Friday, March 20, 2026
homeاہم خبریںبنگال انتخابات: ممتا بنرجی کا 10 نکاتی 'پرتیگیا' منشور، مگر بڑھتے ہوئے...

بنگال انتخابات: ممتا بنرجی کا 10 نکاتی ‘پرتیگیا’ منشور، مگر بڑھتے ہوئے قرضے اور بجٹ کٹوتی نے کھڑے کیے سوالات

بنگال انتخابات: ممتا بنرجی کا 10 نکاتی ‘پرتیگیا’ منشور، مگر بڑھتے ہوئے قرضے اور بجٹ کٹوتی نے کھڑے کیے سوالات
کلکتہ: انصاف نیوز آن لائن

ترنمول کانگریس نے 10 انتخابی وعدوں پر مشتمل اپنا منشور جاری کر دیا ہے، جس میں ایک بار پھر شہریوں کو ‘ڈائریکٹ کیش ٹرانسفر’ (براہِ راست نقد امداد) فراہم کرنے پر بھرپور زور دیا گیا ہے۔ وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی نے ریاست کی ہمہ جہت ترقی کے لیے عوام سے جو 10 وعدے کیے ہیں، انہیں ’’بنگلار جونو دیدی کے 10 پرتیگیا‘‘ (بنگال کے لیے دیدی کے 10 وعدے) کا نام دیا گیا ہے۔

ترنمول کانگریس کا گذشتہ 15 سالہ دورِ اقتدار بنیادی طور پر فلاحی اسکیموں اور بنگالی ثقافت کے تحفظ پر مرکوز رہا ہے۔ تاہم، ناقدین کا کہنا ہے کہ حکومت نے اقلیتوں کے لیے کوئی ٹھوس اقدامات کرنے کے بجائے محض ‘اقلیت نواز’ ہونے کا لیبل سجائے رکھا ہے۔

ممتا بنرجی کے 10 بڑے انتخابی وعدے درج ذیل ہیں:

1. لکشمی در جُوی، سوانیر بھرتا اکشے: حکومت کی مقبول ‘لکشمی بھنڈار اسکیم’ کے تحت دی جانے والی ماہانہ امداد میں 500 روپے کا اضافہ کیا جائے گا۔ اس اضافے کے بعد جنرل کیٹیگری کی خواتین کو 1500 روپے اور ایس سی/ایس ٹی طبقات کی خواتین کو 1700 روپے ماہانہ ملیں گے۔ (یہ اسکیم 25 سے 60 سال کی خواتین کے لیے ہے)۔

2. یوبادر پاشے، جیب کر آسواسے: بے روزگار نوجوانوں کے لیے ‘بنگلار یوبا ساتھی اسکیم’ کے تحت 1500 روپے ماہانہ مالی امداد دی جائے گی۔

3. زرعی خود کفالت: کسان خاندانوں کو مسلسل امداد اور بے زمین کسانوں کی مالی مدد کے لیے 30,000 کروڑ روپے کا مجموعی زرعی بجٹ مختص کیا جائے گا۔

4. نشچت بساس تھان، چنتار آباشان: ریاست کے ہر خاندان کے لیے پکے گھر کی فراہمی یقینی بنائی جائے گی۔

5. گھرے گھرے نل، پریشرتو پانیو جل: ‘نل سے جل’ مشن کے تحت ہر گھر تک پائپ کے ذریعے پینے کے صاف پانی کی رسائی۔

6. دوارے چکتسا: ہر بلاک اور ٹاؤن میں سالانہ ‘دوارے چکتسا’ (دہلیز پر علاج) کیمپس کے ذریعے صحت کی سہولیات فراہم کی جائیں گی۔

7. شکشائی سمپاد، بھویشیت نرپاد:’بنگلار شکشایتن اسکیم’ کے تحت تمام سرکاری اسکولوں کے بنیادی ڈھانچے (انفراسٹرکچر) کو جدید بنایا جائے گا۔

8. تجارتی مرکز: عالمی معیار کی لاجسٹکس، بندرگاہوں اور جدید ‘گلوبل ٹریڈ سینٹر’ کے قیام کے ذریعے بنگال کو مشرقی بھارت کے تجارتی گیٹ وے کے طور پر تیار کرنا۔

9. پرابینڈر پاشے، جوتنیر آسواسے:تمام مستحق عمر رسیدہ افراد کو بلا تعطل بڑھاپا پنشن کی فراہمی اور اس دائرہ کار کو تمام اہل شہریوں تک پھیلانا۔

10. پراشاسنک سبیدھائے، نوتن دگنتا: انتظامی سہولت کے لیے 7 نئے اضلاع کا قیام اور شہری بلدیاتی اداروں (Urban Local Bodies) کی تعداد میں اضافہ۔

حکومت کی کامیابیوں کا تذکرہ کرتے ہوئے ممتا بنرجی نے کہا کہ مغربی بنگال اب ملک کی ترقی کا انجن بن چکا ہے۔ ہم ملک کی چھٹی بڑی معیشت ہیں اور ہماری شرحِ نمو ‘ڈبل ڈیجیٹ’ میں ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ 1.72 کروڑ افراد کو غربت سے نکالا گیا ہے اور ریاست میں بے روزگاری میں 40 فیصد کمی آئی ہے، جبکہ دو کروڑ نئے روزگار کے مواقع پیدا کیے گئے ہیں۔

ترنمول کانگریس کے ایک سینئر لیڈر کا کہنا ہے کہ ڈائریکٹ کیش بینیفٹ اسکیمیں ہماری پارٹی کی پہچان (USP) ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ “جس طرح لکشمی بھنڈار اسکیم نے گزشتہ انتخابات میں کامیابی میں کلیدی کردار ادا کیا، اس بار ‘یوبا ساتھی اسکیم’ گیم چینجر ثابت ہوگی، جس میں 84 لاکھ نوجوان پہلے ہی رجسٹرڈ ہو چکے ہیں۔”

دوسری جانب، ان فلاحی اسکیموں کے مالی بوجھ پر سوالات بھی اٹھ رہے ہیں۔ حالیہ بجٹ میں لکشمی بھنڈار، کنیا شری اور روپا شری جیسی اسکیموں کے لیے فنڈز بڑھانے کی خاطر مڈ ڈے میل، اقلیتی امور، مدرسہ تعلیم، اسکالرشپس اور سماگرا شکشا ابھیان جیسے اہم شعبوں کے بجٹ میں کٹوتی کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ پبلک ہیلتھ اور لائبریری سروسز جیسے محکموں کے فنڈز بھی کم کیے گئے ہیں۔

اقتصادی ماہرین کے مطابق، ریاست کے سماجی شعبے کے اخراجات کل بجٹ کا 52 فیصد تک پہنچ گئے ہیں، جبکہ ریاست پر قرض کا بوجھ 8 لاکھ کروڑ روپے سے تجاوز کر چکا ہے۔ ان اسکیموں کو جاری رکھنے کے لیے حکومت کو مزید ایک لاکھ کروڑ روپے کا قرض لینا پڑا۔ کیگ (CAG) کی رپورٹ کے مطابق، مغربی بنگال پر قرض اور جی ڈی پی کا تناسب اگرچہ 40.9 فیصد سے کم ہو کر 37.98 فیصد پر آگیا ہے، لیکن یہ اب بھی ایف آر بی ایم (FRBM) ایکٹ کے 20 فیصد کے ہدف سے کہیں زیادہ ہے۔ بھاری قرضوں کی وجہ سے ریاست کو سود کی مد میں ملک میں سب سے زیادہ ادائیگیاں کرنی پڑ رہی ہیں۔

اسی مالی دباؤ کے پیشِ نظر، گزشتہ سال حکومت نے 1993 سے جاری تمام صنعتی مراعات (Industrial Incentives) کو منسوخ کر دیا تھا، تاکہ فلاحی اسکیموں کے لیے رقم فراہم کی جا سکے۔

متعلقہ خبریں

تازہ ترین