(یہ مضمون انگریزی اخبار دی انڈین ایکسپریس کی ایک رپورٹ کی روشنی میں مرتب کیا گیا ہے)
بنگلہ دیش کی پہلی خاتون وزیراعظم خالدہ ضیاء، جنہوں نے سابق وزیراعظم شیخ حسینہ کے ساتھ مل کر گزشتہ 35 سالوں میں ملک کی سیاست کو تشکیل دیا، منگل کو 80 سال کی عمر میں انتقال کر گئیں۔
’’بیگم خالدہ ضیاء‘‘ کے نام سے مشہور، جو 1991 سے 1996 اور 2001 سے 2006 تک بنگلہ دیش کی وزیراعظم رہیں، کا بھارت کے ساتھ تعلق پرآشوب رہا، کیونکہ انہوں نے اپنے ملک میں نظریاتی اور قطبی جدوجہد کو نبھایا اور اپنے دو ادوارِ اقتدار میں بھارت کے تین وزرائے اعظم – پی وی نرسمہا راؤ، اٹل بہاری واجپائی اور منموہن سنگھ – سے تعلقات استوار کیے۔
ان کا آخری دورِ وزارت عظمیٰ 2001 سے 2006 تک بھارت کے لیے تلخ یادوں کا باعث بنا۔بنگلہ دیش میں بھارت مخالف دہشت گرد گروپوں اور شمال مشرقی بھارت کی باغی گروپوں کو کھلی چھوٹ مل گئی۔ اس کی وجہ سے ان کے اور ان کی پارٹی کے بھارت کی حکومت سے تعلقات کو متاثر کیا۔ شیخ حسینہ کی واپسی کے بعد هبھارت مخالف سرگرمیوں پر پابندی لگا دی۔

ضیاء الرحمان 1975 میں بنگ بندھو شیخ مجیب الرحمان کے قتل کے بعد 1977 میں صدر بنے ۔ان کی اہلیہ خالدہ ضیاء بنگلہ دیش کی فرسٹ لیڈی کے کردار میں ڈھل گئیں۔ اپنے شوہر کے 1981 میں قتل کے بعد انہوں نے سیاست میں قدم رکھا اور 1984 میں بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) کی قیادت سنبھالی۔
ایک سیاسی نوآموز کے طور پر انہوں نے جنرل حسین محمد ارشاد کی فوجی حکومت کے خلاف تحریک کی قیادت کی اور جمہوریت کی بحالی کے لیے احتجاج کیا۔
اس موقع پر فوجی حکومت کے خلاف تقریباً آٹھ سال کی جدوجہد کے بعدانہوں نے اپنی سخت حریف حسینہ سے اتحاد کر کے ارشاد کو اقتدار سے ہٹانے کیلئے سیاسی حکمت عملی کا مظاہرہ کیا۔ بعد میں ان کی رقابت دوبارہ شروع ہوئی اور’’بگیمز کی جنگ‘‘ کے نام سے مشہور ہو گئی۔
بیگم خالدہ ضیا 1991 کے انتخابات میں کامیابی حاصل کی اور پہلی مرتبہ بنگلہ دیش کی خاتون وزیر اعظم منتخب ہوئیں ۔صدارتی نظام سے پارلیمانی نظام کی طرف منتقلی کی نگرانی کی، 1991 میں ویلیو ایڈڈ ٹیکس متعارف کرایا، دیہی علاقوں میں لڑکیوں کی سیکنڈری تعلیم مفت کی، اور نگراں حکومت کا نظام متعارف کرایا۔
الزامات بھی لگے کہ 2001 سے 2006 جو ان کی دوسری دور مدت تھی میں ان کے بیٹے طارق رحمان پر بدعنوانی اور کرپشن کے الزامات بھی لگے ۔طارق رحمان پر اپنی ماں کی جگہ حکومت چلانے کے الزامات لگے۔

ضیاء نے بھارت میں ہندو-مسلم سیاست کے زیرِ زمین دھاروں کو بھی نبھایا۔کیوں کہ وہ 1992 میں بابری مسجد کی شہادت اور 2002 میں گجرات فسادات کے وقت اقتدار میں تھیں۔
انڈین ایکسپریس کے شبھاجیت رائے کوجون 2014 میں بی این پی کے دفتر میںانٹرویو دیا تھا ۔اقتدار سے باہر ہونے کے بعد بھارتی مین سٹریم اخبار کو ان کا پہلا انٹرویو تھا، اور وہ بنگلہ دیشی میڈیا کو بھی شاذ و نادر انٹرویو دیتی تھیں۔
انٹرویو آدھی رات کے بعد ہوا – وہ دیر سے اٹھنے والی کے طور پر مشہور تھیں اور دوپہر سے دیر رات تک ملاقاتیں کرتی تھیں – ضیاء نے دی انڈین ایکسپریس کو بتایاکہ جب بابری مسجد کی شہادت ہوئی، میں وزیراعظم تھی، اور میں نے فوری طور پر فرقہ وارانہ تناؤ بھڑکانے کی کوشش کرنے والے عناصر پر پابندی لگا ئی۔ ہم نے شہادت کی ٹی وی کوریج بلاک کر دی۔ میرے وزراء نے ہندو برادری کی حفاظت میں راتیں جاگ کر گزاریں۔
یہ نئی بھارتی حکومت کی طرف ان کی پیشکش تھی، کیونکہ انہوں نے ایک سال بعد مودی کی بنگلہ دیش کی پہلی آمد پر ان سے ملاقات کی۔
انٹرویو میں، جو کئی بنگلہ دیشی اخبارات نے دوبارہ شائع کیا، جب مودی حکومت کے بارے میں ان کی رائے پوچھی گئی تو انہوں نے کہا کہ
’’کوئی حتمی فیصلہ کرنے کے لیے ابھی بہت جلدی ہے۔ یہ بھارت کے عوام پر منحصر ہے کہ وہ فیصلہ کریں۔ تاہمکوئی تبدیلی بہتر کی امید جگاتی ہے۔ ہماری دلچسپی یہ دیکھنے میں ہے کہ ہمارے دوطرفہ تعلقات اور خطے میں کیا ہوتا ہے۔. ان کی حکومت کا پڑوسی ممالک کے عوام سے تعلقات استوار کرنے پر توجہ، نہ کہ کسی خاص سیاسی پارٹی سے، ایک اہم تبدیلی ہے۔
اگر 1990 میں حسینہ کے ساتھ سیاسی اتحاد کا نایاب لمحہ ضیاء کی تقدیر کو بنگلہ دیش کی پہلی خاتون وزیراعظم بنانے اور ملک کی تاریخ بدلنے کا باعث بنا۔تو 2013 میں حسینہ کے نگراں حکومت کے تحت انتخابات نہیں کرانے پر انتخابات کا بائیکاٹ ان کی ’’سیاسی غلطی‘‘ سمجھا جاتا ہے، جیسا کہ ان کے کئی ساتھیوں اور بنگلہ دیش کے تجزیہ کار کہتے ہیں۔

ان کی پارٹی، جسے سڑکوں پر بہت حمایت حاصل تھی اس سیاسی منظر میں جہاں بنگلہ دیش عوامی لیگ اور بی این پی کو باری باری موقع دیتا تھا ۔’’ریوالونگ ڈور کنونشن‘‘ کے مطابق – حزب اختلاف میں رہی، کیونکہ حسینہ نے اس کے بعد اقتدار پر گرفت مضبوط کر لی اور 2018 اور 2024 میں دھاندلی شدہ انتخابات میں بی این پی کو شکست دی۔

2014 سے 2024 تک اگلے 10 سالوں میں ضیاء کی بی این پی کو حسینہ کےسخت اقدامات کا مقابلہ کرنا پڑا۔خالدہ ضیا کو بدعنوانی کے تحت گرفتارکرلیا گیا ۔وہ خود، بی این پی کے کئی رہنما اور کارکن جیل میں رہے۔ انہیں حکومت کی پالیسیوں کے خلاف احتجاجی مظاہروں کی اجازت تک نیںملتی تھی۔
2018 میں، انہیں ضیاء یتیم خانہ ٹرسٹ سے متعلق بدعنوانی کے الزام میں جیل کی سزا سنائی گئی اور انہیں پرانے ڈھاکہ سینٹرل جیل میں رکھا گیا۔ کوویڈ-19 وباء کے دوران 2020 میں مشروط رہائی کے بعد بھی، بیمار رہنما اپنے گھر تک محدود رہیں۔

اگست 2024 میں، جب طلبہ کے احتجاج اور بی این پی اور جماعت کے کارکنوں کی حمایت سے حسینہ کا رجیم ختم ہو گیا، تو انہوں نے “انتقام کی سیاست کو مسترد کرنے” کی اپیل کی۔
ان کے بیٹے طارق رحمان 25 دسمبر کو ڈھاکہ واپس آئے، جب ان کی صحت گزشتہ چند ہفتوں میں خراب ہو گئی تھی۔

دی انڈین ایکسپریس کو انٹرویو میں، انہوں نے بنگلہ دیش میں دو خاندانوں کے سیاست پر غلبہ کی تاثر کو مسترد کیا اور پوچھا کہ کیا یہ آنے والے سالوں میں جاری رہے گا۔
’’یہ درست نہیں۔ خاندانوں کو عزت اس لیے ملتی ہے کیونکہ مجیب الرحمان کا حصہ تھا، ضیاء الرحمان کا حصہ تھا۔ عوام کا ان پر اعتماد ہے… دیکھیں، یہ صرف سیاست کی بات نہیں – ایک بیرسٹر کا بیٹا بیرسٹر بنتا ہے، ڈاکٹر کا بیٹا ڈاکٹر، تاجر کا بیٹا تاجر۔ تو سیاستدان اپنے خاندان کے اراکین میں دلچسپی پیدا کرتے ہیں۔ اور پھر یہ عوام پر آتا ہے – وہ کس کو قبول کرتے ہیں، یہی کلیدی ہے۔ اگر قبول نہ کریں تو وہ باہر ہو جائیں گے‘‘۔
جبکہ ان کی میراث متنازع ہے، ان کی پارٹی بی این پی فروری 2026 کے بنگلہ دیش انتخابات میں قیادت کرنے کے لیے تیار نظر آتی ہے۔ اوپر والی سطر ان کے بیٹے طارق کے لیے ان کی حکمت بھری بات ہو سکتی ہے، جو اب بی این پی کو انتخابات میں لے جانے کی توقع رکھتے ہیں۔

ایک فوجی حکمران کے گرد قائم ہونے والی پارٹی کو انہوں نے عوام کے لیے جمہوری قوت بنا دیا۔ بنگلہ دیشی قوم پرستی پر ان کے اٹل ایمان نے بی این پی کو کثیر جماعتی جمہوریت کی محافظ کے طور پر قائم کیا—پہلے فوجی آمریت کے خلاف، اور بعد میں یک جماعتی غلبے کے خلاف۔ان کی قیادت میں پارٹی متحد رہی اور حزبِ اختلاف میں خود کو دوبارہ منظم کیا۔ ظلم و ستم کے باوجود وہ ثابت قدم رہیں۔ گزشتہ پندرہ سالوں میں عوامی لیگ کی حکومت نے انہیں ان کے گھر سے بے دخل کیا، نظر بند کیا، اور بدعنوانی کے مقدمات میں سزاسنایا علاج سے محروم رکھا گیا، دباؤ ڈالا گیا۔پھر بھی وہ غیر مصالحتی اور باوقار رہیں۔بی این پی کے رہنما اور کارکنوں کو دفاتر میں بیٹھنے، سڑکوں پر کھڑے ہونے سے روکا گیا؛ وسیع پیمانے پر گرفتاریاں اور جبر کا سامنا کرنا پڑا۔ پھر بھی انہوں نے ان کا ساتھ نہیں چھوڑا۔ یہ پارٹی کے اندر ان کی وسیع قبولیت کو ظاہر کرتا ہے۔انہوں نے تین بار وزیراعظم کے طور پر خدمات انجام دیں۔دو بار مکمل مدت کے لیے اور ایک بار تقریباً ایک ماہ کے لیے، جس دوران حزبِ اختلاف کے مطالبے پر انتخابات کے دوران نگراں حکومت کا نظام آئین میں شامل کیا گیا۔

خالدہ ضیاء دیگر حکمرانوں سے اس لحاظ سے ممتاز ہیں کہ انہیں کبھی آمرانہ نہیں کہا گیا۔ جس حلقے سے بھی انہوں نے مقابلہ کیا، وہ کبھی نہیں ہاریں۔ بوگرا سے ڈھاکہ، خُلنا سے فینی تک—ان کی فتوحات ان کی ملک بھر میں مقبولیت اور قبولیت کو ظاہر کرتی ہیں۔ان کے کیریئر سے غیر مصالحتی اصولوں کی قدر بھی اجاگر ہوتی ہے۔ 1986 کے انتخابات کا بائیکاٹ کر کے انہوں نے سیاسی تنہائی کا خطرہ مول لیا، لیکن آخر کار آمریت کی اٹل مخالف کے طور پر ساکھ حاصل کی۔ان کی سیاست بے عیب نہیں تھی—تنازعات، بدعنوانی کے الزامات اور سیاسی غلطیاں بھی رہیں۔ پھر بھی بنگلہ دیش کے جمہوری سفر کی رہنمائی میں انہوں نے ثابت کیا کہ قیادت کے لیے استقامت، موافقت اور مشکلات میں بھی لوگوں کو متاثر کرنے کی صلاحیت درکار ہوتی ہے۔جب تاریخ انہیں یاد کرے گی تو ایک حقیقت سب سے بلند ہوگی—حقیقی قیادت کبھی خوف یا زور سے نہیں بنتی، بلکہ عوام پر یقین سے بنتی ہے۔ ان کی طاقت، ان کے خوابوں اور ان کی عزت پر ایمان رکھنا ہی ان کا اعتماد جیتتا ہے۔ اور یہی اعتماد کا رشتہ ایک غیر معمولی رہنما کو باقیوں سے الگ کرتا ہے۔ خالدہ نے وہ رشتہِ اعتماد مضبوطی سے باندھ لیا تھا۔
