Thursday, April 3, 2025
homeاہم خبریںغزوہ بدر۔جب دنیا جنگی اصول اور انسانیت کے اعلیٰ اقدار سے روسناش...

غزوہ بدر۔جب دنیا جنگی اصول اور انسانیت کے اعلیٰ اقدار سے روسناش ہوئی

نور اللّٰہ جاوید

میدان بدر میں جب مٹھی بھر اور اسلحوں سے خالی313نفوس پر مشتمل اسلامی افواج کے مقابلے950جنگجواور پچاس خدمت گار، جن میں سو سے زائد اسلحہ بند سواروں کی چھ ٹکڑیاں،اس طرح چھ سو زرہ پوش سپاہی،فوج میں سات سو اونٹ، ایک سو گھوڑا اور ان گنت جدید اسلحے سے دشمنوں کی فوج مد مقابل ہے۔حالات اس قدر نازک ہے کہ محسن اور قائد انسانیت حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم بارگاہ الہی میں دعا کررہے ہیں
الھم انک ان تہلک ھذاہ العصابۃمن اہل الاسلام لاتعبد فی الارض
اے اللہ اگر آج ان مٹھی بھر اہل اسلام کو ان کفار کے ہاتھوں ہلاک کردئیے جاتے ہیں تو اس سرزمین پر کوئی تیری عبادت کرنے والا نہیں بچے گا۔
ایسے موقعوں پر ایک ماہر جنگجو اور کمانڈر ان چیف اپنی فوجیوں اور ساتھیوں کو لڑائی کی باریکیوں اور دشمنوں کی کمزوریوں سے آگاہ کرتا ہے۔اپنی فوج کو حملہ کے طریقہ کار سے واقف کرتا ہے کہ کس طرح گھات لگاکر دشمنوں پر وار کرناہے اور کیسے دشمنوں کے جان و مال کو نقصان پہنچا ہے۔مگر قربان جائیے اس کائنات کے معلم انسانیت محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم کا وہ اتنے سخت اور مشکل ترین حالات جہاں ہلکی سے لاپرواہی خدائے وحد ہ و لا شریک پر عقیدہ رکھنے والوں کا خاتمہ ہوسکتا تھا۔دشمنوں کا مقصد بھی یہی تھا۔تجارتی قافلے کو بچانا صرف بہانا تھا بلکہ وہ ہجرت کے فوری بعد سے ہی اس فراق میں تھے مدینہ میں سکون سے رہنے والے مسلمانوں کا خاتمہ کردیا جائے تاکہ آئندہ کوئی بھی شخص سامنے نہ آئے جو ان کی عظمت و برتریت کو چیلنج کرسکے۔لیکن اس سخت ترین حالات میں محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ساتھیوں کو جمع کرکے جو خطاب کرتے ہیں وہ تاریخ انسانی کا عظیم ترین خطاب ہے۔آپ فرماتے ہیں:
”مسلمانوں!بے شک میں تمہیں رغبت دلاتا ہوں،اس چیز کی طرف جس کی رغبت اللہ بزرگ و برتر نے دلائی۔سنو!سچائی اور صداقت کی منزلوں میں سے ایک منزل پر تم آج آگے ہو یہاں جو کام تم اللہ کی خوشنودی کی نیت سے کوگے وہی قبول کیا جائے گا۔پس لڑائی کے وقت تمہارا ارادہ صرف اعلائے کلمۃ الحق کا ہی ہو،سختیوں اور مایوسیوں میں صبر و ثابت قدمی اختیار کرنے سے تمام رنج و غم دور ہوجائیں گے۔مشکلیں آسان ہوجائیں گی اور آخرت میں نجات حاصل ہوگی، تم اللہ کا نبی موجود ہے جو تم کو (عذاب سے) ڈرتا ہے اور (نیکی)کا حکم کرتا ہے۔خبردار!آج کسی ایسی غلطی کے مرتکب نہ ہونا جس سے اللہ تعالیٰ ناراض ہوجائے۔ اب جہاد کا موقع ہے اس وقت اللہ تعالی سے ایسی پر خلوص دعائیں مانگو ایسے عمل کرو کہ اس نے جو تم سے وعدہ کیا ہے وہ پورا ہوجائے۔اس کی رحمت اور بخشش تم کو اپنی آغوش میں لے لے۔ بے شک اللہ کے وعدے سچے ہیں اور اس کے عذاب بھی بڑے سخت ہیں۔سنو! میں خود بھی اور تم سب بھی اس حی القیوم کی ذات کی مدد سے یہاں بچ سکتے ہیں۔ہم سب اسی کی طرف جھکتے ہیں اور اسی پاک ذات سے ہم مضبوطی پاتے ہیں،اسی پر بھروسہ کرتے ہیں اسی کی طرف ہم سب کو لوٹنا ہے۔اللہ تعالی ہم کو اورسب مسلمانوں کو بخش دے۔“

ایک سادہ ذہن انسان جس نے سیرت نبوی کا مطالعہ نہیں کیا ہے۔اگر وہ یہ خطاب پڑھے گا تو وہ بلاجھجھک اس نتیجہ پر پہنچے گا کہ یہ خطبہ مسجد نبوی کے کسی مواقع کا ہے۔کیوں کہ اس میں مصیبتوں پر صبر و استقامت، سچائی کی تلقین، اللہ کی عظمت و قوت پر بھروسہ رکھنے کی تعلیم اور شرک سے پرہیز کرنے کا سبق ہے۔لیکن یہ خطاب مشکل ترین لمحوں میں کیا جارہا ہے اس وقت بھی اپنے ساتھیوں کے ایمان و یقین کی فکر ہے راست بازی او ر صبر کی تلقین کی جارہی ہے اپنے فوجیوں کو سچائی کی تعلیم دی جارہی ہے۔انہیں جنگ کی باریک بینیاں سمجھانے کے بجھائے خداء کی قدر و طاقت پر بھروسہ کرنے اور شرک سے بچنے کی تلقین کی جارہی ہے۔یہی محسن انسانیت حضرت محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم کی عظمت اور رفعنا لک ذکرک کا راز ہے۔محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم کی یہی وہ ادا ہے جو آپ ﷺ کو دنیا کے تمام جرنیلوں اور سپہ سالاروں اور حکمرانوں سے ممتاز کرتی ہے۔میدان بدر میں کس کی جیت ہوئی اور کون ہارا یہ تو پوری دنیا جانتی ہے۔ مگر اقوام عالم اب تک یہ سمجھنے سے قاصرہے کہ آخر تین سو تیرہ جن کے پاس سواری کیلئے نہ گھوڑا ہے اور نہ کھانے کیلئے اونٹ نہ دشمنوں کے وار سے بچنے کیلئے عمدہ قسم کے زرہ اور نہ دشمنوں کا مقابلہ کرنے کیلئے جدید اسلحے اس کے باوجود اسلامی فوج فتح یاب کیوں کر ہوئی؟۔چشم فلک حیران ہے اور تاریخ حرب ایسی نظیر پیش کرنے سے قاصر ہے۔ آخر محسن انسانیت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ساتھیوں کی تربیت اور تعلیم کس طرح کی تھی کہ ”خون کے رشتے میں ایک ایک دورے سے پروئے ہوئے، نسب ایک،وطن ایک، زبان ایک، لیکن عقیدہ کے اختلاف نے تمام رشتے منقطع کردئیے۔ نسب ختم ہوگیا، صرف نسبت لگی رہی،وطن چھوٹ گیا، یاد باقی رہ گئی، زبان وہی لیکن کلمہ بدل گیا، خون کے رشتے سے بڑی گرہ اللہ کے نام کی تھی۔جب ہی تو باپ کے مقابل بیٹا، پسر کے سامنے پدر تھا، بھائی کی نظروں کا ہدف بھائی تھا۔در اصل امتیاز خیر و شر نے خون کو خون سے جدا کردیا تھا۔نہ رشتے کی کوئی وقعت، نہ خون کی کوئی اہمیت اللہ کی محبت اور رسول ﷺ کی نسبت تمام محبتوں اور نسبتوں پر حاوی۔ جب ہی تو چشم فلک نے مطلع ایمان پر عجب حیران کن منظر دیکھا۔مقاصد نے ان میں اختلاف پیدا کیا اور تلوار نے فیصلہ دیا (سیرت احمد مجتبیٰ صلی اللہ علیہ وسلم قباء سے غزوہ غابہ تک)

میدان بدر صرف حق و باطل کی رمزگاہ نہیں ہے کہ جہاں باطل ہار گیا اور حق جیت گیا۔بلکہ محسن انسانیت صلی اللہ علیہ وسلم نے میدان بدر سے پوری دنیا کو مساوات،معاہدہ کی پاسداری، حق پر ثابت قدمی اور انسانیت کا سبق دیا۔یہ بڑی نا انصافی ہے دنیا جنگ بدر کو صرف ایک لڑائی کے طور پر دیکھتی ہے۔جنگ بدر تاریخ حرب کی پہلی ایسی لڑائی تھی جس نے جنگ و جدال کے تمام اصول و طریقے بدل دئیے۔جنگجو قومیں دشمنوں کی عزت و ناموس کو بے آبرو کرنے،بچے اور ضعیفوں کو نشانہ بنانے،مال و اسباب کو لوٹنے کوجنگی حربے سمجھتے تھے۔لیکن محمد عربی نے جنگ و جدال کا طریقہ بدل دیا کہ دشمنوں کی افواج کی عورتوں کی اتنی ہی عزت کی جتنی اپنی عورتوں کی تھی۔دشمنوں کے بچے اور ضعیفوں کا اتنا ہی خیال رکھو جتنا اپنے بچوں کا۔اس لیے اسلامی افواج کیلئے عورتوں، بچو ں اور ضعیفوں کو نشانہ بنانا ممنوع قرار پایا،قیدیوں کا مصلح کرنا حرام ٹھہرا۔ کھیتوں کو اجاڑنا ناجائز۔محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ منورہ سے کوچ کرنے سے لے کر80کلومیٹر کی مسافت پر واقع میدان بدر تک مساوات،معاہدہ کی پاسداری اور انصاف کی بے شمار نظیریں پیش کیں۔مدینہ سے کوچ کرتے وقت اسلامی افواج کے ہر تین آدمیوں میں ایک اونٹ تھا۔اسی طرح راستہ پیادہ کی رفتار سے طے کیا گیا، نیز ہر مجاہد نے تین چوتھائی حصہ چل کر طے کیا۔حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے شریک مرکب حضرت علیؓ، حضرت ابو لبابہؓاو حضرت زید بن حارثہؓتھے۔اصول کے مطابق ان تینوں کو باری باری سوار ہونا تھا۔مگر یہ تینوں کیسے گوارا کرسکتے تھے ان کے مولا و آقاپیدل چلیں اور وہ سواری پر۔ان تینوں جانثاروں نے یہ پیش کش رکھی کہ ”ہم خوشی سے پیدل چل لیں گے آپ سوار رہیں“شاید دنیا کا کوئی اور قائد ہوتا تو وہ یہ پیش کش قبول کرلیتا اور اس کے پاس سواری کرنے کیلئے سو دلیلیں بھی ہوتیں۔مگر محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم صرف سپہ سالار اور کمانڈر ان چیف نہیں تھے کہ آپ کا مقصد دشمنوں پر رعب ڈالنا مقصد ہوتا۔بلکہ قیامت تک آنے والے لوگوں کیلئے معلم انسانیت تھے۔ اس لیے یہ کیسے ہوسکتا تھا کہ آپ ﷺسواری پر چلیں اور آپ کے شریک پیادہ۔ارشاد فرمایا:

نہ تم سب پیادہ روی میں مجھ سے زیادہ طاقتور ہو اور نہ میں ثواب حاصل کرنے سے بے نیاز ہوں“آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہی وہ مساوات اور دلبرانہ قیادت کا نتیجہ تھا کہ اپ نے میدان فتح کرنے سے زیادہ لوگوں کے دلوں پر حکمرانی کی۔

مکہ میں کفار جب مسلمانوں پر حملہ کرنے کی تیاریوں میں مصروف تھے اس حضرت حذیفہ اوران کے والد حضرت یمان زیارت کعبہ کیلئے مکہ میں موجود تھے۔دشمنوں نے ان دونوں باپ بیٹے کو جاسوسی کے الزام میں گرفتار کرلیا گیا۔ان دونوں نے بڑی مشکل سے کفار کو یہ سمجھایا کہ وہ جاسوس نہیں ہیں۔بڑی مشکل سے اس عہد کے ساتھ جان چھوٹی کہ کل کے دن اگر مسلمانوں سے مقابلہ ہوا تو وہ لڑنے کیلئے نہیں آئیں گے۔دونوں باپ بیٹے تلوار کے سایہ میں وعدہ کرکے مدینہ واپس ہورہے تھے کہ راستے میں بدر کی طرف کوچ کررہے اسلامی افواج سے ملاقات ہوگئی۔سارا ماجرا کیا اور محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم سے جہاد میں شرکت کی اجازت مانگی۔مسلمان کسی صورت میں وعدہ خلافی نہیں کرسکتا۔مومن کا وعدہ تو پتھر کی لکیر اور قرض کی طرح واجب الادا ہے۔ اسلامی افواج میں آدمی کی کمی ہے اس کے باوجود ارشاد فرمارہے ہیں کہ”تم اپنے گھر جاؤ اور عہد کی پابندی کرو،رہی فتح تو وہ ہم اپنے رب سے مانگیں گے جو اس پر قادر ہے“(سیرت احمد مجتبیٰ صلی اللہ علیہ وسلم)

عین جنگ کے وقت انصاف کا عظیم الشان مظہر
دونوں طرف جنگ کی تیاری مکمل ہے۔ دشمنوں کا مقابلہ کرنے کیلئے صفیں درست کی جارہی ہیں۔مجاہد اعظم، سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم نے مجاہدوں کی صفوں کا معائنہ فرمارہے ہیں کہ دیکھا کہ ایک مجاہد صف سے باہر نکل آیا ہے فرمایا اپنی صف میں رہو۔ کچھ دیر کے بعد نظر پڑی تو دیکھا پھر صف کے باہر ہے۔متنبہ فرمایاتو وہ صف میں شامل ہوگیا۔کچھ دیر کے بعدوہاں سے گزر ہوا تو پھر انہیں بے ترتیب پایا۔ہاتھ میں جو تیر تھا اس سے ہلکا سا کچو کا دیا اور فرمایا سواد بن غزیہ تم بار بار اپنی صف کو کیوں توڑ دیتے ہو۔مجاہد چیخ اٹھااور کہا کہ یارسول اللہ صلی علیہ وسلم آپ نے مجھے ایذا پہنچائی۔اللہ نے آپ کو حق اور عدل کے ساتھ مبعوث فرمایا ہے۔ مجھے بدلہ دیجئے۔ارشاد ہوا کہ کیا تم بدلہ لینا چاہتے ہو؟ عرض کیا کہ ہاں،فرمایااس تیر سے اپنا انتقام لو، مجاہد سواد بن غزیہ نے کہا کہ میرے جسم پر تہبند کے علاوہ کوئی کپڑا نہیں ہے۔آپ ﷺ کے جسم اطہر پر پیرہن ہے۔بدلہ کس طرح لوں،چشم فلک متعجب انداز میں پورا نظارہ دیکھ رہی ہے اورموقع پر موجود جانثاران محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم دم بخود یہ نظارہ دیکھ رہے ہیں کہ دنیا میں عد ل و انصاف کی تاریخ رقم کرنے والے محسن انسانیت نے اپنا پیرہن اٹھا دیا۔سوادؓبن غزیہ بڑھے اور اپنا تیر ایک طرف پھینک دیا۔بے اختیار جسم اطہر کو جگہ جگہ سے سے بوسہ دینے لگے۔عرض کیا یارسول اللہ کہا ں کا بدلہ اور کہاں کا انتقام؟مصاف جنگ میں کھڑا ہوں،جانے کدھر سے کوئی تیر اور وہ قضا بن جائے۔شہادت کی تمنا میں آیا ہوں،آپﷺ سے پھر ملاقات ہو یا نہیں،دل نے چاہا کہ شہادت سے پہلے اپنے ہونٹو کو جسم مبارک سے مس کرلو تاکہ اس کی برکت سے نار جہنم سے محفوظ ہوجاؤں۔اس لیے صف سے بار بار باہر ہورہا تھا۔ورنہ کیا مجال کے آپ ﷺ کے حکم سے سرتابی کروں۔(سیرت بن ہشام، کتاب المغازی مصنفہ ابن واقدی)

قیدیوں کے ساتھ حسن سلوک

آج کی دنیا خود کو مہذب اور ترقی یافتہ اور روشن خیالی کے خبط عظمت میں مبتلا ہے۔خود فہمی میں مبتلااور روشن خیالی کے زعم میں گرفتار قوموں کا کردار متضاد ہے ایک طرف ان کی روشن خیالی کی انتہا ہے کہ وہ جانوروں کی موت پر چیخ اٹھ تے ہیں۔اسے انسانیت کی تذلیل قرار دے کر مرتکبین کو انجام کار تک پہنچانے کا اعلان کرتے ہیں۔تو دوسری طرف گوانتاناموبے، عراق اور افغانستان میں عقوبت خانے میں قیدیوں کے ساتھ ان کا سلوک ہے جسے دیکھ کر انسانیت کیا جانور بھی شرمندہ ہوجائے۔ان نام نہاد مہذب قوموں نے قیدیوں کے ساتھ بدسلوکی اور ظلم و تشددکی ایسی مثالیں قائم کی ہیں قیامت تک آنے والی قومیں اس پر شرمندہ ہوتی رہیں گی۔لیکن معلم انسانیت صلی اللہ علیہ وسلم نے قیدیوں کے ساتھ حسن سلوک کی ایک نئی طرح ڈالی۔پندرہ دنوں تک بدر کے قیدیوں کے مستقبل سے متعلق کوئی فیصلہ نہیں ہوسکا مگر کیا مجال کہ کوئی ان کے ساتھ بدسلوکی کرسکے۔ام المومنین حضرت سودہ ؓخود بیان کرتی ہیں کہ انہوں نے بدر کے قیدی ابو یزید سہیل بن عمر و جنہوں نے صلح حدیبیہ کی شرائط لکھا تھا دونوں ہاتھ رسی سے گردن میں بندھے کھڑے ہیں کو دیکھ کر کہا کہ اے ابو یزیدقیدی بننے کی ذلت پر عزت کی موت کیوں نہ مڑگئے۔اچانک حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی آواز آئی کہ اے سودہؓ کس چیز نے تجھے اللہ و رسول کی نافرمانی پر ابھار دیا ہے۔حضرت سودہ نے اپنے اس غلطی پر معذرت کی۔ ابو یزید سہیل بن عمر و بڑے شعلہ بیان مقرر تھے۔اپنی شعلہ بیانی سے اسلام کے خلاف دشمنوں کو ابھارتے اور حوصلہ دیتے تھے۔حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے مشورہ دیا کہ یارسول اللہ اس دشمن اسلام کے آگے کا دانت نکلوادیجئے تاکہ وہ آئندہ کبھی بھی دشمنوں کو اسلام کے خلاف ابھار نہ سکے۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر میں اس کے اعضاء کو بگاڑوں گا تو اللہ میرے ساتھ بھی یہی سلوک فرمائے گا۔اگر چہ کہ میں اس کا رسول ہوں، کیا عجب کہ کل یہ اس مقام پر کھڑا ہو جہاں پر تم ہو۔آپ کی نگاہ بصیرت نے ان کا مستقبل دیکھ لیا تھا آخر کا ر فتح مکہ کے موقع پر ابو یزید سہیل بن عمر و مشرف بہ اسلام ہوئے اور وفات نبوی کے رونما ہونے والے فتنہ ارتداد پر نہ صرف ثابت قدم رہے بلکہ اپنے شعلہ بیانی سے دوسروں کو بھی ارتداد سے بچاتے رہے۔ان کا مشہور جملہ ہے ”اے اہل مکہ!تم ایمان لانے میں دیر کی، کہیں اس سے پھر جانے میں پہل نہ کرنا۔

سیاست اور ملکی حالات کا تقاضاتھا کہ تمام قیدیوں کا قتل کردیا جائے تاکہ دشمنو ں پررعب قائم کیا جائے مگر محسن انسانیت جو انسانیت کی رہنمائی اور اس کے خیر کیلئے دنیا میں آئے تھے۔ان کے نزدیک سیاست سے زیادہ اہم دنیا کو امن وامان کا پیغام دینا تھا چناں چہ حکم ہوا کہ فدیہ دیں اور اپنے قیدیوں کو لے جائیں اور جو قیدی دینے سے قاصر ہیں وہ مدینہ کے بچوں کو تعلیم دیں اور مدت مکمل ہونے کے بعد رہا ہوجائے۔رواداری کا عالم یہ کہ جنگ کے دورا ن ہدایت دی کہ شعب ابی طالب میں حصار کے دوران مکہ کے جن نوجوانو ں نے ہمدردی کا اظہار کیا تھا۔ان کیلئے واضح ہدایت تھی۔ان میں العاص بن حارث بن اسد بھی تھے۔کعبے میں لٹکے ہوئے ظالمانہ معاہدہ کو منسوخ کرانے میں اہم کردار ادا کیا تھا۔معرکہ کارزار جب گرم تھا تو وہ حضرت مجذر بن زیاد انصاری کی زد میں آیا۔انصاری صحابی نے اپنی تلوار روک لی اور کہا کہ ہمیں تجھے قتل کرنے سے منع کیا گیا ہے۔العاص بن حارث کے ساتھ جنادہ بن ملیح بھی تھا۔انہوں نے پوچھا کہ اس کو امان حاصل ہے۔مجذر نے کہا کہ امان صرف تم کو حاصل ہے۔العاص نے بولا کہ مکہ کی عورتیں مجھے طعنہ دیں گی کہ اپنی جان بچانے کیلئے اپنے ہم سفر کو چھوڑدیا۔اس نے حملہ کیا اور جوابی حملے میں حضرت محذر کے ہاتھوں ہلاک ہوا۔حضرت محذر نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ میں نے پوری کوشش کی کہ وہ میرے ہاتھوں گرفتار ہوجائے مگر وہ ماراگیا۔

بدر کے میدان میں آکر وہ روح کائنات
ہم مسلمانوں کو راز زندگی سمجھاگیا

متعلقہ خبریں

تازہ ترین