سپول:
جامعۃ القاسم دارالعلوم الاسلامیہ، مدھوبنی (سپول) کے تین کم سن طلبا نے محض ڈیڑھ برس کے قلیل عرصے میں حفظِ قرآنِ کریم مکمل کرکے ایک نئی مثال قائم کی ہے۔ قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ ان تینوں طلبا کی عمر 11 برس سے بھی کم ہے۔ اس شاندار کامیابی پر جامعۃ القاسم میں ایک پُروقار انعامی تقریب منعقد ہوئی، جس میں شریک علمائے کرام نے طلبا کو مبارک باد پیش کی اور ادارے کے تعلیمی نظام کو سراہا۔
علمائے کرام نے اس موقع پر کہا کہ جامعۃ القاسم کے بانی مفتی محفوظ الرحمن عثمانیؒ کی بے لوث قربانیاں اور مسلسل جدوجہد آج ثمرآور ثابت ہو رہی ہیں۔ انہوں نے جس جانفشانی سے اس ویرانے کو آباد کیا تھا، وہ آج شجرِ سایہ دار بن کر علومِ نبوت کی ترویج و ترقی میں نمایاں کردار ادا کر رہا ہے۔
تقسیمِ انعامات کی اس تقریب میں مولانا نسیم احمد مظاہری نے مشکوٰۃ شریف کا آخری درس دیا، جب کہ بیگوسرائے جمعیۃ علما کے صدر اور دارالعلوم دیوبند کے سابق مدرس مفتی خالد حسین نیموی نے حفاظِ کرام سے حفظ کی تکمیل کرائی۔
بہار کے معروف عالمِ دین اور جامع العلوم مظفرپور کے صدر مدرس مولانا اقبال احمد نے مدارسِ اسلامیہ کو بھارت کے مسلمانوں کے لیے مضبوط سائبان قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ ادارے نہ صرف دینی تعلیم بلکہ مسلمانوں کی تعلیمی، سماجی اور معاشی ترقی میں بھی اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مدارس کے فضلا نے بھارت کی آزادی سے لے کر مسلمانوں کی تنظیم و ترقی تک قائدانہ خدمات انجام دی ہیں۔
مولانا اقبال احمد نے جامعۃ القاسم کے تعلیمی نظام، طلبا کی صلاحیت اور نظم و ضبط پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مفتی محفوظ الرحمن عثمانیؒ کے خوابوں کی عملی تعبیر سامنے آ رہی ہے۔ انہوں نے جامعۃ کے مہتمم مولانا ظفر اقبال مدنی اور صدرالمدرسین مفتی انصار احمد قاسمی کی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ دونوں حضرات پوری محنت سے مفتیؒ کے مشن کو آگے بڑھا رہے ہیں۔
مفتی خالد حسین نیموی نے قرآنِ کریم کی عظمت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ یہ قرآن کا اعجاز ہے کہ کم عمر معصوم بچے قلیل مدت میں حفظ مکمل کر لیتے ہیں۔ انہوں نے حضرت شیخ الہند مولانا محمود الحسن دیوبندیؒ کے قول کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ مسلمانوں کی زبوں حالی کی ایک بڑی وجہ قرآن سے دوری اور باہمی انتشار ہے، جس کے خاتمے کے لیے قرآن کی تعلیمات کو عام کرنا ناگزیر ہے۔
جامعہ رحمانی، مونگیر کے استاذِ حدیث مولانا جمیل احمد مظاہری نے کہا کہ انہوں نے اس بستی کو ویرانی کے دور میں بھی دیکھا ہے، مگر مفتی محفوظ الرحمن عثمانیؒ نے جوانی ہی میں اسے آباد کرنے کا عزم کیا اور پوری زندگی اسی مقصد کے لیے وقف کر دی۔ آج یہاں جو قرآنی ماحول نظر آتا ہے، وہ انہی کے اخلاص اور للّٰہیت کا ثمر ہے۔

مشہور عالمِ دین مولانا سیف الاسلام قاسمی نے جامعۃ القاسم کے روحانی ماحول کو دیکھ کر حیرت کا اظہار کرتے ہوئے طلبا کو نصیحت کی کہ جہالت کے خاتمے کے لیے مفتی محفوظ الرحمن عثمانیؒ کے مشن کو آگے بڑھانا ان کی ذمہ داری ہے۔
اس موقع پر سپول کے مقامی علما اور معزز شخصیات، جن میں مولانا ضیاء اللہ رحمانی، مولانا مفتی صمید اظہر رحمانی،شاہ جہاں شاد حافظ اسلم پروانہ، ڈاکٹر شہاب الدین ثاقب قاسمی (سینئر سب ایڈیٹر، روزنامہ انقلاب)، مولانا شاہنواز بدر قاسمی (ڈائریکٹر، وژن انٹرنیشنل اسکول سہرسہ)، عارف اقبال (استاذِ اردو ادب، ہائی اسکول دربھنگہ) اور نوراللہ جاوید قاسمی شامل تھے،نے بھی خطاب کیا۔

جامعۃ القاسم کی جانب سے اس سال حفظ مکمل کرنے والے طلبا کو نقد انعامات، ایک جوڑا کپڑے اور کتب پیش کی گئیں۔ خصوصی طور پر کم عمری میں حفظ مکمل کرنے والے تین طلبا کو سائیکل بطورِ انعام دی گئی، جب کہ ان کے استاذ کو عمرہ کا ٹکٹ پیش کیا گیا۔ تقریری مقابلے میں نمایاں پوزیشن حاصل کرنے والے طلبا کو بھی خصوصی اور عمومی انعامات سے نوازا گیا۔
واضح رہے کہ جامعۃ القاسم دارالعلوم الاسلامیہ میں اس وقت 500 سے زائد طلبا زیرِ تعلیم ہیں اور تقریباً 100 افراد پر مشتمل عملہ خدمات انجام دے رہا ہے۔ ادارہ 500 طلبا کی مکمل کفالت کرتا ہے، جن میں اکثریت پسماندہ اور غربت سے متاثرہ طبقے سے تعلق رکھتی ہے۔
