایک اعلان شائع کیا جس کے مطابق سفیر کی خدمات ختم کر دی گئی ہیں۔
سپین کی وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ تل ابیب میں ان کا سفارت خانہ فی الحال ایک ‘ناظم الامور‘ چلائے گا۔
یہ پیش رفت دونوں ممالک کے درمیان سفارتی تعلقات میں کشیدگی کی تازہ ترین کڑی ہے جو اکتوبر 2023 میں غزہ پر اسرائیل کے حملے کے بعد سے شدید دباؤ کا شکار ہیں۔
اسرائیل کی جانب سے فلسطین کو ایک ریاست تسلیم کرنے کے ہسپانوی فیصلے کے خلاف احتجاجاً گزشتہ مئی میں اپنا سفیر واپس بلائے جانے کے بعد سے سپین میں اسرائیل کا سفارت خانہ بھی ایک ناظم الامور ہی سنبھال رہے ہیں۔
ایران پر امریکی و اسرائیلی حملوں کے بعد سے تناؤ میں مزید اضافہ ہوا ہے جس پر اسرائیلی وزیر خارجہ سار نے مارچ کے اوائل میں سپین پر جنگ کی مخالفت کرنے کی وجہ سے ’ظالموں کے ساتھ کھڑے ہونے‘ کا الزام عائد کیا تھا۔
