ڈاکٹر محمد فاروق
سال 2025 ہندوستان کی سیاسی تاریخ میں ایک ایسے موڑ کے طور پر درج ہوگا جہاں جمہوریت کے ستونوں سے لے کر سرحدوں کی فصیلوں تک‘ہر شے تذبذب اور ہیجانی کیفیت کی زد میں رہی۔ یہ سال محض انتخابی جوڑ توڑ کا نہیں بلکہ اداروں کے زوال‘پراسرار استعفوں اور لہو رنگ مہم جوئیوں کا مجموعہ ثابت ہوا۔ اب جبکہ ہم سال 2025 کی تلخیوں اور ہنگامہ خیزیوں کو پیچھے چھوڑ کر نئے سال 2026 کی دہلیز پر قدم رکھ رہے ہیں‘تو یہ امید کرنا ہی عبث معلوم ہوتا ہے کہ گزشتہ سال کے تپتے ہوئے سیاسی سوالات خود بخود سرد ہو جائیں گے۔ ہم اپنے تمام قارئین کو نئے سال 2026 کی مبارکباد پیش کرتے ہیں‘مگر اس دعا اور تمنا کے ساتھ کہ یہ نیا سال محض کیلنڈر کی تبدیلی نہ ہو‘بلکہ اس میں شفافیت‘ عدل اور حقیقی جمہوری اقدار کا بول بالا ہو۔
اگر ہم گزرے ہوئے سال کا گہرائی سے جائزہ لیں تو دہلی سے پٹنہ تک اور اسلام آباد سے واشنگٹن تک‘بساط سیاست پر جو مہرے چلے گئے‘ان کی کڑیاں کسی گہرے اور اندوہناک پس منظر سے جڑی نظر آتی ہیں۔ بہار میں نتیش کمار کا دسویں بار مسند اقتدار پر براجمان ہونا بظاہر ایک سیاسی کرشمہ لگتا ہے‘لیکن اس جیت کے پیچھے الیکشن کمیشن کے جس اسپیشل انٹینسیو ریویژن (SIR) کا شور ہے‘اس نے جمہوری شفافیت کے پرخچے اڑا دیئے ہیں۔
بہار اسمبلی انتخابات (6 اور 11 نومبر) کے نتائج نے این ڈی اے کو بھاری اکثریت تو دے دی‘لیکن اس فتح پر 40 سے زائد ان گمنام اہلکاروں (بی ایل او) کے خون کے چھینٹے ہیں جو کام کے غیر انسانی دباؤ اور ذہنی تناؤ کی تاب نہ لا کر ہارٹ اٹیک یا خودکشی کی نذر ہو گئے۔ کیا یہ محض اتفاق ہے کہ چھ ریاستوں میں انتخابی فہرستوں کی درستی کے نام پر سرکاری مشینری کو اس قدر نچوڑا گیا کہ وہ لقمہ اجل بن گئے؟ اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی نے جس ووٹ چوری کا واویلا کیا اور ایک ایک کمرے کے مکان میں درجنوں ووٹرز کی موجودگی کے جو اعدادوشمار پیش کئے‘وہ چیخ چیخ کر کہہ رہے ہیں کہ سسٹم میں کہیں بہت بڑی دراڑ آچکی ہے۔ جب صفر نمبر والے مکانات سے سینکڑوں نام برآمد ہوں‘تو سمجھ لینا چاہئے کہ عوامی مینڈیٹ کو کس طرح تکنیکی ہیر پھیر کی بھینٹ چڑھایا جا رہا ہے۔ افسوس ناک امر یہ ہے کہ پارلیمنٹ کے سرمائی اجلاس میں ہنگامے تو ہوئے‘لیکن کوئی ٹھوس جواب سامنے نہ آسکا‘جس سے یہ تاثر قوی ہوا کہ طاقتور حلقے حقائق کو مسخ کرنے میں مصروف ہیں۔
قومی سیاست میں اصل زلزلہ اس وقت محسوس کیا گیا جب 21 جولائی 2025 کو نائب صدر جگدیپ دھن کھڑ نے اچانک استعفیٰ دے دیا۔ ایک ایسا شخص جو دن بھر ایوان کی کارروائی چلاتا رہا‘وہ شام کو صحت کا عذر پیش کر کے رخصت ہو جائے‘یہ بات کسی ذی ہوش کے گلے نہیں اترتی۔ دھن کھڑ کی خاموشی نے ان قیاس آرائیوں کو ہوا دی ہے کہ پردے کے پیچھے کچھ ایسا ہے جسے منظر عام پر لانے سے نظام کو خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔ اگرچہ 9 ستمبر کو سی پی رادھا کرشنن کو 15واں نائب صدر منتخب کر لیا گیا‘لیکن دھن کھڑ کا یہ پراسرار انخلا مودی حکومت کے اندرونی خلفشار اورآئینی عہدوں پر بڑھتے ہوئے دباؤ کا کھلا ثبوت ہے۔
اسی طرح بی جے پی کے اندر جے پی نڈا کا متبادل تلاش نہ کر پانا اور آر ایس ایس کے ساتھ بڑھتی ہوئی دوری اس بات کی غماز ہے کہ پارٹی کے اندر’مارگ درشک منڈل‘ کے 75 سالہ اصول کی تلوار صرف دوسروں کیلئے ہے‘صاحب اقتدار کیلئے نہیں۔
خارجہ پالیسی اور فوجی مہم جوئی کے میدان میں،،آپریشن سیندور“ایک ایسی داستان ہے جس کے ابواب ادھورے چھوڑ دیئے گئے۔ 22 اپریل کو پہل گام میں 26 معصوم جانوں کا زیاں انتہائی تکلیف دہ تھا‘جس کا جواب 7 مئی کو ’اسٹرائیک کیلئے تیار‘ کے نعرے کے ساتھ دیا گیا۔ نو ٹھکانوں کی تباہی اور 90 دہشت گردوں کی ہلاکت کی خبریں تو آئیں‘لیکن اس سارے منظر نامے میں ڈونالڈ ٹرمپ کا اچانک کود پڑنا اور 10 مئی کو جنگ بندی کا اعلان کرنا کسی معمے سے کم نہیں۔
ہندستان کو میدان جنگ میں برتری حاصل تھی‘پھر ٹرمپ کی ثالثی کیوں تسلیم کی گئی؟ کیا یہ سچ ہے کہ ہندستان کے 5 سے 6 طیارے گرائے گئے تھے؟ حکومت کی خاموشی اور ٹرمپ کا چار درجن بار اپنے دعوے کو دہرانا اس شک کو یقین میں بدلتا ہے کہ عوام سے کچھ چھپایا جا رہا ہے۔ مزید براں 10 نومبر کو دہلی میں ہونے والے کار بم دھماکے (جس میں 13 افراد ہلاک ہوئے) پر پاکستان کا نام لینے سے گریز کرنا‘پہل گام کے واقعے پر مچے واویلے کے بالکل برعکس تھا‘جو حکومت کی تضاد بیانی کو عیاں کرتا ہے۔
دہلی کے انتخابات نے اروند کیجریوال کی سیاست کے تابوت میں آخری کیل ٹھونک دی‘جہاں ریکھا گپتا نے اتیشی کی جگہ لی۔ لیکن کیا یہ تبدیلی دہلی کے دم گھٹتے ہوئے ماحول کو بدل پائی؟ فضائی آلودگی کا زہر آج بھی دہلی کے شہریوں کے پھیپھڑوں میں اتر رہا ہے اور سیاست دان صرف الزامات کی سیاست میں مگن ہیں۔ نیتی آیوگ کی’واٹر بجٹ رپورٹیں اور’ڈیولپڈ انڈیا ڈائیلاگ‘ کی سیمینار بازیاں اپنی جگہ‘لیکن زمینی حقیقت یہ ہے کہ نوجوان آج بھی روزگار کی تلاش میں بھٹک رہا ہے اور عام آدمی جی ایس ٹی کے پیچیدہ جال میں پھنسا ہوا ہے۔
مجموعی طور پر‘2025 کا سال اس تلخ حقیقت کو بے نقاب کر گیا کہ ہندوستان کی سیاست اب صرف عوام کی فلاح کا نام نہیں‘ بلکہ یہ اعدادوشمار کی جادوگری‘پراسرار استعفوں کی بساط اور سرحدوں پر بہتے خون کے سیاسی استعمال کا ایک خطرناک کھیل بن چکی ہے۔ جب تک اداروں کی خودمختاری بحال نہیں ہوتی اور ووٹ کی چوری کے الزامات کا منطقی حل نہیں نکلتا‘تب تک جمہوریت کے ماتھے پر یہ داغ برقرار رہیں گے۔ تاریخ گواہ ہے کہ جب محلاتی سازشیں اور عوامی مفادات آپس میں ٹکراتے ہیں‘ تو نقصان ہمیشہ قوم کا ہوتا ہے۔ اب وقت آگیا ہے کہ نظام اپنی غلطیوں کا اعتراف کرے‘ورنہ خاموشی کا یہ دھواں کسی بڑے طوفان کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتا ہے۔
