Friday, February 6, 2026
homeاہم خبریںآسام کے دانشوروں نے گوہاٹی ہائی کورٹ سے وزیرِ اعلیٰ ہمنتا بسوا...

آسام کے دانشوروں نے گوہاٹی ہائی کورٹ سے وزیرِ اعلیٰ ہمنتا بسوا شرما کی مبینہ نفرت انگیز تقاریر پر از خود نوٹس لینے کا مطالبہ کیا

انصاف نیوز آن لائن

آسام کے معروف عوامی دانشوروں، سابق اعلیٰ سرکاری افسران اور سماجی کارکنوں نے گوہاٹی ہائی کورٹ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ آسام کے وزیرِ اعلیٰ ہمنتا بسوا شرما کی جانب سے دیے گئے مبینہ نفرت انگیز اور اشتعال انگیز بیانات کا از خود نوٹس لے۔

تقریباً ایک درجن ممتاز شخصیات، جن میں معروف ادیب اور دانشور ہرین گوہائن، ہری کرشنا ڈیکا (سابق ڈی جی پی، آسام)، ڈاکٹر اندرنی دتہ (سابق ڈائریکٹر، امیو کمار داس انسٹی ٹیوٹ آف سوشل چینج اینڈ ڈیولپمنٹ) اور دیگر شامل ہیںنے گوہاٹی ہائی کورٹ کے چیف جسٹس جسٹس وجے بشنوئی کو ایک تحریری درخواست ارسال کی ہے۔ اس خط میں وزیرِ اعلیٰ کے متعدد عوامی بیانات کو آئین ہند اور بنیادی حقوق کی سنگین خلاف ورزی قرار دیا گیا ہے۔

5 فروری 2026 کو جاری کیے گئے اس کھلے خط میں کہا گیا ہے کہ وزیرِ اعلیٰ ہمنتا بسوا شرما کے بیانات واضح طور پر نفرت انگیز تقریر، انتظامی دھمکی اور ایک مخصوص کمیونیٹی یعنی بنگالی نژاد مسلم برادری، جسے عرفِ عام میں ’’میاں‘‘ کہا جاتا ہے۔کی اجتماعی توہین پر مشتمل ہیں۔ خط میں اس امر پر زور دیا گیا ہے کہ یہ کمیونٹی گزشتہ ایک صدی سے زائد عرصے سے آسامی زبان اور ثقافت کو اپنا کر آسام کی سماجی ساخت کا حصہ بنی ہوئی ہے۔

دانشوروں کے مطابق وزیر اعلیٰ کے یہ بیانات محض سیاسی بیان بازی تک محدود نہیں ہے بلکہ آئینی طور پر ممنوعہ دائرے میں داخل ہو چکے ہیں، جہاں انسانی وقار کی پامالی، اجتماعی بدنامی اور ریاستی سطح پر ہراسانی کی ترغیب شامل ہے۔

خط کے اہم نکات
خط میں وزیرِ اعلیٰ کے بعض مخصوص بیانات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ:
(A) جسمانی نقصان، معاشی امتیاز اور سماجی تضحیک کی ترغیب
ایک عوامی بیان میں وزیرِ اعلیٰ نے مبینہ طور پر کہاکہ
جو بھی کر سکتا ہے، جس طرح بھی کر سکتا ہے، میاں کو تکلیف پہنچائے۔ اگر رکشہ کا کرایہ پانچ روپے ہو تو چار روپے دیے جائیں۔
دانشوروں کے مطابق یہ بیان ریاست کے اعلیٰ ترین آئینی عہدیدار کی جانب سے براہِ راست جسمانی نقصان، معاشی امتیاز اور سماجی ذلت کو فروغ دینے کے مترادف ہے، جو آئین کے آرٹیکل 21 کے تحت وقار کے ساتھ زندگی گزارنے کے حق کی صریح خلاف ورزی ہے۔

(B) اسپیشل ریویژن (SR) کے عمل میں مداخلت

خط میں یہ الزام بھی عائد کیا گیا ہے کہ وزیرِ اعلیٰ نے عوامی طور پر بی جے پی کارکنوں کو ہدایت دی کہ وہ اسپیشل ریویژن (SR) کے عمل کے دوران میان کمیونٹی کے خلاف اعتراضات درج کرائیں، اور سرکاری افسران کو اوور ٹائم کام کر کے اس کمیونٹی کو “تکلیف پہنچانے” سے متعلق بیانات دیے۔

دانشوروں کا کہنا ہے کہ یہ طرزِ عمل ایک آئینی طور پر غیر جانبدار اور نیم عدالتی انتخابی عمل کو فرقہ وارانہ رنگ دینے کے مترادف ہے، جو آئین کے آرٹیکل 14 (قانون کے سامنے برابری)، آرٹیکل 21 اور آئین کے دیباچے میں درج اخوت اور سیکولرازم کے اصولوں کی خلاف ورزی ہے۔

آئینی حلف کی خلاف ورزی کا الزام

خط میں یاد دلایا گیا ہے کہ آئین کے آرٹیکل 164(3) کے تحت وزیرِ اعلیٰ آئین سے وفاداری اور تمام شہریوں کے ساتھ بلا امتیاز انصاف کرنے کا حلف اٹھاتے ہیں۔ کسی مخصوص مذہبی یا لسانی کمیونٹی کو نشانہ بنانا اس آئینی حلف کی صریح خلاف ورزی ہے۔

سپریم کورٹ کے فیصلوں کا حوالہ

دانشوروں نے سپریم کورٹ کے اہم فیصلوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ

اشونی کمار اپادھیائے کیس میں عدالت نے نفرت انگیز تقاریر کے معاملات میں از خود ایف آئی آر درج کرنے کی ہدایت دی ہے۔
وشال تیواری کیس میں نفرت انگیز تقاریر کے خلاف سخت رویہ اپنانے پر زور دیا گیا ہے۔
ایس آر بومئی کیس میں سیکولرازم کو آئین کی بنیادی ساخت قرار دیا گیا ہے۔

ہائی کورٹ سے مطالبات

خط کے اختتام پر گوہاٹی ہائی کورٹ سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ از خود نوٹس لیتے ہوئےمناسب قانونی کارروائی کا آغاز کرے

متاثرہ کمیونٹی کے وقار، مساوات اور جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنائے
آئینی عہدیداروں کو ان کے حلف کی پاسداری کا پابند بنائے
ریاست میں سیکولر اقدار اور قانون کی حکمرانی کو برقرار رکھے

دستخط کنندگان

اس خط پر دستخط کرنے والوں میں ڈاکٹر ہرین گوہائن، ہری کرشنا ڈیکا (سابق ڈی جی پی)، تھامس مینامپرامپل (سابق آرچ بشپ)، اجیت کمار بھویان (رکن راجیہ سبھا)، ڈاکٹر دلال چندر گوسوامی، ڈی سل کا (ریٹائرڈ آئی اے ایس)، پرش ملاکار (ایڈیٹر اِن چیف، نارتھ ایسٹ ناؤ)، دیپک گوسوامی، لکھی ناتھ تمولی (ریٹائرڈ آئی اے ایس)، جینتا بورگوہائن، ڈاکٹر اندرنی دتہ، رابن دتہ، رشمی گوسوامی، نجیب الدین احمد، توفیق الرحمن بوربوراہ سمیت دیگر ممتاز شخصیات شامل ہیں۔

یہ پیش رفت آسام میں جاری اس سیاسی اور سماجی تنازع کی عکاسی کرتی ہے جس میں بنگالی نژاد مسلمانوں کے خلاف بیانات پر شدید ردِعمل سامنے آ رہا ہے اور آئینی اداروں سے مداخلت کے مطالبات میں اضافہ ہو رہا ہے۔

متعلقہ خبریں

تازہ ترین