Saturday, November 29, 2025
homeاہم خبریںہگلی محسن کالج کے شعبہ اردو میں’’اردو صحافت اور موجودہ صورت حال...

ہگلی محسن کالج کے شعبہ اردو میں’’اردو صحافت اور موجودہ صورت حال ‘‘ کے عنوان سے منعقد سیمینار روایتی سیمیناروں سے منفزد۔ بھاری بھرکم شخصیات کے بجائے کالج کے ریسرچ اسکالرس اور ایم اے کے طلبا نے معیاری مقالہ پیش کیا۔

ہگلی : انصاف نیوز آن لائن

گزشتہ دن پیرکو ’’ہگلی محسن کالج ‘‘ میںمنعقد ’’اردو صحافت کی موجودہ صورت حال ‘ کے عنوان سےمنعقد سیمینا راردو کے روایتی سیمیناروںسےمنفرد اور ایک الگ قسم کا تجربہ تھا اس سیمینار میںسیشن کےصدر، بھاری بھرکم شخصیات کی طویل تقریر وں کے بجائے کالج کے ریسرچ اسکالرس اور ایم اے کے طلبا نےنہ صرف مقالہ پیش کیا بلکہ بھر پور موقع دیا گیا وہ اپنا مقالہ پیش اور ان کے مقالے معیاری بھی تھے۔اس اندازہ ہوا کہ طلبا و طالبات میں تدریسی نصاب سے باہر بھی مطالعہ کا شوق و ذوق ہے۔یہ اس بات کا ثبوت بھی ہے کہ کالج کے اردو شعبہ کے اساتذہ اپنی شخصیت کو نکھارنے اور اس کیلئے مارکیٹنگ کرنے کے بجائے طلبا کی صلاحیت کو نکھارنے پر توجہ دیتےہیں۔بیشتر مقالہ نگار طالبات تھیں۔ ان طلبا مقالے میں مواد میں تنوع ، معیار، مقالہ بڑھنے کے دوران جملے اور الفاظ کی ادائیگی میں سقم کم سے کم تھے۔



کلکتہ شہر کے اکیڈمی ، کالجوںاور یونیورسٹی میںمنعقد ہونے والے روایتی سیمینار وں میںعموماً ریسرچ اسکالروں کو مدعو نہیںکیا جاتاہے اوراگر مدعوبھی کیا جاتا ہے تو وہ اقرباپروری اور تعلقات کے نتیجے میںآتے ہیں۔ان کےمقالے سن کر مایوسی ہوتی ہے کہ اردو کا مستقبل ان ہاتھوںمیںکیسے محفوظ رہے گا؟۔مگر یہ تاثر ہگلی محسن کالج کے سیمینا ر میںشرکت کرنے کے بعد ختم ہوگیا ۔طالبات کے مقالے سننے کے بعد دو تاثر پیدا ہوئے پہلے یہ کہ کلکتہ شہر کے مقابلے مضافات کے کالجوںمیںحاضری بہت ہی زیادہ ہے اور طالبات میں پڑھنے کا شوق و ذوق بھیہے اور یہاںکے اساتذہ بھی تدریس پر توجہ دیتے ہیںاور دوسری بات یہ ہے کہ اطمینان بھی ہوا کہ ان طالبات کے ہاتھوں میں اردو کا مستقبل محفوظ ہے۔

سیمینار کا افتتاح کالج کے پرنسپل ڈاکٹر پورش اتم پرمانک نے کرتے ہوئے اردو شعبہ کو مبارک بادی اور انہوں نے کہا کہ اردو شعبہ کی سرگرمیوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ یہ شعبہ کالج کا معیاری اور ایک اہم شعبہ ہے۔اس موقع پر دہلی سے آئے مہمان شاعر و صحافی ایم جے خالد کو ’’محسن اردو صحافت‘‘ کے ایوارڈ سے نوازا گیا ۔ایم جے خالد الیکٹرنک اور پرنٹ میڈیا دونوںسے وابستہ رہے ہیں اور اس کے علاوہ وہ ایک نامور شاعر ہے ۔ان کے شعری مجموعہ’’ستارہ شب سے ہم کلامی‘‘ کا دودن قبل کلکتہ میںرسم اجرا ہوا تھا۔ایوارڈ ملنے کے بعد ایم جے خالد نے اپنے مختصر خطاب میںاردو صحافت کے مبادیات پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ ان کیلئے محسن کالج کے پروگرام میںشرکت ایک خوشگوار تبصرہ رہا اور سب سے اہم بات یہ تھی کہ یہاں کے طلبا علمی سرگرمیوںبڑھ چڑھ کر حصہ لے رہے ہیں۔ان طالبات کو سن کر یہ اطمینا ن ہوا کہ اردو اور اردوصحافت کا مستقبل ان کے ہاتھوںمیںمحفوظ ہے۔بس ضرورت اس بات کی ہے کہ ان طلبا کی صحیح رہنمائی کی جائے ۔انہوں نے اردو شعبے کے صدر عمرغزالی کی فعالیت کی سراہنا کرتے ہوئے کہا کہ عمر غزالی اسم بامسمی ہے۔صدر شعبہ اردو عمر عزالی نے کالج کے تعارف کےساتھ ایم جے خالد کے صحافتی اور ادبی خدمات پر روشنی ڈالی ۔

کالج کا ایک فیکلٹی ہے اور ہم اس کی ترقی کیلئے کام کرتے رہیںگے ۔شعبہ اردو کے ایسوسی ایٹ پروفیسر ڈاکٹر محمد ہمایوں جمیل خان نے خیرمقدمی کلمات پیش کئے ۔مہمان خصوصی کی حیثیت سے کالج کے کوآرڈینیٹرڈاکٹر بکاش دےشریک تھے ۔مشہور نقاد و شاعر ابوذر ہاشمی نے کلیدی خطبہ اردو صحافت کے مستقبل اور اندرونی خامیوںکی طرف نشاندہی کی ۔کالج کے استاذ ڈاکٹر ارشاد احمد نے نظامت کے فرائض انجام دیا۔

سیمینار دو سیشن میں منعقد ہوئے پہلے سیشن کی صدات ابوذر ہاشمی نے کی ۔اس سیشن میںکل چھ مقالہ نگاروں نے اپنے مقالات پیش کئے۔ ریسرچ اسکالرچاندنی رحمان نے ’’ اکیسویں صدی میں اردو کی زرد صحافت ‘،نیہا پروین نے’’ اردو صحافت اور رجحانات ‘‘شبنم پروین نے’’اردو صحافت پرسوشل میڈیا کے اثرات ‘‘آفاق حیدر نے’’ اردو صحافت کی آبیاری میں غیر مسلموں کا کردار ‘‘ نوراللہ جاوید نے’’موجودہ دور میں اردو صحافت کے مسائل اور امکانات ‘‘ اور ڈاکٹر عمر غزالی نے ’’ دور حاضر میں اردو صحافت :ایک جائزہ جیسے اہم عنوانات پر پر مغز مقالے پیش کی۔ابوذر ہاشمی نے تمام مقالے بالخصوص طالبات کے مقالے کی سراہنا کی۔دوسرے اجلاس کی صدارت ڈاکٹر عمر غزالی نے کی۔ اس اجلاس میں کل سات مقالہ نگاروں نے اپنے مقالات پیش کئے۔ بشری نشاط نے اپنا مقالہ بعنوان ” الہلال کی روشنی میں عہد حاضر کی اردو صحافت ،نغمہ پروین نے ’’ ڈیجیٹل دور میں اردو صحافت ‘‘، درخشاں شمیم نے”ئئموجودہ دور میں اردو صحافت (بنگال کے خصوصی حوالے سے)‘‘،گلشن آراء کا تحریر کردہ مقالہ سیدآصف عباس میرزا نے ’’کرناٹک میں اردو صحافت‘‘،محمد اظہر الدین نے ئئ اردو صحافت: عہد حاضر کے مسائل اور مستقبل کے امکانات ‘‘محمد خورشید عالم نے” اردو صحافت پر جدید ٹکنالوجی کے اثرات ” اور ڈاکٹر ارشاد احمد نے ” کلکتے میں اردو صحافت کی موجودہ صورتحال ” جیسے اہم موضوعات پر مقالات پیش کئے۔سیشن کے صدر ڈاکٹر عمر غزالینے تمام مقالہ نگاروں کو مبارکباد دی اور انکے مقالات کی سراہنا کی۔ نظامت کے فرائض شبنم پروین نے بحسن و خوبی انجام دی جب کہ چاندی رحمان نے مہمانوںکاشکریہ ادا کیا۔

متعلقہ خبریں

تازہ ترین