Saturday, February 21, 2026
homeاہم خبریںانجمن ترقی اردو کاجشن یا اردو کاجنازہ؟ --مادری زبان کا قتل تماشہ...

انجمن ترقی اردو کاجشن یا اردو کاجنازہ؟ –مادری زبان کا قتل تماشہ بن گیا

کولکاتا(انصاف نیوزآن لائن)

آج پورا عالم ’’یوم مادری زبان‘‘ منا رہا ہے۔ ماں کی گود کی پہلی آواز کو خراج تحسین پیش کر رہا ہے۔ مگر مغربی بنگال میں ایک تقریب ایسی بھی ہے جس نے اس مقدس دن کو ’’جشن‘‘ کا رنگ دے کر اصل سوالات کو دفن کر دیا ہے۔ انجمن ترقی اردو ہند کاآج کا دعوتی پروگرام دراصل اردو زبان کے جنازے کا فاتحہ خوانی پروگرام ہے۔انجمن کا دعوت نامہ دیکھ کر آنکھیں شرم سے جھک جاتی ہیں۔ جس انجمن کا قیام ہندوستان میں اردو کے فروغ کے لیے ہوا تھا، آج وہی انجمن ایک عریاں تماشا بن کر رہ گئی ہے۔ اس دعوت نامے میں نہ کوئی پروگرام ہے نہ کوئی منشور، نہ کوئی لائحہ عمل ہے نہ کوئی مستقبل کا نقشہ۔ بس چند نام ہیں اور ان ناموں کے پیچھے پوری اردو برادری کو بھینٹ چڑھانے کی سازش ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ جب کوئی ادارہ اپنے وجود کا مقصد بھول جائے تو اس کے پروگرام بھی بے روح ہو جاتے ہیں۔ انجمن کایہ پروگرام بھی اسی بے روحی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔انجمن ترقی اردو کا سب سے المیہ یہ ہے کہ یہ ادارہ حکومت کی ’چمچہ گیری‘ میں مبتلا ہو گیا ہے۔ یہ ادارہ آزادانہ آواز اٹھانے کی بجائے ہر بار حکومت کے اشاروں پہ ناچتا ہے۔

آج مغربی بنگال کے اردو اسکولوں کا کیا حال ہے؟ ہزاروں اسامیوں پر استاد نہیں۔ بچے کتابوں کو ترس رہے ہیں۔ اور انجمن؟ انجمن شاید ان اسکولوں کا وجود بھول چکی ہے۔ انجمن کو نہیں معلوم کہ ضلع ہگلی اور ہوڑہ کے کسی قصبہ میں کتنے اردو اسکول ہیں اور طلبہ و اساتذہ کا تناسب کیا ہے ؟انجمن کو پتہ نہیں کہ 24 پرگنہ کے کس اسکول میں اردو کا کتنے استاد ہیں۔انجمن کو صرف پروگراموں سے غرض ہے، شامیانوں سے محبت ہے، دعوت ناموں سے عشق ہے۔ باقی سب بیکار ہے۔

انجمن ترقی اردو ہند کی تاریخ کون نہیں جانتا؟ اس انجمن نے برسوں اردو کے نام پر سیاست کی۔ اس انجمن نے عرصہ دراز اردو کے نام پر شہرت پائی۔ مگر آج یہ انجمن اپنی تاریخ کو خود قتل کر رہی ہے۔ آج یہ انجمن ان لوگوں کو دعوت دیتی ہے جن کا اردو سے کوئی واسطہ نہیں، اور انہیں نظر انداز کرتی ہے جو برسوں اردو کی خدمت کر رہے ہیں۔انجمن کے آج کے اس پروگرام کا نام ’یوم مادری زبان‘ کا جشن ہے۔ مگر اصل میں یہ اردو زبان کی قبر پہ ناچنے کا پروگرام ہے۔ جب غالب کے نام پہ محفلیں سجتی ہیں، میر کے نام پہ مشاعرے ہوتے ہیں، فورٹ ولیم کے نام پہ سیمینارز ہوتے ہیں، تو لگتا ہے کہ یہ خدمت ہے۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ یہ سب اردو کی اصل مشکلات سے آنکھیں چرانے کا ہتھکنڈہ ہے۔

اب سوال یہ ہے کہ یہ تماشا کب تک چلے گا؟ یہ تماشاگر کب تک خاموش بیٹھے رہیں گے؟ یہ جلتے مسائل کو نظر انداز کرنے کا سلسلہ کب تک جاری رہے گا؟آج عالمی یوم مادری زبان کے موقع پہ ہم انجمن اور اس کے جشن میں شامل ہونے والے راجیہ سبھا کے رکن مغربی بنگال اردو اکادمی کے وایس چیئرمین جناب محمد ندیم الحق ‘انجمن کے سرپرست جاوید احمد خان اورانجمن کے سربراہ اظہارعالم سے چند سوال ہے کہ انجمن گزشتہ پندرہ برسوں میںنے اردو کے لیے کیا کیا؟ کتنے اسکول کھلوائے؟ کتنے استاد بھرتی کرائے؟اگر ان سوالوں کا جواب نفی میں ہے تو پھر سوال یہ ہے کہ تو پھر عالمی یوم مادری زبان پر جشن منانے کا اخلاقی حق ہے ؟حکومت کی قصیدہ خوانی کرنے پر شرم کیوں نہیں آتی ہے؟۔

آج عالمی یوم مادری زبان ہے۔ آج کا دن ہمیں یاد دلاتا ہے کہ زبان صرف بولنے کا نام نہیں، زبان زندہ رہنے کا نام ہے۔ زبان صرف لکھنے کا نام نہیں، زبان سانس لینے کا نام ہے۔ زبان صرف پڑھنے کا نام نہیں، زبان وجود کا نام ہے۔ انجمن ترقی اردو کے دعوت نامے پہ لکھے نام شاید کل بھول جائیں گے۔ مگر وہ لاکھوں بچے جو اردو پڑھنا چاہتے ہیں، ان کی آوازیں کل بھی سنی جائیں گی۔وہ کروڑوں عوام جو اردو بولتے ہیں، ان کی خواہشیں کل بھی زندہ رہیں گی۔

متعلقہ خبریں

تازہ ترین